116
نایاب اس قدر مجھے تحفہ نہ دیجیے
صحرا کو منہ دکھائی میں دریا نہ دیجیے
تعبیر میرے خواب کی ہو جاۓ گی اُلٹ
سو دشمنی نبھائیے بوسہ نہ دیجیے
چوسا ہے خون آپ نے ہر دم غریب کا
رُکیے حرام مال سے صدقہ نہ دیجیے
مت ہاتھ میرے خون سے رنگین کیجیے
میں کہہ رہا ہوں آپ سے حصہ نہ دیجیے
گر چاہتے ہیں آپ سکوں ہمرکاب ہو
دل کی زمین پر اسے قبضہ نہ دیجیے
میں خود ہی لیٹ جاوں گا مٹی کی گود میں
کچھ فاصلے کی بات ہے کندھا نہ دیجیے
فرہاد پھر کہانی میں ہوگا براۓ نام
سنیے ہمارے ہاتھ میں تیشہ نہ دیجیے
گھڑیاں نزول شعر کی ہیں انتظار میں
ماجد نمازِ عشق میں وقفہ نہ دیجیے
ماجدجہانگیر مرزا
