خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابازندگی محبت اور ذلت کی آمیزش ہے
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

زندگی محبت اور ذلت کی آمیزش ہے

از سائیٹ ایڈمن فروری 26, 2024
از سائیٹ ایڈمن فروری 26, 2024 0 تبصرے 60 مناظر
61

یہ حقیقت مجھ پر دریائی ویرانوں میں کھلی۔ سفید چادر اوڑھنے والا محبت نہیں کر سکتا۔ داغدار دامن والا ہی زندگی کی ان بہاروں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔

میری پہلی پوسٹنگ طالب والا پتن کے اس پار ماورائی داستانوں کی زمین تخت ہزارہ میں ہوئی۔ موٹر وے اس وقت نہیں تھی اس لیے سیال موڑ سے وہاں تک ویرانہ ہی ویرانہ تھا۔ چناب کی منہ زور موجوں کو بند باندھ کر قید کر لیا گیا تھا لیکن عشق و محبت تو قلعے کی دیواریں بھی پھلانگ لیتے ہیں۔

مجھے کچھ دن دریا کی حدود کے اندر واقع بنیادی مرکز صحت سید نو بھی جانا پڑتا تھا۔ یہ مرکز صحت گاؤں سے باہر ویرانے میں تھا۔

رجو ذات کی چنگڑ تھی۔ ہسپتال سے متصل جھگیوں میں رہتی تھی۔ وہ دوپہر کو ہمارے ہسپتال آجاتی اور کھانا پکا کر دیتی۔ ہسپتال کی دائی اس سے چڑتی تھی اور ہمیشہ خود ہانڈی روٹی کرنا چاہتی تھی۔ میں تو اس جھگڑے میں نہیں پڑتا تھا لیکن وہ دائی کو غصے سے چولہے کے سامنے سے اٹھا دیتی۔ میں منع کرتا تو کہنے لگتی،

”ڈاکٹر صاب! او ہانڈی چے دھواں شامل کر دیندی اے۔ میں قصائی نال لڑ کر پٹھ دا گوشت لائی آں۔ اس نے پٹھا بٹھا دینا اے۔“

جب وہ یہ بات کر رہی ہوتی تو چولہے سے اٹھتے دھویں کے باعث دریا کنارے پڑے گول کنکروں جیسی موٹی آنکھیں سے پانی بہہ کر اس کی سانولی رنگت کو مزید گہرا کر دیتا۔

وہ آنکھیں جن میں کاجل یا جدید میک اپ کا سماں نہیں تھا اور نہ ہی وہ روایتی دیہاتی لڑکیوں والا شرمیلا پن جو نظروں کو جھکا کر جادو چلاتا ہے لیکن ان میں ازلی و ابدی شگفتگی کا جادو موجود تھا۔ کھانا پکانے کے بعد جب وہ نلکے سے منہ دھو کر سامنے آتی تو پسینے سے شرابور مخمل سا حسین ملائم جسم، ناک نقشہ، آنکھیں اور کالے سیاہ بال بتاتے کہ اس کے حسن میں یونانی تصور کی وہ رمق موجود تھی جس نے دیوتاؤں کے دماغ مختل کر دیے تھے۔ پورے بدن میں کوئی داغ یا نا ہمواری نہیں تھی، ناموزونی کہیں نام کو نہیں تھی۔ گویا کسی ماہر سنگتراش کی مشق و ریاض کا نتیجہ تھی۔

یہ دیکھ کر احساس ہوتا کہ اس یونانی بت کی سانولی رنگت ذوق یزداں کی بھول تھی۔

رجو کی بھر پور جوانی مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچتی لیکن کسی میں ہمت نہیں تھی کہ اس کی طرف نگاہ غلط انداز سے دیکھ سکتا۔ اکثر بنی ٹھنی گاؤں کی گلیوں میں جھومتی لچکتی مٹلاتی پھرتی۔ اس کی حرکات جسمانی اور ناز و ادا میں ایک ایسا پرشور معنی خیز اشارہ موجود ہوتا کہ دل چاہتا ہاتھ بڑھا کر اسے چھو کر دیکھا جائے لیکن وہ ہر کسی کی پہنچ سے بہت دور تھی۔ کبھی کوئی دست طمع اس کی طرف بڑھتا بھی تو کہیں اٹک کر رہ جاتا۔ یوں لگتا کہ جیسے بلوری دیوار اس کے اور ہمارے بیچ حائل تھی جس کے پار دیکھا تو جا سکتا تھا، اسے چھونا چاہیں تو ہاتھ اس ٹھنڈے شیشے سے ٹکراتا۔

بہت بہادر تھی، خوف اس کے قریب بھی نہیں پھٹکتا تھا۔ اس کے سامنے گاؤں کے سب لوگ سہمے سے رہتے۔

ایک شام میں بھلوال سے عملے کی تنخواہ لے کر آیا ہسپتال کا عملہ واپس جا چکا تھا۔ بنیادی مرکز صحت میں صرف ایک چوکیدار کا گھر تھا جو بیوی بچوں سمیت ادھر رہتا تھا۔ ڈاکٹر کے کوارٹر میں ایک کمرہ میں نے صاف کروا رکھا تھا جس میں دوپہر کو اکثر آرام کر لیتا۔

جون کا مہینہ تھا گرمی پوری شدت کے ساتھ پڑ رہی تھی، ایسی گرمی جب چیل اپنا انڈا چھوڑ دیتی ہے۔ کھلیانوں سے گیہوں سمیٹی جا چکی تھی۔ ساری فضا گرد آلود ہو کر دنیا پر چھا گئی تھی۔ وہ ڈھلتے سورج کی چبھتی کرنوں سے بچتے ہوئے ہسپتال میں موجود ایک کیکر کی چھدری چھاؤں میں بیٹھی تھی۔

مجھے دیکھ کر بھاگتے ہوئے آئی اور کہنے لگی،
”سیال موڑ جان والی آخری بس تے کدوں دی جا چکی اے۔“
چوکیدار بولا، ”ڈاکٹر صاب آپ رات میرے گھر گزار لیں۔“
”کیوں وے، تیرے گھر کتھے سون گے، اک کمرہ اے اوہ وی گندا۔“
میں واپس جانا چاہتا تھا
بولی، ”کیسے جائے گا۔ پہاڑ ولوں سرخ آندھی چڑھ آئی اے۔“
میں نے شمال کی طرف دیکھا۔ آسمان کا رنگ سرخ تھا۔

بولی، ”رتی آندھی آنے والی اے۔ بزرگ کہندے نیں گرم خونی ہواواں تب چلتی ہیں جدوں کوئی جوان قتل ہو جائے۔ ساڈے علاقے دے ڈاکو بڑے خطرناک نیں۔ منورے نے کوئی نواں شکار پھڑکا چھڈیا ہوئے گا۔“

میرے پاس تمام عملے کی تنخواہیں تھیں اور گاؤں سے باہر واقع ہسپتال میں کوئی حفاظتی انتظام نہ تھا۔ اس دریائی علاقے میں قانون کی عملداری بالکل نہیں تھی۔ منورا، نامی گرامی بدمعاش تھا جو دریا کے بیلے میں اپنی دہشت جمائے بیٹھا تھا۔ بیلے کو جانے والی پگڈنڈی پر اس نے ایک بورڈ لگایا ہوا تھا جس پر لکھا تھا، ”بیلے میں پولیس کا داخلہ بند ہے۔“

چوکیدار کو بلا کر کہنے لگی، ”وے توں اپنی تنخواہ لے تے دو ڑدا ہو۔
ڈاکٹر صاب وہم دی گل نہیں ۔ آپ اپنے کمرے چے جاؤ، میں ہوں نہ۔ ویکھاں گی کیڑا ڈاکو ادھر آندا اے۔ ”

وہ رات بہت بھاری تھی۔ سرخ آندھی نے ہر طرف گرد و غبار پھیلا دیا۔ آسمان پر کچھ بادل بھی تیرتے نظر آئے جنہیں ہوائیں اڑا کر لے گئیں۔ گھٹائیں جاتے جاتے اڑتے کبوتروں کی طرح دو چار بیٹیں پھینک کر موسم کو مزید گندا کر گئیں۔

بجلی بند تھی۔ رات مچھر کاٹ کاٹ کر جسم کو تنور بنا گئے۔ نیند پلکوں سے کوسوں دور۔ آدھی رات کو کمرے سے باہر نکلا تو وہ ایک ٹوٹی پھوٹی کھاٹ پر لیٹی نظر آئی۔ مجھے دیکھ کر کروٹ بدلی اور کہنے لگی

”ڈاکٹر! سو جا۔ اس گرمی نوں من دا ساڑ سمجھ کے صبر کر لے۔“
میں کھڑا اس کو دیکھ رہا تھا۔
اٹھی اور ساتھ پڑا کھجور کا ایک پنکھا پکڑ کر لے آئی۔
”سو جا میں تینوں پنکھا جھلتی ہوں۔“

اس کی ان حرکتوں کا کیا مطلب تھا؟ ہم شہری لوگ گاؤں کی رہتل بہتل کو نہیں سمجھتے۔ بہرحال اس رات وہ مجھے اپنا دیوانہ بنا گئی۔

کب نیند آئی اور کب جاگا کچھ پتا نہ چلا۔ یوں لگتا تھا کہ رات آنکھوں میں کاٹی ہے۔ ابھی تڑکا ہی تھا، کمرے سے باہر آیا، دیکھا، اس کی کھاٹ خالی تھی۔ اتنی سویرے وہ کہاں چلی گئی؟

ہسپتال سے نکل کر دریا کی طرف چل پڑا۔ گرمیوں کی صبح کی ٹھنڈی ہوا سے اس بیلے میں ایک نئی تازگی پیدا ہو گئی تھی۔ سورج ابھی افق پر نظر نہیں آیا تھا۔ بہت سے پرندے ایک ساتھ خوش ہو کر چہچہا رہے تھے۔ دنیا جہاں کی سب نیرنگیاں افق پر سورج کا استقبال کرنے کو تیار تھیں۔

وہ دریائی جھاڑیوں کے درمیان پگڈنڈی پر بھاگتی واپس آ رہی تھی۔ اس کے ہاتھوں میں جنگلی پھولوں کا ہار تھا۔ سر کے بال کھلے تھے۔ مٹی سے لتھڑے ننگے پاؤں سے جھلکتی مہندی کی ہلکی ہلکی لالی بہت بھلی محسوس ہو رہی تھی۔

موسم اور ماحول کی بالیدگی و رفعت سے اس کے سانولے گالوں پر پہلے سے زیادہ سرخی اور نکھار پیدا ہو گیا تھا۔ چہرے کی سرخی کالے گلاب کے پھول کی طرح کھل اٹھی تھی کانوں کی لووں سے جھلکتا خون اس گلاب کی حاشیہ آرائی کر رہا تھا۔

”کدھر سے آ رہی ہو؟“

وہ خاموش رہی۔ جھینپ کے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔ میرا کچھ حوصلہ بڑھا۔ آگے بڑھ کر اسے چھونا چاہا تو مسکراتے ہوئے بولی

”ڈاکٹر اپنے کام نال غرض رکھ، بہتا فری نہ ہو۔“
یہ کہہ کر وہ ہسپتال کی طرف بھاگ گئی۔
مسکراتے ہوئے اتنا کرخت جواب!
یہ عورت تو ایک اتھاہ چیز تھی۔ میں اس کی تہ نہیں پا سکا تھا۔

اسی رات گاؤں میں ایک ڈکیتی ہوئی اور چوہدری کا گھر لوٹ لیا گیا۔ سارا دن ہسپتال میں اس ڈکیتی کی باتیں ہوتی رہیں۔

یہ عجیب گاؤں تھا!

ڈکیتی کے بعد لوگ جاگ گئے اور اپنے اپنے گھروں میں دبک کر بیٹھے رہے۔ اب دن میں زیادہ تر لوگ منورے کی بہادری کے قصے سنا رہے تھے۔

وہ بیٹھی ٹپے گا رہی تھی
’منورے ماریا ڈاکا
تے تاراں کھڑک گئیاں۔ ’
میں حیران تھا کہ ایک ڈاکو اس علاقے کو لوٹ رہا ہے اور یہ لوگ اس کی بہادری کی داستانیں سنا رہے ہیں۔
رجو سے میں نے پوچھا تو کہنے لگی

”سنتے ہیں جدوں منورا جمیا تے اودھے ابے نے اوہنوں شکرے دے دماغ دی گھڑتی دتی۔ اوہ بہت بہادر اے۔ کدی پولس دے قابو نہیں آیا۔“

(سنتے ہیں کہ جب منورا پیدا ہوا تو اس کے باپ نے اسے شکرے کے دماغ کی گھٹی دی۔ وہ بہت بہادر ہے۔ کبھی پولیس کے قابو نہیں آیا۔ )

”تم لوگ ایک قانون شکن کو کیوں پسند کرتے ہو؟“
”قانون جن کے لیے ہے اوہ اس دی عزت کرن۔ نہ سانوں اے کج دیندا اے، نہ اسیں اینوں من دے آں۔“
(نہ ہمیں یہ کچھ دیتا ہے، نہ ہم اسے مانتے ہیں۔ )

اس کے بعد کئی دن تک اس کی باتیں ہوتی رہیں۔ چونکہ چوہدری کا نقصان بہت زیادہ ہوا تھا اس لیے پولیس بھی کئی دن تک منورے کو ڈھونڈتی رہی۔

***

برسات شروع ہو گئی تھی۔ اس دن بادل یوں جم کے برسے کہ جل تھل ہو گیا۔ ساون کی موسمی ہوا بارش کی جھڑیاں باندھتی پیچ و تاپ کھاتی ہر چیز کو اڑا کر لے گئی۔ بہت سے درخت گر گئے۔ ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔ واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ آخری بس بند کے اس پار دور سڑک پر کھڑی ہارن دے رہی تھی۔ میں جانے لگا تو وہ سامنے آ گئی۔ کہنے لگی،

”ڈاکٹر صاب! اج رات ادھر ای رہ لو۔ راستہ بہت خراب اے تے اڈے تک جاندے جاندے بس نے وی چلے جانا اے۔“
مجھے اور اسے بھی، پتا تھا کہ بس نے میرا انتظار کرنا ہے لیکن اس کی آنکھوں میں جھانکا تو
دل مچل گیا۔

وہ شام بہت سہانی تھی۔ میں باریک باریک موچھوں کو بل دیتا بیلے کی طرف چل نکلا۔ گیلی پگڈنڈیوں پر پاؤں میرے دل کی طرح پھسل پھسل جا رہا تھا۔

وہ بھی ساتھ چلتے جا رہی تھی۔ ایک ٹیلہ آیا تو شوخی بکھیرتی میرے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔ میری موچھوں کو چھو کر کہنے لگی،

”ڈاکٹر سوہنے! تیری ادھ کتری موچھاں دا جھوٹا خم کسی پینڈو لڑکی نوں زخمی کر سکدا اے، اسے سدھا کر لے۔“
میں نے ہنستے ہوئے اسے پکڑنا چاہا تو بھاگ گئی۔ کہاں تک جا سکتی تھی ہر طرف کیچڑ ہی کیچڑ تھا۔

میں پاس پہنچا تو اپنی سانولی کلائی جس پر جست کی چوڑیوں کی وجہ سے کالک گہری ہو گئی تھی لہراتی ہوئی بولی

”اس بیلے چے کسی قسم دا کوئی ڈنگا پن نہیں چلتا۔ ادھر تیرے حسن و عشق دی کھیڈ نیں چلے گی۔“

وہ مچلتی جا رہی تھی۔ ساری کائنات سمٹ کر اس کے جسم میں ضم ہو گئی۔ وہ بھاگ کر دور چلی جاتی اور پھر قریب آ جاتی۔ بجلی کی سی سرعت تھی، شاید اس سے بھی زیادہ کیونکہ بجلی نگاہوں کے آگے کو ندتی ہے لیکن اس طرح نہیں، برقی رو تیزی سے دوڑ جاتی ہے لیکن اس سرعت سے نہیں۔

”تم نے مجھے پاگل کر دیا ہے۔“ میں چلا اٹھا۔

”میرا وی تجھ پر دل آ گیا تھا ڈاکٹر پر فیر مینوں تجھ پر رحم آ گیا ورنہ ویکھدی تو کنے پانی میں ہے۔“ (کنے، کتنے )

رات کا کھانا بہت اچھا تھا۔ اتنے بڑے کھانے کا اس نے کہاں سے انتظام کر لیا؟ میں یہ سوچے بغیر کھاتا گیا۔ میرا بستر لگا کر کہنے لگی،

”تھوڑا لک سدھا کر لے میں بیلے چوں ہو کے آئی۔“
مجھے حیران پریشان چھوڑ کر بھاگ گئی۔
واپس آئی تو کہنے لگی
”ڈاکٹر صاب، میرے نال چل۔“ (نال، ساتھ)
میں پیچھے پیچھے چل پڑا۔ ہسپتال کی طرف جا رہی تھی۔
ہسپتال میں روشنی تھی اور کچھ لوگ موجود تھے۔ میں پریشانی سے اسے دیکھنے لگا تو بولی،
”منورے نوں گولی لگی سی زخم خراب ہو گیا اے، ذرا دیکھ لے۔“
٭٭٭
اس رات کے بعد وہ مزید خدمت گزار ہو گئی۔
میرا تبادلہ ہو گیا۔ آخری دن میں نے اسے بلایا۔
”صرف ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں، جواب دو گی؟“
”جی!“
”کیا تم اس سے عشق کرتی ہو؟“
”پتا نہیں؟“
”پھر؟“
”اوہ ساڈا ہیرو اے۔“
وہ گردن جھکائے بولتی جا رہی تھی۔

”پولس اودھے پچھے اے۔ جنیاں دی عمر ویسے ای تھوڑی ہندی اے۔“ (پولیس اس کے پیچھے ہے۔ جوان مردوں کی عمر ویسے بھی تھوڑی ہی ہوتی۔ )

”پھر تم خود کو کیوں خراب کر رہی ہو؟“
فراخ سینے پر لٹکتے دوپٹے کے پلو کو سمیٹا۔ اسے اپنے جسم کے گرد لپیٹ کر کہنے لگی،

”کیوں ڈاکٹر جی! جنا، سانوں قانون دے جلم توں بچاندا اے، جے اوہ شودھا پیاسا ہوئے تے اوہنوں پیاسا مرن دیے؟

دو گھٹ جندگی پی لئے گا تے اودھی ترٹ مک جائے گی۔ ساڈا کی وگڑدا اے۔ ”

(وہ بہادر جوان ہمیں قانون کے ظلم سے بچاتا ہے۔ اگر وہ پیاسا ہو تو کیا اسے پیاسا ہی مرنے دیا جائے؟ دو گھونٹ زندگی پی لے گا تو پیاس کی شدت میں کمی آ جائے گی۔ ہمارا کیا بگڑتا ہے۔ )

 

سیّد محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مسئلہ کشمیر
  • گردشِ حال پر کتاب لکھوں
  • دل بصیرت، راز ہے
  • ہم مشکلوں کے میزبان بنے ہوئے ہیں !
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اعصاب شکن!
پچھلی پوسٹ
نئی جہت

متعلقہ پوسٹس

انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں

جنوری 29, 2020

میری منگیتر

مارچ 7, 2022

پھرتے ہو جو تنہا تنہا

اکتوبر 7, 2025

سوچ میں پختگی نہیں ہوتی

مئی 19, 2020

کرب کی زنجیر سے

نومبر 11, 2025

مہینہ دسمبر کا

نومبر 19, 2025

‫ایرانی پلاؤ

جنوری 27, 2020

سماج کی خدمت

دسمبر 27, 2025

شعری مجموعہ – سوچ سفر

مئی 5, 2024

پنجرے سے باہر

مئی 27, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

گلزارِ دل

مئی 27, 2025

نم ہوا خود نہ کوئی موج

مارچ 8, 2025

دھند میں ڈوبی ساری فضا

مئی 28, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں