خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابادہلی کا ایک یادگار مشاعرہ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمز

دہلی کا ایک یادگار مشاعرہ

از سائیٹ ایڈمن جولائی 1, 2024
از سائیٹ ایڈمن جولائی 1, 2024 1 تبصرہ 147 مناظر
148

کالج کے زمانے میں اس کتاب کا بہت چرچا تھا۔ مکتب کی راہداریوں میں بریک کے دوران یہ گفتگو ہوتی:
"دہلی کا ایک یادگار مشاعرہ پڑھا ؟”
"نہیں۔۔۔”
"ارے۔۔۔۔۔ کیوں؟”
"کتاب نہیں مل رہی۔۔۔۔”
"بھائی مجھ سے مستعار لے لو مگر پڑھو۔۔۔”
پھر جب میں نے یہ کتاب پڑھی تو اک کیف کی کیفیت طاری ہو گئی۔ مشکل سے 100 صفحات کی کتاب مگر اتنی اثر انگیز۔۔۔۔۔!!! بلا شبہ مرزا فرحت اللہ بیگ کی یہ کتاب اردو ادب کا شاہکار ہے۔ یہ ایک خیالی اور تمثیلی مشاعرے کی داستان ہے۔ اگر کسی نے دہلی کی ٹکسالی زبان کا چٹخارہ لینا ہے اور 1857 سے پہلے کی دہلی کی فلم دیکھنی ہے تو یہ کتاب پڑھے اور نہال ہو۔
اردو کے پہلے خاکہ نگار مرزا فرحت اللہ بیگ (1947- 1883) مجھے ہمیشہ سے بہت اچھے لگتے ہیں۔ ان کی طلسماتی شخصیت میں ایک کشش ہے، ایک urbane touch ہے اور ان کی تحریر میں touch of class ہے۔ 1927 میں ان کا بے مثال خاکہ "نذیر احمد کی کہانی – کچھ ان کی کچھ اپنی زبانی” شائع ہوا جس نے اردو ادب میں خاکہ نگاری کی بنیاد رکھی۔
دہلی کے ایک یادگار مشاعرے کی تفصیل تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ مولوی کریم الدین "طبقات الشعرائے ہند” میں لکھتے ہیں کہ 1846 (1261ھ) میں ایک مشاعرہ ان کے مکان پر ہوا۔ یہ مشاعرہ ایک مضمون کی شکل میں سب سے پہلے رسالہ اردو اور رسالہ الناظر لکھنئو میں شائع ہوا۔ اس میں ہر شاعر کا حال مع اشعار درج ہے۔ مرزا فرحت اللہ بیگ نے اس مشاعرے کو بنیاد بنا کر ایک تمثیلی مشاعرے پر مضمون لکھا جو انجمن ترقی اردو(ہند) کے رسالہ اردو میں 1927 میں شائع ہوا۔ 1857 سے قبل کے دلی کے سماجیاتی مطالعے کے لئے یہ اہم ترین ماخذ ہے۔ مشاعرے کے اس مضمون میں مرزا صاحب نے 65 مختلف افراد کی سراپا نگاری کی ہے۔
مرزا فرحت اللہ بیگ شخصیت کا حال یوں بیان کرتے ہیں گویا آپ اس شخص کو دیکھ رہے ہیں۔ وہ سراپا نگاری پر اتھارٹی کا درجہ رکھتے ہیں۔ بک کارنر جہلم کا بہت شکریہ کہ انہوں نے یہ تاریخی کتاب 2018 میں پھر سے شائع کر کے ادب عالیہ کی ترویج کی۔
ذیل میں بلترتیب بہادر شاہ ظفر، غالب، ذوق اور مومن کی سراپا نگاری دیکھئے اور مرقعے ملاحظہ فرمائیے جو مرزا صاحب نے اس کتاب میں درج فرمائے ۔
چوبدار نے آواز دی
ادب سے نگاہ روبرو
حضرت جہاں پناہ سلامت
آداب بجا لاؤ
دہرا ہو کر سات تسلیمات بجا لایا اور نذر گزاری۔ نذر دیتے وقت ذرا آنکھ اونچی ہوئی تو وہاں کا رنگ دیکھا۔ حضرت پیر و مرشد ایک چاندی کی پلنگڑی پر لیٹے ہوئے تھے۔ پائنتی مرزا فخرو بیٹھے پاؤں دبا رہے تھے۔ دہلی میں کون ہے جس نے حضرت ظل اللہ کو نہیں دیکھا۔۔۔۔۔۔۔ میانہ قد، بہت نحیف جسم، کسی قدر لمبا چہرہ، بڑی بڑی روشن آنکھیں – آنکھوں کے نیچے کی ہڈیاں بہت ابھری ہوئی، لمبی گردن، چوکا ذرا اونچا، پتلی ستواں ناک، بڑا دہانہ، گہری سانولی رنگت، سر منڈا ہوا، چھدری ڈاڑھی – کلوں پر بہت کم، ٹھوڑی پر زیادہ، لبیں کتری ہوئی – ستر سال سے اونچی عمر تھی۔ بال سفید بہق ہو گئے تھے لیکن پھر بھی ڈاڑھی میں اکا دکا سیاہ بال تھا۔ چہرے پر جھریاں تھیں لیکن باوجود اس پیرانہ سالی اور نقاہت کے آواز میں وہی کرارہ پن تھا۔ سبز کم خواب کا ایک بر کا پاجامہ اور سفید ڈھاکے کی ململ کا کرتہ زیب بدن تھا۔ سامنے ایک چوکی پر جامہ دار کی خفتان اور کار چوبی چو گوشہ ٹوپی رکھی ہوئی تھی۔ اب رہے مرزا فخرو تو عین مین اپنے باپ کی تصویر تھے۔ 22، 23 برس عمر تھی۔ فرق تھا تو صرف یہی کہ وہ بڈھے تھے، یہ جوان۔ ان کا رنگ بڑھاپے کی وجہ سے ذرا کلونس لے آیا تھا، ان کا کھلا گیہواں رنگ تھا۔ ان کی ڈاڑھی سفید تھی، ان کی سیاہ – ورنہ یہی معلوم ہوتا تھا کہ ایک بادشاہ لیٹے ہیں اور ایک بیٹھے ہیں۔
دروازے سے گزر کر مختصر سا صحن ہے اور سامنے ہی دالان در دالان۔ جب میں پہنچا تو اندر کے دالان میں گاؤ تکیہ سے لگے بیٹھے کچھ لکھ رہے تھے۔ مرزا نوشہ کی عمر پچاس سال کی ہو گی۔ حسین اور خوبرو آدمی ہیں۔ قد اونچا اور ہاڑ بہت چوڑا چکلا۔ موٹا موٹا نقشہ اور سرخ سفید رنگت ہے لیکن اس میں کچھ کچھ زردی جھلکتی ہے۔ ایسے رنگ کو محاورے میں چمپئی کہا جاتا ہے۔ آگے کے دو دانت ٹوٹ گئے ہیں، ڈاڑھی بھری ہوئی مگر گھنی نہیں ہے۔ سر منڈا ہوا اور اس پر پوستین کی ٹوپی ہے جو کلاہ پاپاخ سے ملتی جلتی ہے۔ ایک بر کا سفید پاجامہ، سفید ململ کا انگرکھا، اس پر ہلکے زرد زمین کی جامہ دار کا جغہ- میری آہٹ پا کر لکھتے لکھتے آنکھ اونچی کی۔ میں نے آداب کیا، سلام کا جواب دیا اور آنکھوں سے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
جب میں پہنچا تو استاد صحن میں بان کی کھری چارپائی پر بیٹھے حقہ پی رہے تھے۔ دوسری چارپائی پر ان کے چاہیتے شاگرد حافظ غلام رسول ویران بیٹھے تھے۔ یہ اندھے ہیں اور ان ہی سے ہوشیار رہنے کے لئے حضرت جہاں پناہ (بہادر شاہ ظفر) نے ارشاد فرمایا تھا۔ استاد ذوق قد و قامت میں متوسط اندام ہیں۔ رنگ اچھا سانولا ہے، چہرے پر چیچک کے داغ ہیں۔ آنکھیں بڑی بڑی اور روشن اور نگاہیں تیز ہیں۔ چہرے کا نقشہ کھڑا کھڑا ہے۔ اس وقت سفید تنگ پاجامہ، سفید کرتہ اور سفید ہی انگرکھا پہنے ہوئے تھے۔ سر پر گول چندوے کی ململ کی ٹوپی تھی۔ میں نے آداب عرض کیا۔ انہوں نے فرمایا "بیٹھو بیٹھو-” میں نے عرض کی کہ:
” میرا ارادہ قاضی حوض پر ایک مشاعرہ شروع کرنے کا ہے۔ 14 رجب تاریخ مقرر ہوئی ہے۔ اگر حضور بھی از راہ بندہ نوازی قدم رنجہ فرمائیں تو بعید از کرم نہ ہو گا”
میرا اتنا کہنا تھا کہ حافظ ویران تو چراغ پا ہو گئے، کہنے لگے:
"جائیے جائیے! کہاں کا مشاعرہ نکالا ہے۔ استاد کو فرصت نہیں ہے۔ ان مرزا لے پالک (مرزا غالب) کے پاس کیوں نہیں جاتے جو خوامخواہ ان کو آ کر دق کرتے ہو۔”
اندر کے دالان میں بیچوں بیچ قالین بچھا ہوا ہے۔ قالین پر گاؤ تکیے سے لگے حکیم صاحب بیٹھے ہیں۔ سامنے حکیم سکھا نند المتخلص بہ رقم اور مرزا رحیم الدین حیا مودب دو زانو بیٹھے ہیں۔ معلوم ہوتا تھا کہ کوئی دربار ہو رہا ہے کہ کسی کو آنکھ اٹھا کر دیکھنے اور بلا ضرورت بولنے کا یارا نہیں۔ حکیم مومن خان کی عمر تقریبا” چالیس سال کی تھی۔ کشیدہ قامت، سرخ سفید رنگ تھا جس میں سبزی جھلکتی تھی۔ بڑی بڑی روشن آنکھیں، لمبی لمبی پلکیں، کھنچی ہوئی بھنویں، ستواں ناک، خشخاشی ڈاڑھی، بھرے بھرے ڈنڈ، پتلی کمر، چوڑا سینہ اور لمبی انگلیاں، سر پر گھونگھریالے لمبے لمبے بال، کاکلوں کی شکل میں کچھ تو پشت پر اور کچھ کندھوں پر پڑے ہوئے تھے۔
کان کے قریب تھوڑے سے بالوں کو موڑ کر زلفیں بنا لیا تھا۔ بدن پر شربتی ململ کا نیچی چولی کا انگرکھا تھا لیکن اس کے نیچے کرتہ نہ تھا اور جسم کا کچھ حصہ انگرکھے کے پردے میں سے دکھائی دیتا تھا۔ گلے میں سیاہ رنگ کا فیتہ تھا۔ اس میں چھوٹی سی سنہری تعویذ۔ کاکریزی رنگ کے دوپٹہ کو بل دے کر کمر میں لپیٹ لیا تھا اور اس کے دونوں کونے سامنے پڑے ہوئے تھے۔ ہاتھ میں پتلا سا خار پشت، پاؤں میں سرخ گلبدنی کا پاجامہ – مہریوں سے تنگ، اوپر جا کر کسی قدر ڈھیلا۔ کبھی کبھی ایک بر کا پائجامہ بھی پہنتے تھے، مگر کسی قسم کا بھی ہو ریشمی اور قیمتی ہوتا تھا۔ چوڑا سرخ نیفہ، انگرکھے کی آستین آگے سے کٹی ہوئی، کبھی لٹکتی رہتی ہیں اور کبھی الٹ کر چڑھا لیتے ہیں۔ سر پر گلشن کی بڑی دو پلڑی ٹوپی۔ اس کے کنارے پر باریک لیس۔ ٹوپی اتنی بڑی تھی کہ سر پر اچھی طرح منڈھ کر آ گئی تھی۔ اندر سے مانگ اور ماتھے کا کچھ حصہ اور بال صاف جھلکتے تھے۔ غرض یہ کہ نہایت خوش پوش اور جامہ زیب آدمی تھے۔ مولوی امام بخش صاحب صہبائی نے کہا:
"یہ پہلے کالج میں میرے شاگرد تھے، اب مطبع کھول کیا ہے، وہاں مشاعرہ کرنا چاہتے ہیں، آپ کو تکلیف دینے آئے ہیں”
حکیم صاحب نے ہنس کر کہا:
"بس صاحب مجھے تو معاف ہی کیجیے۔ اب دہلی کے مشاعرے شریفوں کے جانے کے قابل نہیں رہے۔ ایک صاحب ہیں (یہ استاد ذوق اور شہزادوں کی طرف اشارہ تھا) وہ اپنی امت لے کر چڑھ آتے ہیں، شعر سمجھنے کی تو کسی کو تمیز نہیں، مفت میں واہ واہ! سبحان اللہ! سبحان اللہ! کا غل مچا کر طبیعت کو مغنض کر دیتے ہیں۔ یہ نہیں سمجھتے کہ:
صائب دو چیز می شکند قدر شعر را
تحسین ناشناس و سکوت سخن شناس
دوسرے صاحب ہیں وہ ہدہد کو ساتھ لئے پھرتے ہیں (یہ بادشاہی اور خاندانی طبیب حکیم آغا جان عیش کی طرف اشارہ تھا۔ میاں ہدہد کو پال کر انہوں نے سب سے بگاڑ لی تھی۔ میاں ہدہد واہی تباہی بولتے اور استادوں پر حملے کرتے تھے) اور خوامخواہ استادوں پر حملہ کرتے ہیں۔ خود تو میدان میں نہیں آتے، اپنے نااہل پٹھوں کو مقابلے میں لاتے ہیں۔”

وحید احمد
19 جون 2024

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اعداد و شمار کا پاکستان
  • گزر گئے پلوں کو اب
  • میں اپنے فن سے ترا ذائقہ بدل لوں گا
  • فوج پر تنقید : پاکستان کے لیے خطرہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خوابشار
پچھلی پوسٹ
بزم کہکشاں گیا

متعلقہ پوسٹس

حوصلہ افزائی کی ترغیب!

اکتوبر 23, 2020

اپنے بدن کی جھونپڑی میں، دل اکیلا تھا بہت

جون 8, 2020

تبلیغی جماعت کا جائزہ (زمینی حالات)

جنوری 14, 2026

جیسے جیسے کر رہا ہوں عمرِ رفتہ کا حساب

جنوری 23, 2020

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا امتحان

اپریل 8, 2026

رات کے دو پہر

مارچ 25, 2022

ہمارے ذہن میں اک نقش جو ابھرتا ہے

اپریل 14, 2020

ہم کس مرحلے میں ہیں؟

فروری 5, 2021

لاھوربورڈ میٹرک رزلٹ 2025

دسمبر 12, 2025

قدرت کا نازک رقاص

نومبر 24, 2024

1 تبصرہ

محمد جواد نومبر 14, 2025 - 9:34 صبح

اردو ناول کے حوالے سے

جواب دیں

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

چراغ کا قد بڑھانے والوں کی...

جولائی 11, 2021

شکستہ تن ، برہنہ سر جو...

اپریل 4, 2020

‫ایرانی پلاؤ

جنوری 27, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں