خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرموازنہ انیس و دبیر
اردو تحاریرتحقیق و تنقیدمقالات و مضامین

موازنہ انیس و دبیر

از سائیٹ ایڈمن اپریل 13, 2025
از سائیٹ ایڈمن اپریل 13, 2025 0 تبصرے 54 مناظر
55

میر انیس کا نام آتے ہی میرزا دبیر کا نام خود بخود ذہن میں ابھر آتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مرثیہ گو شعراءمیں صرف مرزا دبیر ہی ان کے ہم رتبہ کہے جا سکتے ہیں۔ معاصر کی حیثیت سے جتنے طویل عرصے تک یہ دونوں سایہ کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ رہے شائد ہی دوسرے ہم عصر شاعر ساتھ رہے ہوں۔ ان کی زندگی اور فن دونوں میں عجیب طرح کی مماثلت ہے۔ دونوں کی تاریخ پیدائش اور وفات تقریباً ایک ہی ہے۔ عمریں بھی دونوں نے تقریباً بر ابر کی پائیں۔ میرانیس کے استاد میر خلیق اور دبیر کے استاد میر ضمیر بھی ہم عصر و ہم عمر تھے ۔
دونوں کو اہل بیت سے خاص لگائو اور فن مرثیہ نگاری سے خاص دلچسپی تھی۔ دونوں نے اپنے ماحول کی مقبول ترین صنف کو چھوڑ کر مرثیہ کی طرف توجہ کی ۔ دونوں نے اپنے دائرہ شاعری کو سلام، رباعیdabeer and aness اور مرثیہ تک محدود رکھا۔ دونوں نے اس شاعرانہ فضاءمیں ترتیب پائی اور پروان چڑھے جو دہلی کی مدمقابل بن کر دبستان لکھنو کے نام سے وجود میں آئی ۔ دونوں مجالس عزا میں خاص اہتمام سے شریک ہوتے تھے اور دونوں کا انداز مرثیہ خوانی حاضرین مجلس کی توجہ کا مرکز بنتا تھا۔ دونوں نے اپنے اپنے عقیدت مندوں اور شاگردوں کے بڑے گروہ پیدا کر لئے تھے اور لکھنو کی فضائے شاعرانہ ان کے اور ان کے شاگردوں کی معاصرانہ چھیڑ چھاڑ کے سبب آباد اور پر رونق رہی ۔ میر انیس نے دبیر سے صرف ایک سال پہلے جہانِ فانی کو خیر آباد کہا۔ ان کی وفات پر بہت سے شاعروں نے قطعات تاریخ کہے لیکن مشہور تو دبیر کا کہا ہواقطعہ اپنی مثال آپ ہے۔ وہ قطعہ تاریخ جس کا مصرعہ ہے۔
طور سینا بے کلیم اللہ و منبر بے انیس
ایسی صور ت میں یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی جگہ ان میں سے ایک کا ذکر آئے اور دوسرے کا نام نہ لیا جائے۔ قدیم تذکرہ نگاروں سے لے کر آج تک کے ناقدین میں سے شائد ہی کوئی ایسا ہوجس نے مرثیہ نگاری پر کچھ لکھا ہوا اور ان دونوں کا ذکر ساتھ ساتھ نہ کیا ہو۔ لیکن ان کی معاصرانہ چشمک اور ان کے شاگردوں کی ادبی معرکہ آرائیوں کا ذکر ہر جگہ ملتا ہے۔
شبلی کی موازنہ انیس و دبیر:۔
مولانا شبلی نعمانی کے جادو نگار قلم نے ”موازنہ انیس دبیر“ کے ذریعے میرانیس اور مرزا دبیر کے درمیان ایسی حدفاضل قائم کر دی کہ ہمارے علمی ادبی حلقوں میں میرانیس کو مرزا دبیر سے بہتر مرثیہ نگار سمجھا جانے لگا۔ اوریہی مولانا شبلی کا مقصود تھا۔ لیکن بعض لوگ شبلی کے طرز تنقید سے مطمئن نہ ہوئے ان کے خیال میں شبلی نے موازنہ انیس و دبیر میں دبیر کے ساتھ ذیادتی کی ہے اور ان کا پلہ نیچا کرنے کے لئے ڈھونڈ ڈھونڈ کر میرانیس کی خوبیاں اور ان کی خامیاں گنوائی ہیں۔ چنانچہ شبلی کے جوا ب میں چودھری سید النظیر الحسن نے ایک معرکتہ آرا کتاب ”المیزان “ کے نام سے شبلی کی زندگی میں شائع کی ۔ اور اس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مرزا دبیر بہ حیثیت مرثیہ نگار میر انیس سے کسی طرح کم نہیں ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ نظیر الحسن نے کلام دبیر کے بہت سے ایسے محاسن ہمیشہ کے لئے اجاگر کر دئیے جو مولانا شبلی کے اثر سے دب گئے تھے۔ لیکن ان کی کتاب موازنہ کا جواب نہ دے سکی۔

موازنہ:۔
میرانیس اور مرزا دبیر صاحب کمال مرثیہ گو ، ہم عصر شعراءاپنے اپنے میدان ِ میں لاجواب ہیں۔ البتہ مولانا شبلی نے ”موازنہ انیس دیبر“ میں میر انیس کی حمایت کی ہے۔ درحقیقت اگر میر انیس اپنی سادگی، سلاست اور بے مثل جذبات نگاری کی وجہ سے مشہور ہیں تو شوکت ِالفاط ، مضمون کی بلندی اور خوبی ادا میں مرزا دبیر بھی لاجواب ہیں۔
مرزا دبیر کے کلام کا خاص جوہر زور بیان ، شوکت الفاظ ، بلندی ، تخیل اور صنائع کا استعمال ہے۔ گریہ انگیر غلط روایات انہوں نے میر انیس سے بہت زیادہ نظم کی ہیں۔ لیکن واقعہ نگاری میں ربط و تسلسل اور مضمون کی پیوستگی جو انیس کا خاصہ ہے۔ مرزا دبیرکے ہاں نہیں ہے۔ کردار نگاری کی نزاکت، بلاغت کے تقاضے ، تصویر کا حسن اور واقعات و جذبات کے وہ مرقعے جو میرانیس نے بظاہر کافی احتیاط اور بے ساختگی سے پیش کئے ہیں مرزا دبیر سے ممکن نہیں ہو سکے ۔ لیکن جہاں تک خیالات کی بلند پروازی علمی اصطلاحات ، عربی فقروں کی تضمین اور ایجاد مضامین میں ان کا فن خوب چمکا ہے۔ اور یہ ان ہی کا خاصہ ہے کہ وہ ہر واقعہ کو بیان کرنے میں تشبیہ اور استعارے اور تلمیح و صنائع کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ جس سے اشعار کی شان و شوکت بڑھ جاتی ہے۔
مرزا دبیر کے ہاں مناظر کی تصویر کشی میں اصلیت کا کافی رنگ ملتا ہے ۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں وہ میر انیس کے ہم پلہ ہوتے ہیں ۔ ان مناظر کی تصاویر کے علاوہ دبیر نے تلوار اور گھوڑے کی تعریف میں بھی پرواز خیال اور ایجاز مضامین کا بہت ثبوت دیا ہے ۔ جس سے ان کی طبیعت میں خلاقی کا عنصر غالب تھا۔
مرزا دبیر نے مرثیہ کا صرف ایک جزو یعنی مناظر فطرت ہر جگہ معیار سے پست لکھا ہے اور میر انیس کے مقابلے میں نہایت ادنیٰ اور بالکل بے لطف اس کے علاوہ روزمرہ و محاورہ صنائع لفظی و معنوی، استعارہ وتشبیہ ، جذبات و احساسات ، حقائق و واقعات اور لوازم و رزم فصیح و بلیغ بھی لکھے ہیں اور غلط اور بے محل بھی۔ اعلیٰ اور ادنیٰ بھی۔ پر اثر بھی اور بے تاثیر بھی۔ مرزا دبیر کا کوئی مرثیہ دیکھیے مشکل سے دس بیس بند مسلسل ایسے ملیں گے جو بے عیب ہوں ۔ جن میں کوئی حرف دبتا یا گرتا نہ ہو یا تعقید نہ ہو یا معنی میں پیچیدگی نہ ہو، یا طرز ادا بلاغت کے خلاف نہ ہو یا بے محل شوکت الفاظ نہ ہو۔ یا ناکام خیال آرائی نہ ہو یا بے لطف اثر بیان نہ ہو
دبیر:۔ گرمی دکھائی روشنی طورصبح نے ٹھنڈے چراغ کردئیے کافور صبح نے
انیس:۔ چھپنا وہ ماہتاب کا وہ صبح کا ظہور یاد خدا میں زمزمہ پروازی طیور
دبیر:۔ دریا میں آنکھ بیٹھ گئی ہے حباب کی حدت ہی موج موج میں تیر ِ شہاب کی
انیس:۔ خود نہر عقلمہ کے سوکھے ہوئے تھے لب خیمے جو تھے حبابوں کے تپتے تھے سب کے سب
مرزا دبیر کے کلام میں وہ فصاحت و بلاغت اور شائستگی نہیں جو میر انیس کے کلام میں ہے۔ بعض الفاظ کو مرزا دبیرنے ایسی تراکیب کے ساتھ استعمال کیا ہے کہ ان کی وجہ سے ان میں نہایت ثقل اور بھدا پن پیدا ہو گیا ہے۔ یہاں پر ایک مثال میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ایک ہی لفظ میرانیس اور مرزا دبیر دونوں نے استعمال کیا ہے۔ ھل اتی، انما، قل کفی یہ الفاظ حضرت علی کے فضائل کی تلمیحات ہیں دونوں کا موازنہ ملاحظہ ہو۔
دبیر:۔ اہل عطا میں تاج سر ھل اَ تی ہیں یہ اغیار لاف زن ہیں شہ لافتی ہیں یہ
خورشید انور فلک انما ہیں یہ کافی ہے شرف کہ شہ قل کفی ہیں یہ

انیس:۔ حق نے کیا عطا پہ عطا ھل اتی کسے حاصل ہوا ہے مرتبہ لافتی کسے
کونین میں ملا شرف انما کسے کہتی ہے خلق، بادشہ قل کفی کسے
فصاحت کے بعد بندش کی سستی اور ناہمواری ہے۔ میر انیس اور مرزا دبیر میں اصل جو چیز امتیاز کرتی ہے وہ الفاظ کی ترکیب ، نشست اور بندش کا فرق ہے۔ میرانیس کے کلام میں بندش کی چستی ، ترکیب کی دلآویزی ، الفاظ کا تناسب اور برجستگی و سلاست موجود ہے اوریہی چیزیں مرزا دبیر کے ہاں بہت کم ہیں ۔ ان کے یہاں مصرع میں ایک لفظ نہایت بلند اور شاندار ہے تو دوسرا پست۔ دو تین بند صاف اور سلیس نکل جاتے ہیں پھر تعقید اور بے ربطی شروع ہو جاتی ہے۔
دبیر:۔ اے دبدبہ نظم دو عالم کو ہلا دے اے طنطنہ طبع جزو کل کو ملا دے
اے معجزہ فکر فصاحت کو جلا دے اے زمزمہ نطق بلاغت کا صلہ دے

انیس:۔ بیٹے بھی نہیں گود کا پالا بھی نہیں ہے ان کا تو کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے
مرزا دبیر کے یہاں تشبیہات و استعارات کا بھی خاص جوہر ہے۔ مرزا دبیر اپنی دقت آفرینی سے ایسے عجیب و غریب اور نادر تشبیہات و استعارات پیدا کرتے ہیں کہ کوئی اس کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتا ۔ لیکن وہ اکثر اس قدر بلند اُڑتے ہیں کہ بالکل غائب ہو جاتے ہیں ۔ اس کے مقابلے میں میرانیس کے تشبیہات و استعارات کلام کو حسین بنا دیتے ہیں۔ اور اس میں معنی کی لچک بھی پیدا کرتے ہیں۔
دبیر:۔ شمشیر نے جل تھل جو بھرے قاف تا قاف پریاں ہوئیں مرغابیاں گرداب بنا قاف

انیس:۔وہ گورے گورے جسم قبائیں و تنگ تنگ زیور کی طرح جسم پہ زیبا سلاخ جنگ
میرانیس اور مرزا دبیر میں اصلی امتیاز پیداکرنےوالی چیز خیال بندی اور دقت پسندی ہے۔ اوریہی چیز مرزادبیر کے تاج ِ کمال کا طرہ ہے۔ خیال آفرینی ، دقت پسندی، جدت ، استعارات، اختراع تشبیہات، شاعرانہ استدالال شدت مبالغہ میں ان کا جواب نہیں ۔ لیکن وہ اس زور کو سنبھال نہیں سکے اس وجہ سے کہیں خامی ، کہیں تعقید اور کہیں اغراق ہو جاتا ہے۔ مضمون آفرینی کے سلسلے میں ایک مثال ملاحظہ ہو۔
جب سرنگوں ہوا علم کہکشانِ شب خورشید کے نشاں نے مٹایا نشان ِشب
تیر شہاب سے ہوئی خالی کمان شب تانی نہ پھر شعاع قمر نے سنان شب
ا ئی جو صبح زیور جنگی سنوار کے
شب نے زرہ ستاروں کی رکھدی اتار کے

بلاغت میں میرانیس اور مرزادبیر کی شاعری کی سرحدیں بالکل الگ ہوجاتی ہیں۔ مرزا دبیر کے کلام میں کہیں بھی بلاغت کا وصف نہیں پایا جاتا۔ نوحہ ، غم ، فخر و ادعا، طنز و تشیع ، ہجو و بد گوئی، سوال و جواب ، گلہ شکوہ ، کسی بھی مضمون کومرزا دیبر حالت کے موافق نہیں لکھ سکے۔مثلاً ایک مرثیہ میں امام حسین کی شہادت پر حضرت شہر بانو کا جو نوحہ لکھا ہے اس میں لکھتے ہیں۔
تم جانو جہاں سے شہ عالی کو لے آئو حضرت سے میں گذری میرے والی کو لے آئو
”تم جانو جہاں سے“ اس محاورے کے ابتذال سے قطع نظر کر کے یہ امر کس قدر خلا ف حال ہے کہ کوئی شریف عورت یہ کہے کہ میں اپنے بیٹے سے گزری میر ے شوہر کو جہاں سے ممکن ہو پیدا کرو۔
اس طرح بہت سے مثالیں شبلی بتاتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے مرزا دبیر کی طبیعت میں اصولی بلاغت کا لحاظ نہ تھا۔ ذہن صحیح طور پر متوازن نہ تھا۔ اور مذاق اصلی حد تک سلیم نہ تھا۔ وہ بے محل اور خلاف موقع بات کہہ جاتے ہیں اور ان کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ کیا بات کہی یا کس طرح کہنی چاہیے تھی۔ایک جگہ حضور کی زبان سے مرزا دبیرنے یہ مضمون اد ا کیا ہے۔
محبوب ہوں خدائے ذوی الاحترام کا
نانا ہوں میں حسین علیہ السلام کا
آنحضرت کی زبا ن سے امام صاحب کے لئے ”علیہ السلام“ کا لفظ کس قدر ناموزوں ہے۔ اس طرح ایک اور جگہ میدان کربلا میں ایک مسافر اترتا ہے اورحضرت امام صاحب سے ان کا نام پوچھتا ہے مرزا دبیر کے قول کے مطابق امام صاحب جواب دیتے ہیں
ہمیں حسین علیہ السلام کہتے ہیں
خود اپنے آپ کو علیہ السلام کہنا اور بھی نامناسب ہے۔ اسی موقع پر میرانیس لکھتے ہیں
یہ تو نہ کہہ سکے کہ شہ مشرقین ہوں
مولا نے سرجھکا کے کہا میں حسین ہوں
ایک جگہ مرزا دبیر لکھتے ہیں ۔
”زیر قدم والدہ فردوس بریں ہے“
یہ ترکیب فنی نفسہہ کچھ خوبصورت اور لطیف و نازک نہیں لیکن میر انیس کے اس مصرع کے سامنے بہت بھدی ہو جاتی ہے۔
”کہتے ہیں ماں کے پائوں کے نیچے بہشت ہے“
ڈاکٹر ابواللیث صدیقی فرماتے ہیں کہ،
” انیس و دبیر کی شاعری میں دہلی اور لکھنو کے رنگ کا فرق ہے۔“
مجموعی جائزہ:۔
مولانا شبلی نعمانی نے ”موازنہ انیس و دبیر “ میں مرزا دبیر پر میر انیس کو ترجیح دی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ مرزا دبیر کا کلا م قابل توجہ نہیں ، مرزا صاحب بھی صفِ اول کے شاعر اور ایک بلند پایہ استاد فن ہیں ان کا رنگ میرانیس کے رنگ سے جدا ہے اور ایسی انفرادیت رکھتا ہے جس کی مثال اردو مرثیہ کی تاریخ میں نظر نہیں آتی۔ دراصل دو دبستان شروع ہی سے ساتھ چل رہے ہیں ایک کی نظر صرف زبان کی سادگی اور جذبے کی نرم روی پر رہتی ہے۔ دوسرا نگین بیانی اور خروش الفاظ پر جان چھڑکتا ہے۔ دونوں کی الگ الگ حیثیت و اہمیت ہے ان میں سے کوئی اسلوب غیر ادبی یا غیر شاعرانہ نہیں ہے۔ خارجی حالات بدلتے ہیں تو ہماری داخلی دنیا بھی بدل جاتی ہے۔ پسندیدگی و ناپسندیدگی کے معیار کچھ سے کچھ ہو جاتے ہیں ایک زمانہ تھا کہ صناعی سب کچھ تھی ۔ سادگی معیوب تھی آج سادگی سب کچھ ہے صناع نا مقبول ہے۔ لیکن پھر بھی بقول سید فیاض محمودکہ
” اثراندازی کی بناءپر میر انیس کا پلہ دبیر پر بھاری ہے۔“

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پیرس کا آدمی
  • پاکستان کی قوت اور عالمی وقار کا سفر
  • کس کی نظر لگی آشیانے کومیرے
  • اچھے دن آنے والے ہیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ذوق کی قصیدہ نگاری
پچھلی پوسٹ
سعادت حسن منٹو کوئز

متعلقہ پوسٹس

عالم بخش اور کالا ریچھ

نومبر 23, 2019

خشک آنکھیں اور خالی ہاتھ

ستمبر 18, 2025

چاند ماموں

مارچ 5, 2023

پاکستان ایک نازک موڑ پر

فروری 13, 2026

والدہ مرحومہ کی یاد میں

نومبر 14, 2025

اے تھاوزنڈ سپلینڈڈ سنز

نومبر 29, 2020

مدینہ منورہ کے کبوتر

مئی 25, 2024

ملاقاتی

جنوری 13, 2020

ٹیکنالوجی کی ترقی

نومبر 8, 2025

پرانے خدا

اکتوبر 24, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ایک نئی خبر، ایک نیا سانحہ

اگست 18, 2025

شجر کی حکایت

جنوری 1, 2025

سکندر کی خود کشی کی کوشش

جنوری 4, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں