خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو بابا سپیشلتیرے نام کے سارے شعر
اردو بابا سپیشلاردو تقریباتشاہد نسیم چوہدری

تیرے نام کے سارے شعر

از سائیٹ ایڈمن نومبر 26, 2025
از سائیٹ ایڈمن نومبر 26, 2025 0 تبصرے 64 مناظر
65

shahid naseem chaudhry

تیرے نام کے سارے شعر _ سات سمندر پار شکاگو میں طاہرہ ردا کے شعری مجموعے کی تقریب رونمائی

شکاگو میں اُردو محبت کی وہ شام جسے تاریخ یاد رکھے گی سات سمندر پار امریکہ کی ریاست شکاگو میں پروفیسر مسرور قریشی کی شاندار میزبانی اور طاہرہ ردا کے شعری سفر کا روشن سنگِ میل : شکاگو، جسے دنیا کاروبار و صنعت کا مرکز سمجھتی ہے، 24 نومبر کی اس شام جب ادب کے رنگ اپنے اندر سمیٹے کھڑا تھا تو یہ شہر کسی علم و شعر کے دربار سے کم محسوس نہیں ہوتا تھا۔ عالمی دبستان ادب شکاگو اور شکاگو شناسی فورم کے زیرِ اہتمام ہونے والی اس تقریبِ رونمائی کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے لفظوں کی بارات سجی ہو، اور اس بارات کی دلہن طاہرہ ردا اپنی پہلی کتاب “تیرے نام کے سارے شعر” کے ہاتھوں آج باقاعدہ ادب کی دنیا میں اتری ہوں۔
یہ صرف کتاب کی رونمائی نہیں تھی، بلکہ محبت، تخلیق، تہذیب اور اُردو کے دیرینہ وقار کی تجدید تھی۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس تقریب کی روحِ رواں تھے پروفیسر مسرور قریشی—وہ شخصیت جنہوں نے اس شام کو ایک عام ادبی تقریب سے اٹھا کر ایک تاریخی لمحے میں بدل دیا۔
*پروفیسر مسرور قریشی — شکاگو میں اردو تہذیب کے سچے سفیر*
تقریب کے دروازوں سے داخل ہونے والا ہر شخص یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا کہ اس شام کا اصل حسن صرف طاہرہ ردا کی کتاب نہیں تھی، بلکہ وہ محبت بھری فضا تھی جو پروفیسر مسرور قریشی نے اپنی شخصیت سے پیدا کی۔ان کی استقبالیہ مسکراہٹ، حاضرین کے لیے احترام، اور طاہرہ ردا کے لیے ان کا شفقت بھرا انداز—سب نے مل کر اس محفل کو ایسی گرمائش دی کہ لوگ کہتے نہ تھکتے:“یہی محبت ہمیں الیناۓ سے یہاں تک کھینچ لائی ہے۔”
پروفیسر صاحب نے نہ صرف نظامت کی بلکہ آغاز ہی میں ایک مربوط، سیر حاصل، ادبی مضمون کے ذریعے طاہرہ ردا کے شعری سفر کو اس طرح پیش کیا کہ حاضرین ایک لمحے کے لیے بھی اپنی نشستوں سے ہلے نہیں۔
ان کے انداز میں تحقیق بھی تھی، محبت بھی، اور ایک استاد کا وقار بھی۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ
اگر طاہرہ ردا اس تقریب کا عنوان تھیں، تو پروفیسر مسرور قریشی اس کے مرکزی معمار۔
*طاہرہ ردا — شکاگو کی ادبی دنیا کا روشن ستارہ*
اس تقریب کی اصل وجہ، اصل مرکز، اصل جذبہ—بلاشبہ طاہرہ ردا کی ذات تھی۔
شکاگو کی یہ معروف شاعرہ، اینکر، اور سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ برسوں سے تخلیق کے سنگ سفر کرتی آئی ہیں، مگر کتاب کی شکل میں اپنے شعور اور احساسات کو پیش کرنا ان کا خواب تھا، جو آج حقیقت بن کر سامنے آیا۔
جب انہی کے ہاتھوں کتاب کا عنوان پڑھ کر سنایا گیا:
“تیرے نام کے سارے شعر”
تو حاضرین نے اس عنوان میں وہ محبت، وہ نرمی اور وہ احساس محسوس کیا جو طاہرہ ردا کی شخصیت کا اصل جوہر ہے۔پاکستان سے لے کر امریکہ کے مختلف ریاستوں تک پھیلے ہوئے قارئین کی محبت اس دن واضح نظر آئی۔ درجنوں گلدستے، تحائف، محبت بھری تحسین، اور چاہنے والوں کی بھرپور شرکت—سب اس بات کا اعلان تھے کہ
طاہرہ ردا نے شکاگو کی ادبی فضا میں اپنی انفرادیت ثابت کر دی ہے۔
*عباس تابش — سفیرِ عشق کا وقار، اور کتاب کی تقدیس*
شام کا سب سے جگمگاتا لمحہ وہ تھا جب عالمی شہرت یافتہ شاعر عباس تابش نے اس کتاب کی رونمائی کی۔
ان کی آمد ہی تقریب کو وقار بخشنے کے لیے کافی تھی، مگر جب انہوں نے کہا:“یہ کتاب صرف طاہرہ ردا کی نہیں، بلکہ ان تمام لوگوں کی ہے جو اُردو سے محبت کرتے ہیں۔”
و ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ہوں نے نہ صرف کتاب کی طباعت کے مراحل بیان کیے بلکہ عشق آباد پبلیکیشن کی جانب سے اسے شائع کرنا اپنے لیے اعزاز قرار دیا۔
ان کا یہ کہنا کہہرہ ردا کے اشعار میں محبت کی وہ سچائی ہے جسے لفظtahira rida کبھی دھوکہ نہیں دے سکتے”۔ود شاعرہ کے لیے کسی ایوارڈ سے کم نہ تھا۔
— *شعراء وادباء کی شرکت محبت کی وہ لڑی جس نے فاصلے مٹا دیے*
اس تقریب کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ کے مختلف ریاستوں سے شعراء و ادباء طویل مسافت طے کر کے یہاں پہنچے۔
اوہایو، میری لینڈ، آئیوا، اوہانیو، انڈیانا—ہر طرف سے محبت کے سفیر اس محفل کی رونق بنے:
ڈاکٹر سعید پاشا ،مونا شہاب ،ڈاکٹر افضال الرحمن افسر ،ڈاکٹر توفیق انصاری احمد ،عابد رشید ،امین حیدر ،حمیرہ عقیل ،ریاض نیازی اور کئی دیگر معتبر نام ،ہر ایک نے طاہرہ ردا کی شاعری پر اپنے احساسات نہایت مدلل انداز میں پیش کیے، اور ان سب میں ایک بات مشترک تھی:
“طاہرہ ردا کا شعری سفر ابھی شروع ہوا ہے—مگر روشنی اس میں ابھی سے نظر آ رہی ہے۔”
*پروفیسر مسرور قریشی کی طرف سے خصوصی اعزاز*
تقریب کا دل نشین ترین لمحہ وہ تھا جب پروفیسر مسرور قریشی نے طاہرہ ردا کو ان کے اشعار کے ساتھ ایک خوبصورت پورٹریٹ پیش کیا۔یہ صرف ایک تحفہ نہیں تھا بلکہ محبت، احترام اور تخلیقی رفاقت کا اظہار تھا۔پورے ہال نے کھڑے ہو کر تالیوں سے اس منظر کو سراہا۔
*نشانِ سپاس — اعزاز کا لمحہ*
محمد مجید اللہ خان نے عالمی مرکزی ادبیاتِ اردو کی جانب سےعباس تابش اورطاہرہ رداکو نشانِ سپاس پیش کیا۔
یہ وہ لمحہ تھا جب محبت، محنت اور فن—تینوں اقدار ایک ساتھ مسکرا رہی تھیں۔
شاعری، گفتگو اور محبت کا امتزاج
محفل میں شعری اظہار کے ساتھ ساتھ حاضرین نے ایک ایک جملے کو دلtahira rida سے محسوس کیا۔نون جاوید نے شعری ہدیہ پیش کیا، اور طاہرہ ردا نے اپنے تخلیقی سفر کے بارے میں بھرپور، جذباتی اور محبت بھری گفتگو کی۔ان کے پڑھتے ہی ہال محبت سے بھر گیا۔
کیک کاٹا گیا—پھولوں کی بارش—تہنیتی تحائف
جیسے ہی کتاب کے ٹائٹل کے ساتھ کیک کاٹا گیا، ماحول جشن میں بدل گیا۔پھولوں کے ڈھیر، تحائف کی بارش، اور تصویروں کی بے شمار یادیں—یہ سب اس شام کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنا گئے۔
شاندار انتظامات — ادبی محبت کی مثال
مظہر عالم، اشرف خان، منظر عالم، محمد مجید اللہ خان، محمد حسین، شاہد خان اور دیگر ساتھیوں نے اس تقریب کو اس قدر منظم کیا کہ حاضرین تعریف کیے بغیر رہ نہ سکے۔
مہمان خصوصی فرحت خان کی موجودگی نے بھی تقریب کو صحافتی وقار بخشا۔
ظہرانے کا اہتمام، چائے اور لوازمات، اور ادبی ماحول—یہ سب مل کر شکاگو میں اردو کی محبت کا وہ حسین نقش بنا گئے جو برسوں یاد رکھا جائے گا۔
*شکاگو کی تہذیبی یادگار — ایک ادبی عہد کی بنیاد*
شرکاء نے متفقہ طور پر کہا:
“شکاگو لینڈ میں اس سے بڑی، منظم، محبت بھری اور ادبی اعتبار سے گہری تقریب پہلے کم ہی دیکھی گئی ہے۔”
یہ محض ایک تقریب نہیں تھی، یہ اس بات کا اعلان تھی کہ اگر محبت ہو، اگرtahira rida ادب کا جذبہ ہو، اگر لوگ خلوص سے مل بیٹھیں—تو دیارِ غیر میں بھی اردو اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔
لفظوں کا سفر جاری ہے
طاہرہ ردا کی کتاب “تیرے نام کے سارے شعر” نہ صرف ان کے تخلیقی سفر کا آغاز ہے، بلکہ شکاگو کے ادبی منظرنامے میں ایک نیا باب بھی ہے۔
پروفیسر مسرور قریشی کی محبت، دانشوری اور تنظیمی صلاحیت نے اس تقریب کو اس معیار تک پہنچایا جس کی مثال کم ملتی ہے۔
یہ وہ شام تھی جو گزر تو گئی،
مگر اپنے پیچھے محبت، تہذیب اور شعر کی خوشبو ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئی۔

شاہد نسیم چوہدری

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ایف 7/2 کالج اسلام آباد فار وومن
  • انٹرویو شہزاد نیّرؔ
  • انور مسعود
  • برفاب
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
جانشینی سرٹیفیکیٹ
پچھلی پوسٹ
فیلڈ مارشل کا وژن

متعلقہ پوسٹس

اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ

فروری 27, 2025

وجد

اپریل 16, 2023

کدّو کے چھلکے کے کباب

جون 11, 2024

محسن نقوی کوئز

جولائی 13, 2025

ن م راشدؔ

فروری 21, 2025

توازن اردو ادب پروگرام نمبر51

اپریل 25, 2020

کل پاکستان مشاعرہ – پاک برٹش آرٹس+ یارانِ سُخن

جنوری 20, 2020

غلام عبّاس

دسمبر 6, 2019

جہان باقی

نومبر 27, 2022

فیض احمد فیض کوئز

دسمبر 5, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

"انسانیت سب سے بڑی عبادت ہے

ستمبر 22, 2025

کدّو کے چھلکے کے کباب

جون 11, 2024

رومن اردو سے انگریزی لغت

مئی 20, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں