خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابیٹی، ماں اور نانی
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

بیٹی، ماں اور نانی

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 16, 2023
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 16, 2023 0 تبصرے 52 مناظر
53

دریشہ اپنی ماں اور نانی کے ساتھ جب سمندر کنارے پہنچی تو سورج غروب ہو رہا تھا۔ گلاب کے رنگ میں نہائی کائنات سونے کی طرح چمک رہی تھی۔ سر پر تیرتے لال اور شوخ سرخ بادلوں کا رنگ بیان سے باہر تھا۔ سمندر اتنا شانت تھا جیسے آئینہ۔ سمندری بگلوں کے لہروں کے اوپر اڑتے جھنڈ، ان کے پروں کے اوپر چمکتی دمکتی لال روشنیاں، عجب سماں باندھ رہی تھیں۔ ہوا کی سائیں سائیں، بگلوں کی کائیں کائیں اور ان کے پروں کی پھرپھراہٹ سب مل کر ایک آرکسٹرا بن گئے تھے۔
شام ڈھلتے ہی لوگ واپس جانا شروع ہو گئے۔ بھیڑ چھٹ گئی لیکن ساحل پر اب بھی کچھ شجرممنوعہ کی پھولوں بھری لچکیلی ٹہنیاں لہراتی نظر آتی تھیں۔ کنول کے پھول اور پتے کھا کر پلنے والی جل پریوں سے بھی زیاده نرم و نازک ایسی حسینائیں بھی تھیں جن کا خمار دیکھ کر دل دھڑکنا بھول جاتے ہیں۔ ان کے قہقہوں میں گونجتی نقرئی گھنٹیوں کی آوازیں ہنسی کا صدقہ دے کر اپنے حسن کو ہوس بھری نگاہوں سے پاک کر رہی تھیں۔
ماں کے ہونٹوں پر ایسی ہی ہنسی کھلا کرتی تھی۔ وہ کھل کر ہنستی تو ہونٹ خلد بریں کے در کے کواڑوں کی طرح وا ء ہوجاتے لیکن آج صاف نظر آ رہا تھا کہ وہ ہونٹوں پر پژمردہ ہنسی سجائے، سمندر کنارے بیٹھی ان نظاروں سے لطف اندوز ہونے کا ڈھونگ رچا رہی ہے۔
دو ہفتے پہلے ہی ماں نے بتایا تھا،
’’ ایک ایسا پیڑ جس کے تنے پر سماروغ اپنے پاؤں گاڑ چکی ہو ،اسے اپنی جڑیں مضبوط کرنی ہوتی ہیں، تاکہ سانپ کی ان چھتریوں سے مقابلہ کر سکے۔‘‘

کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد پھر کہنے لگی ، ’’ایک سانپ نے قلوپطرہ کےحسین سینے میں اپنے دانت گاڑ دئیے تھے۔ اب سرطان کا سانپ میری چھاتی پر بیٹھ کر ڈسنے کو تیار ہے۔‘‘

ماں پہلی گلٹی محسوس ہوتے ہی ڈاکٹر کے پاس پہنچ گئی تھی۔ چھاتی کے کینسر کے جینز اس میں موجود تھے۔ نانی اس خطرناک مرض سے جنگ جیت چکی تھی اور اب ماں نے یہ لڑائی لڑنی تھی۔ وہ پُرعزم تھی۔ ڈاکٹرز کا فیصلہ تھا کہ دونوں چھاتیاں کاٹ دی جائیں۔
صبح اس کا آپریشن تھا۔

ماں چالیس برس کی بھرپور عورت تھی اور دریشہ کے سینے پر جوانی کی بہاریں مچلتے چند سال ہی گذرے تھے۔ بیٹی، ماں اور نانی: عورت کی تین نسلیں۔ عورت جو محبت کا استعارہ ہے؛ جس کا بے مثال اور حیرت انگیز سراپا قدرت نے صرف محبت کے لیے بنایا ہے۔ صرف عورت ہی جانتی ہے کہ ان اندام فاخرہ کی کیسے پرورش کرنی ہے، کیسے سنبھالنا ہے؟

سورج چھپ گیا تو لال روشنی آہستہ آہستہ سطح سمندر اور بادلوں پر ماند پڑتی گئی۔ سب لوگ واپس جا چکے تھے۔ پرندے بھی اپنے گھونسلوں میں جا کر خواب غفلت میں کھو گئے۔ آسمان پر شام کا ستارہ بڑی دلکشی سے چمک رہا تھا۔ اب وہ تینوں بالکل تنہا تھیں۔ زمانہ حال کی پُررونق دنیا ماضی بعید کے ساحلی ویرانے میں واپس چلی گئی تھی۔ صرف آکاش کے ٹمٹماتے راہ رو اور سمندر کی چمکتی لہریں ان کا ساتھ نبھا رہی تھیں۔ بوجھل شام کا غم غلط کرنے کے لیے انہوں نے سمندر کا رخ کیا۔ ماں گیلی ریت پر چلتے ہوئے پاؤں سے لکیریں کھینچتی رہی۔ وہ بھی ساتھ ساتھ چل رہی تھیں۔ پھر ماں ریت پر بیٹھ گئی ۔ لہریں اس کے پاس آتیں تو وہ پانی کو ہاتھوں سے چھلکا کر مس پیہم سے لطف اندوز ہونے لگتی ۔ لہر واپس چلی جاتی تو انگلیوں سے یوں موتی ٹپکاتی کہ وہ بھی انہی کا جزو محسوس ہوتے۔ ان کے ساتھ کھیلتے ہوئے وہ بچوں کی طرح بے محابہ ہنس پڑی۔

ہنستے ہنستے اٹھی اور بھاگ کر سمندر کنارے اس چھوٹی سی پہاڑی کی طرف چلی گئی جس کے گرد گھومتی ہوئی لہریں آپس میں ٹکرا کر بھنور بنا رہی تھیں۔ پہاڑی کے اوپر کھڑی ہو کر قمیض اتاری، گردن جھکا کر سینے کو غور سے دیکھا، ہاتھوں سے ان کے لمس کو محسوس کیا ،دمکتے کلس کے مہکتے لمس کی بھینی بھینی خوشبو سے لطف اندوز ہو کر خلیج کے گہرے پانی میں چھلانگ لگا دی۔ دریشہ اور نانی نے پاس پہنچ کر دیکھا تو حیران رہ گئیں۔
وہ چلّا رہی تھی، ہنس رہی تھی، گا رہی تھی۔
ڈبکی لگا کر باہر آتی، آسمان پر چمکتے چاند کو دیکھتی اور اپنے سینے پر ہاتھ پھیر کر دوبارہ پانی کے اندر چلی جاتی۔ سمندر کی موجیں اس کے ساتھ ٹکرا کر سپید کف میں ڈھل رہی تھیں۔ لہروں سے کھیلتی، مجسمہ حسن و جمال بنی یوں لگتی تھی جیسے وینس دیوی سمندر کی کف سے جنم لے کر زمین پر اتر آئی ہے۔ وہ وینس جس کو بجا طور پر اپنے اعضاء کے کمال اعتدال پر ناز تھا، جو محبت کے دیوتا کیوپڈ کی ماں تھی۔ پورا عالم آب جس کے سامنے سجدہ ریز تھا۔ اہل یونان کا عقیدہ تھا کہ وینس سا حسین ہونا گویا خدا ہونا ہے۔

پھر ماں نے آسمان کی طرف منہ کرکے فلوٹنگ شروع کر دی۔ اس کی چھاتیاں بڑی شان سے پانی کے اوپر صابن کے ہلکے پھلکے بلبلے کی طرح تیر رہی تھیں۔ بھنور کے بیچ کمندنی کے پھول کھل اٹھے۔ چاند غرہ و محاق بھول کر قبہء فلک کے بیچ فروکش ہوگیا۔ نور ہی نور تھا، ہر طرف۔ نور کے اس بھنور میں ناؤ کروٹیں لے رہے تھی۔ اک شعاع ماہ تاباں ٹوٹ کر اس کی طرف لپکی اور چوم کر جھومنے لگی۔ ماں غوطہ زن ہوئی تو وہ بھی شرماتی ہوئی سمندر برد ہو گئی۔

اس سے پہلے دریشہ نے ماں کو اس حالت میں نہیں دیکھا تھا۔ ماں کا نرم سینہ اس کی پناہ گاہ تھا۔ اس نرمی کی گرمی کو اس نے سردیوں کی راتوں میں محسوس کیا تھا۔ دریشہ کا ہاتھ پھسل کر اپنے سینے تک پہنچ گیا۔ اس کا خیال تھا کہ محبت کا یہ مضبوط پودا کوملتا کا حامل ہوتا ہے۔ سرطان کا پتا چلنے سے پہلے یہی ٹھوس نرمی اسے بھاتی تھی۔ اب اسے محسوس ہو رہا تھا کہ محبت ارنڈ کا پودا بھی بن جاتی ہے جس کا کانٹے دار پھل ہاتھوں کو زخمی کر دیتا ہے اور بیج انٹریوں کو کاٹ کھاتے ہیں۔

نانی نے بھی قمیض اتار کر دور پھینک دی اور پانی کی طرف چل پڑی۔ نانی کے سپاٹ سینے پر دونوں طرف موجود دو لکیریں کسی حسینہ کے تیکھے نینوں میں موجود کجرے کی دھار کی طرح چمک رہی تھیں۔
دریشہ نے بھی دونوں کے پیچھے ہی تیرنا شروع کردیا۔ وہ ان کے پاس پہنچی تو ماں اپنے سینے کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگی
’’جوبن کی اس بہار کو میں آخری بار چاند کی چاندنی میں، کھلے آسمان کے نیچے دیکھنا چاہتی تھی۔ سمندر کی وسعت میں اسے محسوس کرنا چاہتی تھی۔ ان سے پیار کرنا چاہتی تھی۔‘‘

ماں کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے۔ نمکین پانی کو نمکین سمندر نے پی لیا تھا۔ کہتے ہیں کہ جل پریوں کے آنسو نہیں ہوتے اور ان کا دکھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔ خطہء ارض پر بسنے والے مردوں کے حسن پر فریفتہ یہ نامکمل پریاں ان سے مواصلت کی آرزو دل میں بسائے ترستی رہتی ہیں۔ وہ ان لذات سے آشنا ہو ہی نہیں سکتیں جن سے حوران ِ ارض کی راتیں لبریز ہوتی ہیں اس لیے ان کا غم زمین پر بسنے والوں کے غم کی نسبت کہیں زیادہ گہرا اور تلخ ہوتا ہے۔

سمندری موجوں کا لوچ آنسوؤں کے ساتھ ماں کے دکھوں کو بھی بہا کر لے گیا تھا۔ وہ جل پریوں کی طرح پورا دھڑ پانی سے باہر نکالے کھڑی تھی۔ اس کا سینہ و کمر کا تناسب اور جسم کا نشیب و فراز سمندر میں تلاطم کا باعث بن گیا۔ گیلے سینے کی مغرور اونچائیوں پر پانی کے تھرتھراتے قطرے قدم جمانے کی ناکام کوشش کرتے پھسلتے جا رہے تھے۔ چاند اپنے بھرپور وجود کے ساتھ چادر سیمیں پھیلائے سمندر میں اتر چکا تھا۔ موجیں جن میں ضیاءماہ بس کر رہ گئی تھی، مجسم شام بہاراں کے گرد حلقہ کیے جھوم رہی تھیں۔ ناہید آسماں اس پیار کے شوالا کو روشنی بخش رہا تھا۔ وہ اشعہء صد ستار و ماہتاب کی جگمگاہٹ میں اپنی چھاتیاں کاسۂ دست میں سجائے کھڑی تھی۔ نگاہ ناز سے کبھی انہیں اور کبھی ماہ انوار کو دیکھ رہی تھی۔

دریشہ ٹک دیکھے جارہی تھی۔ حسن عورت کا دوسرا نام ہے۔ کوئی صورت ایسی نہیں جس میں دونوں کو علیحدہ کر کے دیکھا جا سکے۔ جو چیز بھی حسن کا مکمل نمونہ پیش کرتی ہے وہ نسائیت سے خارج نہیں۔ نسائیت کی سب سے بڑی علامت کی اس آب و تاب نے نانی کو بھی مدہوش کردیا۔ بوڑھی عورت نے پھر اپنے سپاٹ سینے کی طرف دیکھا تو اداس ہونے کی بجائے کہنے لگی،
’’تم خوش قسمت ہو کہ تمہاری خوبصورتی برقرار رہے گی۔ میں نے فیصلہ کرتے دیر کر دی اس لیے سب کچھ ہٹانا پڑا۔‘‘
ماں کے چہرے پر رونق لوٹ آئی تھی۔
’’ہاں! ڈاکٹرز نے میرے سینے پر ایمپلانٹس لگا کر خوبصورتی برقرار رکھنے کا وعدہ کیا ہے۔‘‘
’’وہ کس سائز کے ہونگے؟‘‘ دریشہ نے سوال کیا۔
’’تمہاری ان مسمیوں سے بڑے، گریپ فروٹ کے سائز کے۔‘‘ ماں نے دریشہ کے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا۔
بیٹی، ماں اور نانی تینوں ہنستے ہوئے سمندر میں غوطہ زن ہو گئیں۔

 

سیّد محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا
  • بوڑھا تھا مگر عین جوانی میں کھڑا تھا
  • دیودار کے درخت
  • کلر بلائنڈ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
فراوانی سے قلت کا سفر!
پچھلی پوسٹ
ایک یہ دل جو تجھے دے کے گنوا دینے لگا

متعلقہ پوسٹس

استاد دامن

دسمبر 3, 2025

پشیمان

مئی 20, 2020

شیر خوار

مارچ 25, 2025

ننھے بچوں کو موبائل دیں

مارچ 4, 2026

خدا کلام بشر شش جہات مانتا ہوں

جون 15, 2020

اخلاقی روایات کی پائمالی

مئی 13, 2020

اِک خلش ایک تشنگی سی ہے

جنوری 6, 2013

مادی و معنوی ترقی و کمال

فروری 17, 2026

قسط وار ناول بہرام: دوسری قسط

اگست 7, 2022

موجودہ صدی: نسل انسانی کے مٹ جانے کاخدشہ؟

دسمبر 10, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

حیران ہیں سبھی تِری تنویر دیکھ...

دسمبر 12, 2021

پیغام محبت

نومبر 7, 2021

ہلچل

مئی 11, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں