107
گلوں کے درمیان خواب سا منظر ہے
حسن کا ایک دلکش سا دفتر ہے
دھوپ چھاؤں میں رنگ چمکتے ہیں
ہر کونے میں محبت کا منظر ہے
زیب تن وہ سفید چادر، نرمی کی مثال
ہوا بھی اس کا پیامبر ہے
بالوں میں گندھی خوشبو کا جادو
ہر سانس میں کوئی نیا جوہر ہے
قدیم دیواروں کی خاموشی میں
کہانیوں کا کوئی گہرا محور ہے
نگاہیں جھکی ہیں، لبوں پہ سکوت
شاید دل کا کوئی مکمّل سفر ہے
یہ لمحہ ہے یا کسی خواب کی تعبیر؟
زندگی کی یہ ساعت بھی نادر ہے
شاکرہ نندنی
