خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباوعدہ پورا ہوا
آپکا اردو بابااردو تحاریر

وعدہ پورا ہوا

از سائیٹ ایڈمن مئی 24, 2024
از سائیٹ ایڈمن مئی 24, 2024 0 تبصرے 74 مناظر
75

شہر کے ایک غریب علاقے میں ایک ایسا اسکول تھا جہاں با مقصد، سستی اور معیاری تعلیم دی جاتی تھی۔ طالب علموں کی ضرورتوں کا خیال رکھتے ہوئے ہر چیز دستیاب تھی۔ فیس بھی اتنی تھی جو وہاں کے رہنے والوں کی پہنچ سے باہر نہ تھی۔ اس کے علاوہ نادار اور کم تنخواہ دار لوگوں کے ذہین بچوں کو ماہانہ امداد بھی دی جاتی تھی۔ میٹرک پاس کرنے والے طلبہ کو یہ سہولت بھی میسر تھی کہ وہ کالج میں داخلہ لینا چاہیں اور وہاں کے اخراجات ان کے والدین برداشت نہ کر سکیں تو اسکول یہ اخرابات قرض حسنہ دے کر پورے کرے گا۔ جب طالب علم عملی زندگی میں قدم رکھے گا تو یہ رقم ماہانہ آسان قسطوں میں اسکول کو واپس کرنا ہو گی، تاکہ یہ سلسلہ جاری و ساری رہے۔

آج یہی اسکول بقعۂ نور بنا ہوا تھا۔ جو بھی وہاں سے گزرتا تھا وہ یہی کہتا تھا کہ اسے کہتے ہیں روشنیوں کا گھر۔ آج اس اسکول کی سال گرہ تھی۔ تمام روایات کو پس پشت ڈال کر پروگرام یہ بنایا گیا کہ اس تقریب میں اسٹیج کرسیاں نہیں ہوں گی، بلکہ فرشی نشست ہو گی۔ مہمان خصوصی کو نہ سپاس نامہ پیش کیا جائے گا اور نہ کوئی تقریر ہو گی، بلکہ امریکہ سے آنے والے ایک پاکستانی مہمان خصوصی ہوں گے اور تمام طالب علموں کو ایک کہانی سنائیں گے۔ بچے کہانی بڑی توجہ سے سنتے ہیں اور اس کا اثر قبول کرتے ہیں۔ یہ مہمان خصوصی وقت مقررہ پر پنڈال میں پہنچے تو جلسے کی کاروائی اللہ کے نام اور اس کے کلام سے شروع ہوئی۔ تلاوت کے بعد مہمان خصوصی نے مائک سنبھالا اور کہانی سنانا شروع کر دی:

بہت دن ہوئے اسی شہر میں ایک بچہ تھا۔ یہ اس کچی آبادی میں رہتا تھا، جہاں اب بڑی شان دار عمارتیں بن گئی ہیں۔ اس نے میٹرک کا امتحان پاس کر لیا تھا۔ اس کی دلی تمنا تھی کہ وہ کالج میں داخلہ لے، مگر اس کا باپ چاہتا تھا کہ وہ کوئی کام کاج کرے تاکہ چار پیسے گھر کے لیے کمائے۔ اس کے باپ کا پیشہ راج گیری تھا۔ یہ بچہ خاندان کا پہلا فرد تھا جس نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی تھی۔ برادری والوں نے اس کے باپ کو بہت مبارک باد دی۔ کچی آبادی کے دوسرے بزرگوں نے بھی خوشی کا اظہار کیا۔ ایک دو بزرگوں نے یہ بھی کہا کہ اگر بچہ آگے پڑھنا چاہے تو اسے آگے پڑھانا چاہیے۔ انھی باتوں سے متاثر ہو کر اس نے اپنے بیٹے کو آگے پڑھانے کا ارادہ کر لیا۔ اس کا پیشہ ایسا تھا کہ روز کنواں کھودنا، روز پانی پینا۔ مزدوری مل گئی تو پیسے آ گئے، ورنہ دوسرے دن کا انتظار۔

بڑی عمارتوں کے زیر سایہ یہ کچی آبادی بستے بستے بس گئی تھی۔ وہیں ایک عمارت میں ایسے بزرگ شخص بھی رہتے تھے جنھیں لوگ خبطی سمجھتے تھے۔ وہ ہر ایک کے کام آتے تھے۔ یہ بزرگ بستی کے ہر شخص کی جائز ضرورتوں کو پورا کرنے میں ہاتھ بٹاتے تھے۔ بلا سود قرض دیتے تھے، مگر قرضے کی میعاد پوری ہونے کے بعد مقروض کی وعدہ خلافی پر بہت برہم ہوتے تھے۔ انھوں نے ایک ٹکٹکی (تپائی) بنائی ہوئی تھی جس میں وہ وعدہ پر قرض واپس نہ کرنے والے کا پتلا باندھ کر اسے سر راہ قمچی سے پیٹتے اور کہتے جاتے کہ میاں فلاں! تو نے کل کی تاریخ کے وعدے پر ادھار لیا تھا وہ ادھار تو نے واپس نہیں کیا۔ یہ تماشا دیکھنے کے لیے لوگوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگ جاتے تھے۔ پھر کچھ لوگ اس مقروض کو شرمندہ کر کے قرض واپس کرنے پر مجبور کرتے تھے۔

دیکھتے دیکھتے شہر میں تعمیرات کے کام میں ایسی تیزی آئی کہ اس بچے کے باپ کو بھی ایک ٹھیکے دار نے مستقل رکھ لیا۔ بچے کے داخلے کا وقت آیا تو اس نے بستی کے بزرگ سے اپنے بچے کے داخلے کے لیے ایک ماہ کے وعدے پر رقم ادھار لی۔ بچے کا داخلہ ہو گیا اور وہ تاریخ بھی آن پہنچی، جس تاریخ پر یہ قرض واپس کرنا تھا۔ اس دن ایسی بارش ہوئی کہ جیسے آج برس کے پھر نہ برسے گی۔ لوگوں کا خیال تھا کہ آسمان میں چھید ہو گیا ہے۔ اتنا پانی برسا کہ پورا علاقہ جل تھل ہو گیا۔ نالے نالیاں ابل پڑے۔ پگڈنڈیوں اور سڑکوں نے ندیوں کی صورت اختیار کر لی۔ گلی کوچوں میں نکلنا دشوار ہو گیا۔ ہر شخص گھر میں قید ہو کر رہ گیا۔ بچے کا اصرار تھا کہ ادھار کے پیسے وعدے کے مطابق آج ہی واپس کر دیئے جائیں۔ باپ کا کہنا تھا کہ ایک دو دن کے بعد ادھار اتارا جائے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، مگر بچہ وعدہ خلافی نہیں چاہتا تھا۔ وہ آج کا کام کل پر نہیں ٹالتا تھا۔ شاید اسی عادت کی وجہ سے وہ امتحان میں اچھے نمبروں سے پاس ہوا تھا۔

جب بیٹا اور باپ ادھار چکانے کے لیے گرتے پڑتے اور بچتے بچاتے بزرگ کے ٹھکانے پر پہنچے تو ہر طرف ہو کا عالم تھا۔ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس وقت بھی بارش کی جھڑی لگی ہوئی تھی۔

بزرگ نے انہیں دیکھتے ہی کہا: "آؤ آؤ، میں جانتا تھا تم ہاتھ کے بھولے نہیں ہو۔

بچے کا باپ کہنے لگا: "میں نے تو اس سے کہا تھا کہ بارش کا زور ٹوٹے تو چلیں گے، مگر اس نے ایک نہ سنی اور کہنے لگا کہ بابا! میں نے دینیات کی کتاب میں پڑھا ہے کہ ہمارے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو وصیت فرمائی تھی کہ کبھی وعدہ خلافی نہ کرنا۔ نہ اس معاملے میں کسی کی مدد کرنا۔ یہ سنتے ہی میں بھی اس کے ساتھ چل پڑا۔”

بزرگ نے بچے کے سر پر محبت و شفقت کا ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا: "اس بچے نے انسانی رشتے اور اخلاقی اصول کا ایسا مظاہرہ کیا ہے کہ دل خوش ہو گیا ہے۔ میں یہ پیسے بچے کو دیتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ یہ ذہین لوگوں اور نیکو کاروں میں شامل ہو۔”

بارش تھمی تو ایسا لگا جیسے اس بچے کے باپ کی تمام مشکلات دھل گئی ہوں۔ معاشی حالات بہتر ہونا شروع ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا ہاتھ ایسا تھاما کہ پیسہ برسنے لگا اور وہ اپنے علاقے کا بڑا ٹھیکے دار بن گیا۔ بچے نے بھی تعلیمی میدان میں سرپٹ بھاگنا شروع کر دیا۔ انجینئرنگ کی سند ملتے ہی اس کا اسی کالج میں لیکچرار کی حیثیت سے تقرر ہو گیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب امریکا کے فورڈ فاؤنڈیشن کے ارکان تیسری دنیا کے ممالک میں گھوم پھر کر وہاں کے ذہین لوگوں کو اعلا تعلیم کے لیے وظیفے دے کر ان کی ذہانتوں کو اپنی بھلائی کے لیے استعمال کرتے تھے۔

ایک دن وہ کل کا بچہ اور اس وقت کا انجینئر کلاس میں پڑھا رہا تھا۔ فورڈ فاؤنڈیشن کا ایک رکن دورے پر آیا ہوا تھا۔ اس نے دیکھا کہ ایک نوجوان لیکچر دے رہا ہے اور اس سے بڑی عمر کے طالب علم کلاس میں بیٹھے بڑے توجہ اور رغبت سے لیکچر سن رہے ہیں۔ وہ رکن بھی کلاس کی پچھلی صف میں بیٹھ گیا۔ جب وقت ختم ہوا اور یہ نوجوان لیکچرار برآمدے میں آیا تو اس رکن نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا: "کیا تم اعلا تعلیم کے لیے ہماری کفالت (اسپانسر شپ) قبول کرو گے؟

اس نوجوان لیکچرار نے تعجب اور خوشی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ اس کی طرف دیکھا تو رکن نے کہا: "فطری اہلیت کو عمر کے ترازو میں نہیں تولا جاتا۔ عمر کی زیادتی یا کمی سے فطری اہلیت اور صلاحیت کا تعلق نہیں ہوتا۔ یہ نوجوان لیکچرار اعلا تعلیم کے لیے امریکا چلا گیا اور بعد میں وہیں ملازمت اختیار کر لی۔

آپ کو معلوم ہے کہ وہ بچہ کون ہے؟ تمام حاضرین مہمان خصوصی کی ہلکی سے مسکراہٹ کو دیکھنے لگے، جس کا مطلب تھا کہ انھوں نے اپنی ہی کہانی سنائی ہے۔ اسی وقت حاضرین کی پچھلی نشست سے ایک بچہ جو اسی اسکول کا طالب علم تھا، کرسی پر کھڑا ہو کر کہنے لگا: "وہ ایک بچہ میں بھی ہوں۔”

سب لوگ اسے حیران نظروں سے دیکھنے لگے۔ کچھ لوگوں نے اسے ڈانٹتے ہوئے خاموش رہنے کے لیے بھی کہا۔ مہمان خصوصی نے مداخلت کرتے ہوئے کہا: "بچوں کی بات بھی سننی چاہیے۔”

سب لوگ خاموش ہو گئے تو مہمان خصوصی نے بچے سے پوچھا: "ہاں میاں! ذرا بتاؤ وہ بچہ تم کیسے ہو؟”

بچے نے جواب دیا: "جناب! میں اعلا تعلیم حاصل کر کے اپنے ملک ہی میں رہ کر ایک معیاری فنی درسگاہ قائم کروں گا۔ میں نے اپنی کتاب میں پڑھا ہے کہ جو کام خلوص دل سے کیا جائے وہ آسان ہوتا ہے۔ اگر عبد الستار ایدھی اتنا بڑا رفاہی اور فلاحی ادارہ چلا سکتے ہیں تو میں بھی تعلیم کے میدان میں اپنے منصوبے کو کام یاب بنا سکتا ہوں۔”

بچے کے عزم اور ارادے کو دیکھ کر مہمان خصوصی کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا اور انھیں ایسا محسوس ہوا کہ ان کے نیک کاموں کا اجر ملنا شروع ہو گیا ہے۔ مہمان خصوصی نے حاضرین پر فاتحانہ نظر ڈالتے ہوئے کہا: "جس قوم میں چراغ سے چراغ جلانے کی روایت قائم رہتے ہے، جو قوم بچوں کے حقوق ادا کرتی ہے اور بچوں کی سوچ کے دھارے کو صحیح رخ پر ڈالتی ہے وہ قوم ترقی کی دوڑ میں کبھی پیچھے نہیں رہتی۔”

 

مظہر یوسف زئی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • آنکھیں
  • وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
  • مصطفےٰﷺ آپ کی چاہت کی ہے
  • آئینے میں کسی افسوں کی طرح ڈھونڈتی ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پہلی گل کہ ساری غلطی میری نئیں
پچھلی پوسٹ
مشہور شخصیات

متعلقہ پوسٹس

روشن ستارہ

جون 28, 2020

دل کے مسائل اور بلڈ پریشر ایورویدک میں

اپریل 28, 2026

سیرتِ رسول ﷺ انسانیت کے لیے کامل نمونہ

اکتوبر 17, 2025

دل تباہ کو اب تک نہیں یقیں آیا

مئی 28, 2024

تین جذبے

مارچ 14, 2020

اور بنسری بجتی رہی

جون 14, 2020

کُچھ بتائیں دِل کا شِیشہ چُور کیوں رکھا گیا

جنوری 29, 2024

ناراض جیالوں کا مقدمہ

نومبر 27, 2019

روشنی

دسمبر 10, 2019

کہیں جواب کہیں پر دلیل جھوٹی ہے

اپریل 23, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • میں مقتول قاتل ہوں

    اگست 19, 2026
  • مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا زوال

    اگست 19, 2026
  • میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف

    اگست 19, 2026
  • نوحہ ایک دھرتی کا

    اگست 17, 2026
  • اسیرِ بے زباں

    اگست 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

میں مقتول قاتل ہوں

اگست 19, 2026

نوحہ ایک دھرتی کا

اگست 17, 2026

اسیرِ بے زباں

اگست 17, 2026

اتر آئی ہے رحمت کی

اگست 17, 2026

زمانے میں رفاقت کی جو یہ رِیت و...

اگست 17, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا...

اگست 19, 2026

میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف

اگست 19, 2026

کم عمر بچے کے ہاتھ میں اسمارٹ فون...

اگست 14, 2026

مشینوں کے عہد میں انسان

اگست 13, 2026

14 آگست اور ایک عام آدمی

اگست 13, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • میں مقتول قاتل ہوں

    اگست 19, 2026
  • مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا زوال

    اگست 19, 2026
  • میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف

    اگست 19, 2026
  • نوحہ ایک دھرتی کا

    اگست 17, 2026
  • اسیرِ بے زباں

    اگست 17, 2026
  • اتر آئی ہے رحمت کی

    اگست 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سرِ بازار

مئی 14, 2024

تیری ہی جُستجُو ہے ، تِرا...

دسمبر 12, 2021

الف لیلہ کی ایک رات

مئی 20, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں