خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباڈارون کا نظریہء ارتقاء اورجدید سائنس
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمز

ڈارون کا نظریہء ارتقاء اورجدید سائنس

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 20, 2022
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 20, 2022 0 تبصرے 49 مناظر
50

ڈارون کا یہ نظریہ”دنیا کی تخلیق حادثاتی ہے،اور انسان کا ارتقاء بندر سے ہے“گذشتہ 150 سال تک اس دنیا میں قائم رہا، ڈارون نے 1859 ء میں یہ نظریہ پیش کیا تھا، جسے غیر معمولی شہرت اور پذیرائی حاصل ہوئی تھی، اس نظریہ کو شہرت اس کے مرکزی مفہوم کے تئیں ملی، سائنسی طور پر اس نظریہ کی کوئی بنیا د نہ تھی، مادیاتی لحا ظ سے یہ نظریہ مقبول عام ہوا، مادہ پرست نظریہ کے خالق کارل مارکس نے چالس ڈارون کے اس نظریہ کو خراج تحسین پیش کیا، موجودہ سائنس ڈارون کے وقت ابتدا ئی مراحل میں تھی، سائنس نے اپنی تحقیق جاری رکھی، تاکہ انسانی ارتقاء کا بخوبی پتہ چل سکے، جدید سائنس نے زمین سے برآمد مختلف فوسل (Fossil) قدیم انسانی ہڈیوں، پتھروں اور دیگر معدنیات کے تجزیہ کے بعد 2007 ء میں ڈارون کے مذکورہ نظریہ کو مسترد کردیا،
ڈارون کا نظریہ ء ارتقاء سے خواہ کلیسائی دنیا کو ضرب کاری لگی ہو اور اس کی طرف سے اس نظریہ کی شدید مخالفت کی گئی ہو، تاہم عمومی طور پر یوروپی عوام میں اس نظریہ سے غیر معمو لی خوشی پیدا ہوئی، اس وقت یورپ کا سائنسی سفر علاقہ اور وقت کے حصار تک محدود تھا، مادی فلسفہ یورپ کا جادو بن گیا تھا، ساری دنیا پر یورپ کا سحر طاری تھا، ایشیاء اور آفریقہ میں اس کی کالونیاں قائم ہوچکی تھیں، اسٹیم پاور (Power Steam)کی ایجاد سے صنعتی انقلاب اور آمد ورفت کے تیز ترین وسائلdarwin سے یورپ کا نسلی غرور بام عروج پر پہنچ گیا تھا،ایسے ترقیا تی ماحول میں ڈارون کا نظریہء ارتقاء ان کے نسلی غرور کے لئے فالِ نیک ثابت ہوا، اور نظریاتی کشمکش میں فطری نظریہ کو یورپی محققین نے خوش دلی سے قبول کیا، ایک طرف ہر برٹ اسپنسر اورٹی ایچ ہکسلے جیسے نسل پرست دانشوروں نے اس نظریہ کو حیوانی دنیاسے آگے منتقل کرکے سماجی علوم کے حلقے میں انسانی تہذیب کے روپ میں متعارف کیا، کارل مارکس اور اینجلس نے اسے جسمانی محنت ومشقت، مادہ پرستی اور طبقاتی کشمکش کے فروع کیلئے استعمال کیا۔
جس سال ڈارون (Charles Darwin) کی اور جن آف اسپیسز (The Origin of Species) نامی کتاب شائع ہوئی، اسی سال کارل مارکس (Karl Marx) کی کریٹک آف پا لٹیکل اکانو می (The Critique of political Economy) نامی کتاب بھی منظرِ عام پر آئی، ڈارون کی مذکورہ کتاب کے بالاستیعاب مطالعہ کے بعد مارکس نے 19 دسمبر 1860ء کو اینجلس (Engels – 1820- 1895) کو خط لکھا کہ یہ کتاب میرے ذاتی نظریات کے لئے فطری تاریخ کی نشاندہی کرتی اور مستقبل کیلئے اہم پیش گوئی کا درجہ رکھتی ہے،
کارل مارکس نے 16 جنوری 1861ء کو اپنے ایک دوست ایف لاس سیل کو لکھا کہ ڈارون کی کتاب اہم ترین کتاب ہے جوکہ قدرتی اور تاریخی لحاظ سے سائنسی بنیاد پر طبقاتی کشمکش کے نظریہ کی تفہیم کے لئے مجھے ایک کار آمدکتاب محسوس ہوئی، 1871ء میں جب دی ڈی سینٹ آف مین (Descent of man) نامی کتاب شائع ہوئی تو اس کی بنیاد پر اینجلس نے ایک مضمون لکھا، جس کا

2
عنوان تھا، بندر کے انسان بننے میں محنت کا نتیجہ۔
مارکس پر ڈارون کے نظریہء ارتقاء کا اتنا زیادہ اثر ہوا کہ اس نے اپنی بیحد مشہور کتاب داس کیپٹل (Das kapital) کے ایک باب کو ڈارون کے نام انتساب کرنا چاہا، تاہم ڈارون نے 13اکتوبر1880ء کو اپنے ایک خط کے ذریعے اس انتساب کو نامنظور کردیا، کیونکہ اسے مارکس کی مذکورہ کتاب کے موضوع کا کوئی علم نہ تھا، ایسا قطعاً نہیں کہ مارکس کو ڈارون کے عزائم پر مبنی سیاسی سر زمین کی واقفیت نہ تھی، مارکس نے 15 فروری 1869 ء میں اپنی ایک لڑکی لارا اور اس کے شوہر”لاکا نے“کے نام لکھے خطوط میں اظہار کیا تھا کہ واقعی اس وقت انگریز معاشرہ پر اشتراکیت کی سنگین دیوانگی طاری ہے، اور اسی نے ڈارون کو حیوانات ونباتات کے قدرتی تنوع پر تجربات کا موقع فراہم کیا ہے، مارکس نے مزید لکھا تھا کہ اس عظیم سائنٹفک نظریہ کا ڈارون ازم سے منسلک لوگوں نے بیجا استعمال کیا، ایک امریکی نژاد سائنس داں لیوس ہیزی مارگن نے 1877ء میں نظریہء ارتقاء پر اپنا مشہور انشائیہ انشینٹ سوسائٹی (معاشرہئ قدیم) شائع کیا، جس میں اس نے انسان کے ارتقائی سفر کو سفاک دور سے عدل پسند دور کی طرف منتقلی قرار دیا، اور اس کے چار مراحل ذکر کئے، مارکس اینجلس نے اس کتاب کی بیحد تعریف کی، اور اسی کو بنیاد بنا کر اس نے 1884ء میں اپنی مشہور کتاب,, خاندان، دولت اور ریاست کا وجودلکھ کر شائع کی،تا ہم ایک نا تمام اور غیر سائنسی نظریہ پر قائم محل کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے ؟ اس کا مشاہدہ سوویت یونین اور ماؤ کے چین میں مارکسزم کے صدیوں تک جاری نظریہ کی صورت میں ہوچکا ہے، مغرب کا سائنسی سفر بھی 19 ویں صدی کے مادی حدود کو عبور کرتا ہوا بہت آگے جا چکا ہے، شروڈینگر، ردرفورڈ، جیمس جنس، فریڈ ہویل، ڈیوڈبوم ،فٹجونف کا پرا وغیرہ متعدد سائنسدان ملک اور زمانہ سے بے نیاز ہوکر عالمی حاکمیت کی بات کرتے رہے، ہندوستان کے مشہور سائنسدان جگدیش چندر بسونے سائنس آف دی اسٹر کچر آف پلانٹس اور معدنی اشیاء میں حِسّ (Sense) کے وجود کو نسلی بنیاد پر اپنے تجربات کے ذریعے عملی طور پر دکھایا تھا،
عہد قدیم میں ایک ہندوستانی خاتون منیشانے ذی روح دنیا کی مختلف چیزوں کی نشاندہی کے لئے 33 اقسام کے نر اور مادہ کی بات پیش کی تھی،پیدائشی بنیاد پر اس نے ذی روح کو چار حصوں میں تقسیم کیا تھا، اول: انڈے سے پیدا ہونے والے ۲ : بچہ دانی سے پیدا ہونے والے ۳: زیر زمین پیدا ہونے والے ۴: اور زمین پر پیدا ہونے والے(پودے)
ذی روح کی یہ چاروں نسلیں اہم اور قوی ہیں جوکہ ہمیشہ اپنے حال پر بر قرار رہیں گی (یعنی ہمیشہ اپنے ابتدائی مادے کے عین مطابق رہیں گی) ان میں کبھی تبدیلی نہیں آئے گی، اس سے ڈارون کے اس نظریہ کا قلع قمع ہوجاتاہے کہ تمام ذی روح حتٰی کہ نباتات کا وجود کسی ایک ذی روح سے ہوا ہے، اور ایک ہی ماں باپ سے پیدا شدہ اولاد میں اوصاف، صلاحیت اور فہم و فراست کے غیر معمولی فرق
کا کوئی حل ڈارون کے نظریہ ء ارتقاء میں موجود نہیں ہے،
مختصر طور پر یوں کہا جاسکتا ہے کہ ڈارون کے نظریہء ارتقاء کا وجود انیسویں صدی کے یوروپی کبر وغرور اور ان ڈیڑھ سوسالوں میں سائنسی ترقی اور انسانی نسل پر تجربات کی روشنی میں انسان اور اسکی پیدائش کا نظریہ ناقص معلومات پر مبنی ہے،اور حیرت ہے کہ مارکس اور
3
اینجلس جیسے سماجی ماہرین ایک غیر سائنسی نظریہ کے فریب میں آگئے، مادہ پرستی کے نظریہ کے خالق کارل مارکس نے ڈارون کے نظریہء ارتقاء کو خراج تحسین پیش کیاتھا، حالانکہ چا رلس ڈارون کے پاس نظریہء ارتقاء کے لئے کوئی سائنسی ثبوت موجود نہ تھا، جس کی بنیاد پر وہ اپنے نظریہء ارتقاء کو تقویت فراہم کرتے،ارتقائے حیات انسانی کے طبیعی اور کیمیائی تجزیاتی مراحل کے بعد % 86 فیصد رائے عامہ نے ڈارون کے نظریہ کو ناقابل قبول قرار دیا، اور 150 سال تک اس دنیا میں قائم یہ نظریہ جدید سائنسی تحقیقات کی روشنی میں کالعدم ہوگیا، سائنس نے گذشتہ ڈیڑھ سوسال میں کچھ اس طرح ترقی کی ہے کہ ماضی کے سائنسدانوں کی غلطیاں آشکار ہوگئی ہیں، اور نظریہء ارتقاء کے بالمقابل یہ نظریہ سچ ثابت ہوا کہ انسان بہترین ساخت میں پیدا کیا گیا ہے، یعنی انسان تمام حیوانات سے بالکل منفرد پیدا ہوا ہے،
سائنس کے پاس ابھی تک کوئی ایسا طریقہ نہیں ہے جو یہ طے کرسکے کہ انسان بندر کی بدلی ہوئی ارتقائی شکل ہے، بیسویں صدی کے ساتویں عشرے میں ڈارون نے ایک نظریہ پیش کیا تھا کہ انسان کا ارتقائی سفر کس طرح ہوا، اس نے انسان کو بندر کی بدلی ہوئی ارتقاء پذیر شکل قرار دیاتھا، حالانکہ زمانہ قبل از تاریخ سے متعلق مقامات پر کی جانے والی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اس زمانے میں بھی اسی طرح کے انسان تھے، جس طرح آج ہیں، پوری انسانی تاریخ میں انسان کے بندر سے ارتقاء پذیر ہونے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں ہوا،سائنسدانوں کو ابھی تک نہیں معلوم ہوا کہ شعور کیا ہے؟ اور کس طرح کام کرتاہے، شعور ایک ایسی خصوصیت ہے جوکہ جنیز کے ذریعے نسل در نسل انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، سب سے حیران کن عضو انسانی دماغ ہے، یہ سب سے اہم عضو ہے، سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ عضو ہی وہ خصوصیت ہے جو انسان کو حیوان سے ممتاز کرتی ہے، تقریبا دو لاکھ سا ل اس کرہء ارض پر گذارنے کے بعد انسان نے کافی کچھ جان لیا ہے، سائنس کی اس قدر غیر معمولی ترقی کے باوجود ہنوز انسان کے جسم کے بارے میں تمام حقائق کا علم نہیں ہوسکا ہے، بعض ایسے سادہ سے سوالات ہیں جن کے ٹھوس جوابات ابھی تک معلوم نہیں ہوئے، ان سوالوں کے بارے میں صرف اندازے، قیاسات،اور مفروضے ہیں، سوالات کے جوابات آج بھی تشنہ ہیں،
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ1859 ء میں جب ڈارون نے نظریہء ارتقاء (The ory of evol ition) پیش کیا تھا، اس وقت برطانیہ میں ہندوستان کی عظیم تحریک انقلاب (عذر 1857ء) کو بربریت پر شرافت کی فتح قرار دیا جارہا تھا، اور مقبوضہ ہندوستان انتقام کی آگ میں جل رہا تھا، جس طرح ڈارون کے نظریہء ارتقاء کا احتساب کیا گیا، آج ضرورت ہے کہ اس بربریت کا بھی احتساب کیا جائے،

ظفر سعیدی ؔ حیدرآباد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خاموش چیخیں اور بکھری ہوئی راہیں
  • نگاہیں خود پہ رکھتے ہو
  • قلندر
  • ایک ڈھونڈو ہزار بیٹھے ہیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اقبال یا انشا، غلط نسبت
پچھلی پوسٹ
رات کا پچھلا پہر

متعلقہ پوسٹس

لیڈی ڈیانا ،بے نظیر اور حامد میر

اپریل 23, 2014

ہِراس ظلمتِ شب کا بِکھرنے والا ہے

اکتوبر 24, 2025

میں ایک مرتبہ

نومبر 26, 2020

مجھے پیار ہے

اکتوبر 16, 2025

تُو اپنی موج میں رہ، پانیوں کو سر کر دے

جون 21, 2020

گزارش

مئی 10, 2025

غم_ زندگی نے ستایا بہت ہے

نومبر 14, 2025

رضائی اماں

اگست 5, 2025

رسمِ الفت کی پیار کی باتیں

جولائی 24, 2020

زوالِ عمرِ رفتہ میں کھڑا ہوں

جنوری 30, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

لفظ کی حرمت کے انکاری

نومبر 27, 2021

روشنی کے لیے گھر جلاٸیں گے...

اپریل 9, 2023

تعارف کا دوسرا قدم

دسمبر 16, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں