100
اس نے ہم کو آج بلایا ہم بھی خواب سے جاگ پڑے
سندر تھی آواز کہ جیسے کان میں کوئی راگ پڑے
عشق نہ پوچھو جان کے پیچھے کوئی جیسے ناگ پڑے
کیسے کیسے پاپڑ بیلے کیا کیا ہم کو لاگ پڑے
میں تو کب کا بھانپ چکا تھا تیری آمد خیر نہیں
صبح سویرے لڑنے جب اِک دوجے کو کچھ کاگ پڑے
کیسے ہجر نبھاۓ جس میں دم ہی کم ہو وحشت کا
کاہل کے سر پر کیسے عزت والی پاگ پڑے
تو نے مجھ کو جاھل کہہ کر اپنا آپ بگاڑا ہے
جسم ڈبوۓ دریا تیرا ، منہ میں تیرے آگ پڑے
ہر دوجے بندے میں وہ جو عیب تلاشا کرتا تھا
دیکھ لو اس کی صورت بگڑی منہ پر کتنے داگ پڑے
سارے شور شرابوں سے حاضر یوں چھپ کر بیٹھ گیا
اب کوئی بھی پاس نہ آئے چاہے جتنی تیاگ پڑے
حاضر تجھ کو کیا بتاؤں دل کی اس بیماری کا
سارے تن میں شعلہ بھڑکے تن میں جیسے آگ پڑے
احمد رضا حاضر
