117
ریزہ ریزہ خواب نہ ہوتے
اشکوں کے گرداب نہ ہوتے
دل کا شیشہ ٹوٹ نہ پاتا
گر لہجے مضراب نہ ہوتے
سکھ کی منزل پاس کھڑی تھی
دکھ کے جو اسباب نہ ہوتے
جینا مشکل ہو جاتا جو
مرنے کے آداب نہ ہوتے
تحریریں بے کیف ہی رہتیں
چاہت کے گر باب نہ ہوتے
ثمر راحت ثمر
