خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریررزم آرائی کی غزل
اردو تحاریرتحقیق و تنقیدشہزاد نیّرؔ

رزم آرائی کی غزل

از سائیٹ ایڈمن جولائی 5, 2024
از سائیٹ ایڈمن جولائی 5, 2024 0 تبصرے 50 مناظر
51

جناب خالد مصطفی کا اوّلین شعری مجموعہ ” خواب لہلہلانے لگے” جب ۴۰۰۲؁ء میں منظرِ عام پر آیا تو سنجیدہ قاری نے اس رکھ رکھاؤ والی غزل کا خیر مقدم کیا۔ ایک خاص تہذیبی سانچے میں ڈھلی ان کی غزل رزم کے استعاروں میں نرم بات کرتی ہوئی سب کو بھلی لگی تھی۔ تبصرہ نگاروں نے یہ بات محسوس کی کہ خاکی وردی میں ملبوس یہ شاعر حرب و ضرب کی اصطلاحات میں امن و محبت کی بات کرتا ہے اور وہ بھی شائستہ، شستہ،مہذّب لہجے میں۔ یوں یہ بات کہنے کی ہے کہ مسلّح افواج سے منسلک افراد میں امن کی خواہش اگر عام افراد سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہوتی۔ جنگ کوئی بھی نہیں چاہتا۔ فوجی بھی نہیں۔ ویسے بھی جنگ کی ہولناکی اور خوں آشامی کے ساتھ پہلی اور بنیادی مڈبھیڑ سپاہیوں ہی کی ہوتی ہے۔ بلا جواز جنگ کی خواہش ہمہ دم جنگ کے لیے تیار رہنے والوں میں بھی نہیں پائی جاتی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ عقب میں کھڑے ہو کر چیخنے والے چند بیمار ذہنوں میں جنگ و جدل اور کُشت و خون کی مریضانہ خواہش زیادہ نظر آتی ہے۔ یوں اگر
خالد مصطفی کے اشعار میں صلح اور آشتی کی حقیقی آرزو نظر آتی ہے تو یہ ” نگہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز” کی عملی صورت ہے!
تلوار میں نے ڈال لی واپس میان میں
رستہ مذاکرات کا ہموار دیکھ کر
صلح کی صورتیں تو بہت تھیں مگر
ہم ہی نادان تھے ، مشتعل ہو گئے
صلح کی با ت خالد ؔ کرو کو ئی اب
جتنے ہونے تھے شکوے گلے ہو گئے

یہاں مجھے نوّے کی دہائی میں قائم ہونے والی ایک امن تنظیم یاد آرہی ہے جس کا نام تھا SIP
(Soldier’s Initiative for Peace)۔یہ دونوں پڑوسی ممالک کی مسلّح افواج کے سبک دوش ہوچکے اعلیٰ افسران کی جانب سے امن قائم کرنے کی ایک کوشش تھی۔ اب بھی صورت حال وہی ہے۔ امن کی ضرورت خطّے کے تمام انسانوں کو ہے لیکن یہ سچ بولنا بھی بعض
اوقات مشکل لگتا ہے۔
اگر جھوٹ لکھیں تو فن میں خیانت
اگر سچ کہیں تو مسائل بہت ہیں
میں تو اپنی شکست پر چپ ہوں
ہاں! وضاحت سماج مانگتا ہے

آہن کی جھنکار سے غزل کی بحر کشید کرنا جنونِ سخن کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔ حرف کی دیوی سے مکالمہ، لمبے کھردرے حُکمی الفاظ (کاشن!) کے سائے سائے ہوتا ہے۔ رات دن حملہ، دفاع اور شکست و فتح سے مکالمہ ہو تو غزل کے دن رات بھی سالار، جنگ اور قیدی سے ترتیب پانے لگتے ہیں۔ ایسے میں عروسِ غزل سپاہیانہ ملبوس میں سخنِ دلنواز دان کرتی ہے۔ شاکر کنڈان نے ” اردو ادب اور عساکر پاکستان” کے سلسلے کی چار جلدیں شائع کر کے اس اہم اور مختلف طرزِ احساس اور ادبی اظہار کو دستاویز کیا ہے۔ یہ دفاع ِ وطن کے جذبے سے سرشار حرف و سخن کے اُن خادموں کا طرزِ احساس ہے جو امن کی کو ملتا اور عسکریت کی سخت جانی کے بین بین چلتا ہے۔ یہاں شاکر کنڈان
کے دو اشعار پیش ہیں جو اس صورتحال پر عمدگی سے روشنی ڈالتے ہیں۔
تذکرہ عشق کا ، بات اخلاص کی
ہم نے نوکِ سناں سے بھی اکثر لکھی
جنگ میں خون کے رنگ پیارے لگے
وقت پر بات انسانیت کی کہی (شاکرکنڈان)
خالد مصطفی کی غزل رزم میں بزم آرائی کی عمدہ مثال ہے۔ رَن میں بھاگتے دوڑتے استعاروں اور حرب و ضرب کی علامات سے ایسے ایسے اشعار ہوئے ہیں کہ غزل کے موضوعاتی کینوس میں وسعت آئی ہے۔ یوں بہت سے شعرا نے بھی غزل میں شکست و فتح،تیر
و کمان، لشکر و سپاہ باندھے ہیں لیکن حقیقی مشاہداتی سخن اورتخیلی،تصوّراتی گفتارکا فرق نظر آجاتا ہے۔
صف بندی کر رہے ہو بغیر انتباہ کے
آداب بھی تو ہوتے ہیں کچھ رز م گاہ کے
نہیں تھی میرے گھر کی چار دیواری بڑی مدّت
سو گذرے اس سے یونانی و تاتاری بڑی مدّت
یاروں کی بروقت کمک سے کیا حاصل
ڈھیر اگر اپنے لشکر ہو جائیں تو !

جدید تر غزل کا حالیہ منظر نامہ متنوّع اظہار سے عبارت ہے۔ حُسن کی اتنی صورتیں ہیں کہ رُو بہ رُو اورسُو بہ سُو سجی ہیں۔ ایک طرف دشت و قیس کے استعارے ہیں تو دوسری طرف عکس و آئینہ، چراغ وہوا اور خواب و تعبیرکے پیرائے میں عصری بات کہی جارہی ہے۔ خالدؔ مصطفی نے دل کی بات کا اظہار خاص عسکری لفظیات میں کیا۔ ذرا دیکھئے کہ بات کس خوبی سے ادا ہوئی ہے۔
اب کے تمہاری زد میں کوئی اور شخص ہے
ہم بھی کبھی ہدف تھے تمہاری نگاہ کے
سالارِ حُسن نے مجھے قیدی بنا لیا
پھر یوں ہوا کہ جنگ کا پانسہ پلٹ گیا
بے دخل کروں دل سے اُسے کیسے بھلا میں
دشمن بھی گھر آئے تو نکالا نہیں جاتا
معاملات محبت کو ہدف، جنگ اور دشمن کی لفظیات میں ادا کرنا خالدؔ مصطفی کی غزل کا اہم اور قابلِ توجہ پہلو ہے۔ ان کا فن غزل کے ابلاغی وترسیلی سلسلے سے منسلک ہے۔ یہاں بقدرِ ضرورت اشاریت اور رمزیت تو میسّر ہے لیکن پیچ در پیچ ابہام نہیں۔ معنوی اعتبار سے بات مکمل واضح اور مربوط کہنے کی روش انہیں مرغوب ہے۔ وہ غزل کے طلسم سے آگاہ بھی ہیں اور اس طلسم کو بروئے کار بھی لاتے ہیں۔ ایک
خاص چمک اور لپک اُن کے کئی اشعار سے یکلخت بر آمد ہو کر خوش ذوق قاری پر یک بہ یک ” حملہ” کر دیتی ہے۔
یوں تو ہم لوگ بلانے پہ بھی کم بولتے ہیں
پر جہاں کوئی نہیں بولتا ، ہم بولتے ہیں
ہم نے حیات پیٹھ پہ رکھ کر گذار دی
ممنونِ لطف ہم نہیں عالم پناہ کے
باہر ہوا مدار سے ، مرکز سے ہٹ گیا
اُس سے الگ ہوا تو میں خود سے بھی کٹ گیا
کسی بھی دور سے اپنا پتا نہیں ملتا
ہمیں تو سارے زمانے ترے زمانے لگے
اُس کی بات نمایاں جیسے نون نظر کے نقطے
میں خاموش ہو ں خالد ؔ ایسے جیسے خواب کا واؤ
خالد مصطفی نے بعض پُر اثر نظمیں کہی ہیں۔ نظم میں بھی انہوں نے،غزل کے شعر کی طرح،وحدتِ تاثر اور خیال کی اکائی کا خیال
رکھا ہے۔ ان کی یہ مختصر نظم دیکھیں جو ایک زمانے میں ” فنون” میں شائع ہو کر مقبول ہوئی تھی۔
ہم تو دریا کے دو کنارے ہیں
زندگی بھر جو ساتھ ساتھ چلیں
پھر بھی آپس میں مل نہیں سکتے
میں نے اتنا کہا فقط اُس سے
بات میر ی ابھی ادھوری تھی
اُس کی آنکھوں کے بند ٹوٹ گئے
حال ہی میں انہوں نے شہدائے گیاری کی برف برف یاد میں ایک پر اثر نظم تخلیق کی ہے۔ ” برف میں دبے فوجی کا ماں سے مکالمہ”۔ یہ نظم ماہنامہ ” بیاض” کے اندرون سر ورق پر چپھی تو اہلِ درد کے دل چھید گئی۔ ایسی نظموں کے باوجود مجموعی طور پر خالدؔ مصطفی کی نظم کو وہاں پہنچنے میں کچھ دیر ہے جہاں جدید نظم پہنچ چکی ہے۔ ان کی بہت سی نظمیں اس عمومی معیار سے نیچے ہیں جہاں سے اوپر نئی نظم بات کرتی ہے۔اگر نظم پر ان کی توجہ بھرپور رہی تویقینا ان سے اُسی معیار کی نظمیں ہوں گی جوآج کی جدید نظم نے قائم کر رکھا ہے۔
غزل میں اُن کا حصّہ قابلِ ذکر بھی ہے اور قابلِ قدر بھی۔ اُن کی تازہ غزلیں اپنے تیور اور لہجے میں بہتر سے بہتر ہوتی
جارہی ہیں۔ اُن کا سفر جاری ہے اور اُن کا اب تک کا کام ان کے آنے والے کام کا اشاریہ مرتب کر رہا ہے۔

شہزاد نیّر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دو سیاح
  • شکوہ شکایت
  • جدید دور میں اردو زبان کی اہمیت
  • مندر والی گلی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
"چار چاند "اور نیلم احمد بشیر
پچھلی پوسٹ
ساحر لدھیانوی ۔ ایک نیا مطالعہ

متعلقہ پوسٹس

ایک ٹانگ پر کھڑے ہونے کی ورزش

جنوری 29, 2025

زندگی سانس کے بغیر ممکن نہیں

جولائی 31, 2022

ذوق کی قصیدہ نگاری

اپریل 13, 2025

غزہ کی پکار

اپریل 7, 2025

میر صاحب کا زندہ عجائب گھر

مئی 27, 2024

ڈائجسٹ کی کہانیاں

اپریل 1, 2023

وادیِ لالہ زار

اکتوبر 9, 2022

توبۃ النصوح – فصل سوم

اکتوبر 28, 2020

’’بچوں کے اقبال‘‘ از پروفیسر خیال آفاقی

اکتوبر 25, 2025

بے غرض محسن

دسمبر 10, 2017

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

قرآن مجید میں تقویٰ

فروری 25, 2026

رہبرِ اختران

دسمبر 29, 2024

تقدیرِ رنگین

جنوری 8, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں