خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےتریاق
اردو افسانےاردو تحاریرایم مبین

تریاق

از سائیٹ ایڈمن جون 3, 2023
از سائیٹ ایڈمن جون 3, 2023 0 تبصرے 50 مناظر
51

رات بارہ بجےکےقریب میٹنگ سےجب وہ گھرآئےتو اُنھوں نےشاکرہ کو بےچینی سےڈرائنگ روم میں ٹہلتا ہوا پایا ۔ اُس کی حالت دیکھ کر اُن کا دِل دھک سےرہ گیا اور ذہن میں ہزاروں طرح کےوسوسےسر اُٹھانےلگے۔ شاکرہ کی بےچینی سےاُنھوں نےاندازہ لگایا تھا کہ کچھ نہ کچھ ہوا ہےجس کی وجہ سےشاکرہ اِتنی بےچین ہے۔

وہ کمرےمیں داخل ہوتےتو شاکرہ نےسر اُٹھا کر اُن کو دیکھا‘ اُس کےہونٹوں پر ایک پھیکی سی مسکراہٹ اُبھری اور پھر اُس نےاپنا سر جھکا لیا ۔

جیسےوہ بہت کچھ اُن سےچھپانا چاہتی ہو ۔ اگر نظریں مل گئیں تو اُسےڈر ہےکہ وہ اُس کی آنکھوں سےسب کچھ پڑھ لیں گے۔

” کیا بات ہے‘ تم ابھی تک سوئی نہیں ؟ “ اُنھوں نےشاکرہ سےپوچھا ۔

” نہیں ‘ نیند نہیں آرہی ہے۔“ شاکرہ نےجواب دیا ۔

”سب ٹھیک تو ہے؟ “ اُنھوں نےاپنےدِل پر جبر کرکےپوچھا ۔

” عادل کی حالت بگڑتی جارہی ہی۔ “ شاکرہ نےایک ایک لفظ کو چبا کر کہا ۔ ”مسلسل دو گھنٹےسےچیخ چیخ کر اُس نےسارےبنگلےکو سر پر اُٹھا لیا تھا ۔ پڑوس کےبنگلوں تک اُس کی چیخیں جارہی تھیں اور وہ لوگ بھی انکوائری کےلئےآرہےتھے۔ کمرےکی ہر چیز کو اُس نےتہس نہس کردیا ہے۔ مجبوراً ڈاکٹر کو بلا کر اُسےنیند کا انجکشن دینا پڑا ‘ لیکن ڈاکٹر کہتا ہےاِس انجکشن سےمضبوط سےمضبوط آدمی دس گھنٹوں تک سویا رہتا ہے‘ لیکن عادل کی جو حالت ہے‘ وہ جس اسٹیج میں ہے‘مجھےڈر ہےکہ دو گھنٹےبعد ہی اِس انجکشن کا اثر ختم ہوجائےگا اور اِس کی حالت پھر اُسی طرح سےہوجائےگی ۔ میرا مشورہ ہےکہ اب اس پر اور زیادہ جبر نہ کیا جائے۔ وہ جو ڈوز لیتا ہےاسےدےدیا جائےاسی سےوہ نارمل ہوسکتا ہےایسی حالت میں زیادہ دِنوں تک رہنےسےاُس کی جان کو خطرہ پیدا ہوسکتا ہی“

شاکرہ کی باتیں سن کر اُن کا دِل ڈوبنےلگا ۔ اُنھوں نےشاکرہ کو کوئی جواب نہیں دیا اور بےاِختیار عادل کےکمرےکی طرف بڑھ گئے۔

عادل پلنگ پر بےخبر سورہا تھا ۔

اُس کی اور کمرےکی حالت دیکھ کر وہ کانپ اُٹھے۔

کمرےمیں کوئی بھی چیز ٹھکانےپر نہیں تھی ۔ ہر چیز بکھری یا ٹوٹی ہوئی تھی ۔ عادل کےسر کےبال نچےہوئےتھےاُس کےچہرےاور جسم پر کئی مقام پر زخموں کےنشانات تھے۔

اُنھیں پتہ تھا جنون کےعالم میں عادل نےاپنےآپ کو ہی زخمی کیا ہوگا ۔ ایسی حالت میں خود کو اذیّت پہنچانےسےہی اُسےسکون ملتا ہے۔

زیادہ دیر وہ اور عادل کو دیکھ نہیں سکےاور تیزی سےکمرےکےباہر آگئے۔ شاکرہ کےضبط کا باندھ ٹوٹ گیا تھا ۔ اچانک وہ پھوٹ پھوٹ کر رونےلگی ۔ اُس نےاپنےدونوں ہاتھوں سےاپنا چہرہ چھپا لیا تھا ۔

” خداکےلئےاب عادل پر اور کوئی جبر مت کیجئے۔ وہ جس حالت میں جیتا ہےاُسےاُسی حالت میں زندہ رہنےدیجئے۔ کم سےکم وہ ہماری آنکھوں کےسامنےتو رہےگا ۔ ورنہ ایسی حالت میں وہ ایک دِن مرجائےگا ۔ اگر اُسےکچھ ہوگیا تو میرا کیا ہوگا ؟ میری ایک ہی تو اولاد ہے۔ یہ ہماری زمین ، جائداد ، دھن ، دولت سب عادل ہی کا تو ہے۔ وہ اکیلا ہی اِن سب کا وارث ہے‘ جب وہی نہیں ہوگا تو پھر اِن چیزوں کا کیا فائدہ ؟ آپ نےکس کےلئےیہ سب کمایا ہے‘ عادل کےلئےہی نا ؟ پھر عادل کی زندگی کےدُشمن کیوں بن رہےہیں ، وہ جو چاہتا ہےاُسےدےدیجئے۔ “

” تم مجھےعادل کی زندگی کا دُشمن کہہ رہی ہو ؟ “

شاکرہ کی بات سن کر اُن کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

” عادل میری اکلوتی اولاد ہے۔ یہ سب کچھ میں نےاُسی کےلئےتو کمایا ہے۔مجھ سےاپنی اولاد کا پل پل مرنا دیکھا نہیں جاتا ۔ اُس کی پل پل موت میرےلئےاِتنی بڑی سزا ہےجسےمیںبیان نہیں کرسکتا ۔ مجھ سےاِس کی تڑپ دیکھی نہیںجاتی اور بس اِسی لئےاپنےآپ پر جبر کرتا ہوں ‘ باپ ہوں نا۔سوچتا ہوں وہ اسی طرح تِل تِل مرنےکےبجائےایک بار مر جائےتو اسےبھی اس عذاب سےنجات مل جائےاورہم بھی صبر کرلیں گے۔ “

” آپ ایسا کیوں سوچتےہیں ؟ خدا ہمارےبچےکو شفا دےگا ۔ “

اُن کی بات سن کر شاکرہ تڑپ اُٹھی ۔

” اگر خدا ہمارےبچےکو کوئی بیماری دیتاتو اُس کی ذات سےہمیں شفا یابی کی اُمید ہوتی ۔ لیکن یہ روگ تو ہمارےبیٹےنےخود پالا ہےاور میں سمجھتا ہوں ‘ اِس کا ذمہ دار ہےتمہارا بےجا لا ڈ و پیار اور میری کاروباری مصروفیات

میرےکاروبار نےمجھےاِتنا وقت نہیں دیا کہ میں اپنےکاروبار کےساتھ ساتھ اپنی توجہ اپنےبیٹےپر بھی دےسکوں اور تمہارےلئےتو وہ تمہاری اکلوتی اولاد تھی ۔ اُس کی ہر جائز ، ناجائز فرمائش تمہارےسر آنکھوں پر تھی ۔ بس یہی زہر تھا جو اُس کی شریانوں میں بہتا گیا اور اُس کےوجود کا ایک حصّہ بن گیا ۔ “

شاکرہ نےکوئی جواب نہیں دیا وہ سسکتی رہی ۔

اُنھوں نےاندازہ لگالیا تھا عادل کی کیا حالت ہوگی ۔

ڈوز کا وقت پورا ہوگیا تھا اور اُسےاس کی سخت ضرورت تھی ۔

وہ ٹال رہےتھے‘چاہ رہےتھےکہ عادل خود میں قوتِ اِرادی پیدا کرےاور وہ اس نشےکی گرفت سےباہر نکلنےکی کوشش کرے۔

دو دِن سےعادل اُن کےسامنےگڑگڑا رہا تھا ۔

”ڈیڈی ! مجھےپیسےچاہیے، مجھےپانچ ہزار روپیوں کی سخت ضرورت ہے۔ پلیز مجھےپانچ ہزار روپےدےدیجئے، میں آپ سےوعدہ کرتا ہوں ، میں مہینہ بھر آپ سےپیسہ نہیں مانگوں گا ۔ “

لیکن اُنھوں نےپیسہ نہیں دیا ۔

اِس بار اُنھوں نےاِس بات کا بھی خاص خیال رکھا تھا کہ عادل کےپاس کوئی قیمتی چیز نہ رہے، جسےفروخت کرکےوہ پانچ ہزار روپےحاصل کرلےاور اُس سےاپنی من چاہی مراد حاصل کرلے۔

اُنھوں نےشاکرہ کو بھی سخت تاکید دےرکھی تھی ۔

” خبردار ! اگر تم نےاُسےپیسےدئےتو ۔ اگر مجھےپتہ چلا کہ تم نےاُسےپیسےدئےتو میں تمہیں گھر میں نہیں رکھوں گا ۔ “

وہ دیکھنا چاہتےتھےکہ عادل اِس زہر کےبنا کتنےدِنوں تک رہ سکتا ہے۔

لیکن ایک دِن میں ہی عادل کی وہ حالت ہوگئی تھی کہ اُسےدیکھ کروہ خود بھی گھبرا گئےتھے۔

اُنھوں نےڈاکٹر کو فون کرکےاِس سلسلےمیں گفتگو کی ۔

” باقر صاحب ! آپ کی کوشش بےکار ہے، عادل آخری حدوں کو پار کرچکا ہے۔ اب وہ زہر ہی اُسےزندہ رکھےگا ۔ آپ اپنےبیٹےکی زندگی چاہتےہیں تو اسےوہ زہر دےدیجئے۔ اُس کی زندگی بڑھ جائےگی۔ آپ جتنےدِنوں تک اُسےاس زہر سےدُور رکھیں گے‘ اُس کی زندگی کم سےکم ہوتی جائےگی ۔ “

” ڈاکٹر ! قیمتی سےقیمتی نشہ آور شراب ، گرد ، چرس ، افیم اور اسمیک ’ کیا کسی سےبھی کام نہیں چل پائےگا ؟ “

” باقر صاحب ! ناگ کےزہر میں جو نشہ ہوتا ہےوہ ایک ہزار شراب کی بوتلوں میں بھی نہیں ہوتا۔ اور جو شخص ناگ کےزہر کےنشےکا عادی ہو آپ اُسےشراب کی بوتل سےبہلانےکی کوشش کررہےہیں ؟ آپ کی یہ کوشش بےکار ہےباقر صاحب ! اپنےبیٹےکی زندگی سےمت کھیلئے۔ اگر آپ اُسےزندہ دیکھنا چاہتےہیں تو اُسےزہر دیجئے زہر ناگ کا زہر ! “

عادل کےلئےاُنھوں نےدُنیا کےبڑےبڑےڈاکٹروں سےرابطہ قائم کیا تھا ۔

لیکن اُنھیں ہر طرف مایوسی ہی ملی تھی ۔ ایک دو ڈاکٹروں نےدِلاسہ دیا تھا مگر اِس بات کی اُمید نہیں دِلائی تھی کہ عادل اچھا ہوجائےگا۔

اپنےکمرےمیں آنےکےبعد وہ کمرےمیں ٹہلنےلگے۔

نیند اُن کی آنکھوں سےکوسوں دُور تھی ۔ شاکرہ بستر پر لیٹی تھی ، نیند اُس کی آنکھوں میں بھی نہیں تھی ۔

اُنھیں پتا تھا سوکر کوئی فائدہ نہیں ۔

تھوڑی دیر بعد ہی اُنھیں اُٹھنا پڑےگا ۔

نیند سےجاگنےکےبعد عادل وہ ہنگامہ مچائےگا کہ سارا محلہ جاگ جائےگا ۔

سب کچھ کیسےہوگیا۔ اب سوچتےہیں تو کچھ بھی سمجھ میں نہیں آتا۔ڈاکٹروں کاکہنا ہےکہ عادل کو ٢١ ، ٥١ سال کی عمر سےنشہ کی لت ہے۔

وہ باقاعدگی سےاسکول اور کالج جاتا تھا ۔ دِن ، دِن بھر گھر سےغائب رہتا تھا اور رات دیر سےگھر آتا تھا ، ماں پوچھتی تو بتادیتا تھا کہ اس دوست کےساتھ تھا یا اُس دوست کےساتھ تھا ۔ شاکرہ عادل کی یہ آوارگیاں اُن سےچھپاتی رہتی تھی ۔

عادل کو خرچ کےلئےوہ بھی پیسےدیتےتھےاور شاکرہ بھی ۔بس ان ہی پیسوں کی وجہ سےوہ غلط صحبت میں پڑ گیا ۔

پہلےدوستوں نےاُسےبیئر پلائی پھر وہسکی ۔

پھر اسےچرس ، افیون ، گانجا ، اسمیک اور گرد کا چسکہ لگایا ۔ ایل ۔ ایس ۔ ڈی اور دُوسری نشہ آور چیزوں کےٹیکےوہ لینےلگا ۔

اور انھیں اِس کا پتہ ہی نہیں چل سکا ۔

اسکول میں کبھی فیل ہوتا تو کبھی ان کےرسوخ ، وسیلےسےپاس ہوجاتا ۔

کالج میں بھی یہی حال تھا ۔ اُنھوں نےاُسےکوئی ٹیکنیکل یا بڑےکورس میں داخل نہیں کیا تھا ۔

وہ اُس کی ذہنی سطح سےاچھی طرح واقف تھے۔

اِن کا خیال تھا اگر عادل گریجویشن بھی کرلےاور اُن کا کاروبار اگر سنبھال نہ سکےتو کم از کم اس میں اُن کاہاتھ ہی بٹائےتو کافی ہے۔ اُنھوں نےاُسےاچھےکالج میں داخل کیاتھا ۔

لیکن اس کی کارکردگی مایوس کن ہی رہی ۔ ایک ہی کلاس میں دو دو تین تین سالوں کا قیام اس کا معمول بن گیا ۔

جب وہ اُس کےبارےمیں اپنےدوستوں سےبات کرتےتو دوست اُسےتسلّی دیتےتھے۔

” بچوں میں جب تک ذمہ داری کا احساس نہ ہو وہ دِل سےکوئی کام نہیں کرپاتےہیں ۔ ہمارےبچوں کو پتہ ہےکہ پڑھنےکےبعد کچھ کرکےہی وہ اپنا اور ہمارا پیٹ بھر پائیں گے۔ اِس لئےوہ پڑھائی میں دھیان لگاتےہیں ۔ عادل کےساتھ ایسا کچھ نہیں ہے، اُسےپتہ ہےکہ اُس کےباپ نےاُس کےلئےاتنا کمایا ہےکہ اُس کی سات پشتیں بھی بیٹھ کر کھائیں گی ۔ اس لئےلاپرواہ ہوگیاہے۔پڑھائی میں دھیان نہیں دیتا ۔ کاروبار میں لگادو سب ٹھیک ہوجائےگا ۔

لیکن اُنھیں عادل کو کاروبار میں لگانےکی نوبت نہیں آسکی ۔

اِس دوران اُنھیں پتا چلا کہ عادل ڈرگس لیتا ہےاور نشےکا عادی ہوگیا ہے۔

کئی بار نشےکی وجہ سےیا نشہ نہ ملنےکی وجہ سےاس کی حالت خراب ہوئی ۔

ڈاکٹروں کو بتایا گیا ۔ کئی بار اسےاسپتال میں داخل کیا گیا تھا ۔ لیکن ڈاکٹروں نےصاف جواب دےدیا تھا ۔

” عادل نشےکی آخری حد پار کرچکا ہے‘ اُس سےنشہ چھڑانا بہت مشکل ہے۔ اب اگر یہ کوشش کی گئی تو اُس کی زندگی کو خطرہ پیداہوسکتا ہے۔

ایک دوبار مہنگےاسپتالوں میں رکھ کر عادل کےنشےکی لت چھڑانےکی کوشش کی گئی ۔

جب تک وہ اسپتال میں رہا ،نشےسےدُور رہا ‘ لیکن گھر آتےہی سب کی نظریں بچاکر آخر نشےکےاڈّےپر وہ پہنچ ہی گیا اور سارےکئےکرائےپر پانی پھیر گیا ۔

وہ بڑی اُلجھن میں تھے۔

عادل پر توجہ دیتےتو کاروبار بدنظمی کا شکار ہوتا ۔

کاروبار پر توجہ دیتےتو عادل کی حالت بگڑتی جاتی تھی ۔

شاکرہ کو تو وہ بالکل خاطر میں نہیں لاتا تھا ۔ کئی بار وہ اُس پر ہاتھ اُٹھا کر جانوروں کی طرح مار چکا تھا ۔ یہ بات شاکرہ نےاُن سےچھپائی تھی ۔ نشےمیں اُسےکچھ ہوش نہیں رہتا تھا ۔ کہ سامنےاُس کی ماں ہےیا باپ ہے۔ اور نشہ نہ ملنےپر بھی وہ پاگل ساہوجاتا تھا ۔

شاکرہ سےوہ نشہ کےلئےپیسہ لیا کرتا تھا ۔شاکرہ بھی ترس کھاکر اُس کو پیسےدےدیتی تھی ۔ کم سےکم نشےمیں تو وہ سکون سےرہے، لیکن آخر وہ نشےکی آخری حد کو پہونچ گیا ۔

نشہ حاصل کرنےکےلئےوہ اپنےآپ کو ناگ سےڈسوانےلگا ۔

ناگ سےڈسوانےکےبعد ایک ماہ تک وہ بالکل نارمل رہتا ۔ ناگ کےزہر کا نشہ ایک ماہ تک اُسےمسرور رکھتا ہےلیکن زہر کا اثر ختم ہوتےہی اُس کی حالت پاگلوں سی ہونےلگتی اور جب تک وہ اپنےآپ کو ناگ سےڈسوا نہیں لیتا اُسےسکون نہیں ملتا تھا ۔

اور خود کو ناگ سےڈسوانےکےلئےوہ پانچ پانچ ہزار روپیہ تک دیتا تھا ۔

پچھلی بار اُس نےجب خود کو ناگ سےڈسوایا ہوگا اُسےشاید ایک ماہ ہوگیا ہوگا ۔ نشہ اُتر گیا تھا اِس لئےاُس کی حالت پاگلوں سی ہورہی تھی

دو گھنٹےبعد انجکشن کا اثر ختم ہوگیا تھا ۔

عادل پھر جاگ اُٹھا تھا اور اُس نےہنگامہ کھڑا کردیا تھا ۔

اُنھوں نےاُسےکمرےمیں ہی بند کرکےرکھا ۔

وہ جانتےتھےکہ اکیلا کمرےمیں بند ہونےپر وہ اپنےآپ کو مار مار کر زخمی کرلےگا ۔

لیکن اُسےکھلا چھوڑنا اُس سےبھی زیادہ خطرناک ہوگا ۔ وہ سویرا ہونےکی راہ دیکھنےلگے۔

دِن نکلتےہی جیسےہی اُنھوں نےعادل کےکمرےکا دروازہ کھولا ‘ عادل اُن کا گلا دبانےکےلئےدوڑا ۔

” عادل ! چلو میں تمھیں ناگ سےڈسوانےلےچلتا ہوں ۔ “

یہ سنتےہی عادل کا سارا غصہ ، جوش ٹھنڈا پڑگیا ۔

وہ اُسےکار میں بٹھا کر چل پڑے۔ عادل اُنھیں راستہ بتاتا رہا ۔

ایک جھونپڑپٹّی کےپاس تنگ و تاریک گلیوں سےہوکر وہ ایک ٹوٹےجھونپڑےکےپاس پہونچے۔

” ارےعادل سیٹھ ! اِس بار لیٹ ہوگیا ؟ “

” چلو جلدی لاو

! مجھ سےبرداشت نہیں ہورہا ہے۔ “ عادل چیخا ۔

” پہلےمال نکال ! “ وہ آدمی بولا ۔ عادل نےاُن کی طرف دیکھا ۔ اُنھوں نےپانچ ہزار روپےاُس آدمی کی طرف بڑھادئے۔

وہ آدمی اندر گیا ‘ واپس آیا تو اُس کےہاتھ میں ایک سانپ کی پٹاری تھی ۔ عادل زبان باہر نکال کر کھڑا ہوگیا ۔

اُس آدمی نےپٹاری کا ڈھکن کھولا ۔اُس میں سےایک کالےناگ نےپھن اُٹھایا ‘ اُس نےچاروں طرف دیکھا اور پھر عادل کی زُبان پر ڈس لیا ۔

اُن کےمنہ سےچیخ نکل گئی ۔

عادل کےمنہ سےبھی چیخ نکلی مگر یہ مسرت اور لذت بھری چیخ تھی ‘ وہ سر سےپیر تک پسینےمیں نہاگیا اور پھر لہراتا ہوا اُن کےساتھ چل دیا ۔

اُنھوں نےجاتےہوئےمڑ کر اُس آدمی اور پٹاری کےناگ کو دیکھا ۔

جس کا زہر اُن کےبیٹےکےلئےتریاق تھا ۔

 

ایم مبین

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • صحرائے گوبی کا طلسم
  • جوانی
  • رام کھلاون
  • دیوالی کے دِیے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
جمود فکر پر تازیانہ برساتے اختصارئیے
پچھلی پوسٹ
جلاوطن

متعلقہ پوسٹس

پیٹو پیٹریاٹ اور جنک فوڈ کی جنگ

نومبر 28, 2024

عالمی فلوٹیلا

اکتوبر 2, 2025

بلوچستان کے تعلیمی نظام کی ان کہی داستان

دسمبر 14, 2025

پاکستانی بچوں کا تحفظ

ستمبر 6, 2025

زندگی میں اک موڑ

جنوری 3, 2026

سودا بیچنے والی

جنوری 23, 2020

جھوٹن

دسمبر 28, 2019

منٹو کی شادی

اکتوبر 22, 2019

والد صاحب

فروری 15, 2020

نادان ادھاری کا خط

اکتوبر 14, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اُردو کی مخالفت: قومی یکجہتی پر...

ستمبر 21, 2025

ذیابیطس

مارچ 11, 2025

شیخوپورہ کا ضمنی انتخاب: جیت کس...

جولائی 15, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں