خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابانہ سنوائی، نہ تحفظ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

نہ سنوائی، نہ تحفظ

از سائیٹ ایڈمن اگست 15, 2025
از سائیٹ ایڈمن اگست 15, 2025 0 تبصرے 44 مناظر
45

ہمارا معاشرہ جس تیزی سے اخلاقی زوال کا شکار ہو رہا ہے، اس کا سب سے مہلک وار ہماری آئندہ نسلوں پر ہو رہا ہے۔ وہ بچے جو ابھی زندگی کے مفہوم کو سمجھنے کے ابتدائی مرحلے میں ہیں، وہ بچیاں جن کے چہروں پر حیا اور معصومیت کے رنگ جھلکتے ہیں، ان پر وہ ظلم ہو رہا ہے جس کا تصور بھی کلیجہ چیر دیتا ہے۔ ہر روز کہیں نہ کہیں ایک درندہ، انسان کے چہرے میں چھپا، کسی معصوم کا بچپن روند رہا ہوتا ہے۔

یہ کوئی خیالی کہانی نہیں، یہ وہ زمینی حقیقت ہے جو ہمارے اسکولوں، مدرسوں، گلیوں، گھروں اور حتیٰ کہ عبادت گاہوں میں سرایت کر چکی ہے۔ اور بدقسمتی سے ہم میں سے اکثر اسے ”بدنامی“ کے ڈر سے چھپاتے ہیں، خاموشی اختیار کرتے ہیں یا بے حسی سے گزر جاتے ہیں۔ مگر خاموشی اب جرم بن چکی ہے، اور اس جرم کا خمیازہ بچے بھگت رہے ہیں۔

معاشرتی زوال کی سب سے تکلیف دہ شکل وہ ہوتی ہے جب درندے تعلیم، دین، قرابت یا اعتماد کے نقاب میں گھس آتے ہیں۔ کبھی وہ اسکول کے استاد ہوتے ہیں، کبھی قاری صاحب، کبھی محلے کا دکاندار یا کبھی گھر کا ملازم۔ ایسے لوگ نہ صرف بچوں کا جسمانی استحصال کرتے ہیں بلکہ ان کا ذہنی، جذباتی اور روحانی قتل بھی کرتے ہیں۔ اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ان کا جرم اکثر خاندان کے اندر، معاشرتی خاموشی کی چادر اوڑھ کر دفن کر دیا جاتا ہے۔

ایسے حالات میں والدین کی ذمہ داری محض بچوں کو کھانا، کپڑا اور تعلیم دینا نہیں بلکہ انہیں تحفظ کا شعور دینا بھی ہے۔ بچوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ اگر کوئی انہیں کسی اکیلی جگہ لے جانا چاہے تو وہ صاف انکار کر دیں۔ انہیں سکھائیں کہ ان کا جسم ان کا حق ہے، کوئی بھی، چاہے جتنا قریبی کیوں نہ ہو، اگر انہیں چھونے کی کوشش کرے تو وہ غلط ہے۔ بچوں کو یہ احساس دیا جائے کہ وہ کسی بھی مشکوک رویے پر آواز بلند کر سکتے ہیں۔

بچوں کو اپنی حفاظت کے لیے کچھ بنیادی اصول یاد ہونے چاہئیں۔ جیسے کہ کسی اجنبی سے کھانے پینے کی چیز نہ لیں، کوئی شخص اگر یہ کہے کہ تمہارے والد بلا رہے ہیں تو کہیں کہ والد خود آ جائیں، کسی بھی بڑے یا استاد کی دھمکی، جیسے کہ ”تم جہنم میں جاؤ گے“ یا ”فیل کر دوں گا“ کو اپنے والدین کے ساتھ فوراً شیئر کریں۔ اور سب سے اہم بات، اگر خدانخواستہ کوئی ان کا استحصال کرے اور وہ یہ کہے کہ ”اگر گھر میں بتایا تو جان سے مار دوں گا“ تو بچے اُس لمحے خاموش رہیں، لیکن جیسے ہی موقع ملے اپنے والدین کو اعتماد میں لیں۔

یہی اعتماد اصل میں سب سے بڑی ڈھال ہے۔ اگر بچے والدین کے سامنے خود کو محفوظ محسوس کریں گے تو وہ ہر بات بلا جھجک بتائیں گے۔ لیکن اگر والدین خود فاصلے پیدا کریں، بچے کی بات کو نظرانداز کریں، اسے شرمندہ کریں یا اس پر غصہ کریں تو وہ بچہ کسی سانحے کے بعد بھی خاموش ہی رہے گا، اور مجرم کی طاقت بڑھتی جائے گی۔

یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ خطرہ صرف اجنبیوں سے نہیں ہوتا، بلکہ قریبی جان پہچان والے لوگ بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ گھر کے ملازمین، رشتہ دار، یا وہ لوگ جنہیں ہم ”اپنا“ سمجھتے ہیں، اکثر معصوم بچوں پر بری نظر رکھتے ہیں۔ ایسے میں والدین کو صرف محبت کافی نہیں، چوکسی بھی لازم ہے۔

آج کے دور میں صرف جسمانی حملہ ہی نہیں بلکہ ڈیجیٹل استحصال بھی بڑھ چکا ہے۔ بچے یوٹیوب، گیمز، انسٹاگرام، فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پر مجرموں کے نشانے پر آ سکتے ہیں۔ والدین کو نہ صرف بچوں کے آن لائن معمولات پر نظر رکھنی چاہیے بلکہ ان کے ساتھ ایسا تعلق قائم کرنا چاہیے کہ بچہ کسی بھی عجیب پیغام یا ویڈیو کو فوراً شیئر کرے، بغیر کسی خوف کے۔

یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ دیہی علاقوں میں یہ خطرہ کئی گنا زیادہ ہے۔ وہاں شرم، غیرت، اور سادگی کی چادروں میں اکثر ایسے واقعات دبا دیے جاتے ہیں۔ دیہات کی بچیاں اکثر دکانوں، مدرسوں یا کسی خالہ، پھوپھی کے گھر تنہا جاتی ہیں جہاں ان کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ لہٰذا والدین کو ایسے معاشرتی رویوں پر نظرثانی کرنی چاہیے، اور بیٹیوں کو بھی اتنی خوداعتمادی دینی چاہیے کہ وہ ہر لمحے اپنی حفاظت کو مقدم رکھیں۔

آخری بات یہ ہے کہ بچوں کو خاموش رہنے کی نہیں، بولنے کی تربیت دیں۔ انہیں یہ یقین دلائیں کہ اگر ان کے ساتھ کوئی ظلم ہوا تو وہ قصوروار نہیں، بلکہ قصوروار وہ ہے جو ظلم کرتا ہے۔ انہیں یہ اعتماد دیں کہ ان کے والدین ہر حال میں ان کے ساتھ ہوں گے۔

اگر آج ہم نے بچوں کی تربیت صرف نصابی کتب اور رٹے تک محدود رکھی، تو کل ہمیں ایسی خبریں پڑھنی پڑیں گی جو شاید صرف خبروں تک محدود نہ ہوں بلکہ ہمارے اپنے گھروں کی داستان ہوں۔ اور پھر ہم صرف پچھتا سکیں گے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہتّک
  • گرے بلیک لسٹ کی دلدل اور پاکستان
  • کچھ تو نکلیں گی راز کی باتیں
  • پیکاسو کی بیوہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کرنل حبیب ظاہر کا غیاب
پچھلی پوسٹ
تعلیمی نظام کہاں جا رہا ہے؟

متعلقہ پوسٹس

باغ میں تُو اگر نہیں آتا

مئی 28, 2020

نہ غموں کو تازہ بنا

جولائی 6, 2025

سندھی ثقافتی دن

نومبر 28, 2024

بروٹس سے میر جعفر تک

اکتوبر 2, 2020

موجد شاعری شاہ شمس ولی اللہ

جنوری 16, 2026

گردش کے انتخاب کی حالت میں مرگیا

دسمبر 15, 2019

چھٹیوں کے بغیر محبت

جنوری 27, 2025

بوجھ بجھاری

دسمبر 27, 2020

فضول بحث۔۔۔خطرۂ ایمان

ستمبر 17, 2020

نسوانیت کا عکس

دسمبر 25, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تم نے تو جان مار لی

مئی 9, 2025

پڑھے کلمہ

جنوری 24, 2020

شمعِ اَخْلَاقِيَّت کا اجالا

جنوری 27, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں