خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباہٹلر کی جمہوریت اور ریپستان‎‎
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمز

ہٹلر کی جمہوریت اور ریپستان‎‎

از راجہ منیب جنوری 30, 2022
از راجہ منیب جنوری 30, 2022 0 تبصرے 46 مناظر
47

جمہوریت کا لفظ جمہور سے بنا ہے جو اکثر کا معنی دیتا ہے اور جمہوریت سے اکثریتی رائے مراد لی جاتی ہے ،جمہوریت کو انگریزی زبان میں Democracy کہا جاتا ہے جو یونانی زبان کے دو الفاظ سے مل کر بنا ہے جس کے معنی عوام اور طاقت کے ہیں اس لحاظ سے جمہوریت ایک ایسا نظامِ حکومت ہے جس میں اقتدار عوام کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور ان کے منشاء کے مطابق حکومت فرائض انجام دیتی ہے۔26 جنوری 1950 کو ہندوستان کے آئین کا نفاذ کیا گیا اور ہندوستان ایک رپبلکن یونٹ بن گیا اوراس دن کو بعدازاں "یوم جمہوریہ” کا نام دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ بھار ت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ مگر آج بھی حالات سب کے سامنے ہیں ۔بھارت کے اسی آئین تلے مقبوضہ کشمیر میں 1952ء میں نام نہاد انتخابات کروائے گئے اور یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی کہ کشمیری عوام نے مرکزی دھارے میں شمولیت کی خاطر نہ صرف بخوشی سیاسی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لیا بلکہ انہوں نے بڑے پیمانے پر ووٹ بھی ڈالے۔ وقتی طور پر بھارت یہ جھوٹ بولنے میں کامیاب ہوگیا لیکن جلد ہی اسے اس وقت سخت ہزیمت اٹھانا پڑی جب نہتے کشمیریوں نے بھارت کے خلاف بندوق اٹھالی۔ کشمیری عوام انتخابات کے خلاف تھے۔ انکی ایک ہی خواہش تھی کہ کشمیر میں استصواب ِ رائے کروایا جائے تاکہ کشمیری اپنے مستقبل کا ازخود فیصلہ کرسکیں۔ استصواب ِ رائے کے نتائج کا بھارت کو بخوبی علم تھا، اس لیے اُس نے ایسا اقدام اٹھانے سے گریز کیا۔hitler جب کبھی عالمی برادری کی طرف سے دباؤ ڈالا گیا’ تو بھارت ہمیشہ ایک ہی جملہ کہہ کر اپنی جان چھڑاتا رہا کہ "استصوابِ رائے کیلئے حالات سازگار نہیں”۔جس آئین کے تحت کشمیر میں انتخابات کا ڈھونگ رچاتے ہوئے بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا علم بردار قرار دیا گیا’ کشمیریوں نے اس حقیقت کو طشت ازبام کرنے کیلئے بھارت کے یوم جمہوریہ کو ‘یوم سیاہ’ کے طور پرمنانا شروع کردیا۔ پچھلی کئی دہائیوں سے یہ دن بڑے اہتمام کے ساتھ منایا جارہاہے۔ اس دن صرف مقبوضہ کشمیر میں ہی نہیں’ پاکستان سمیت دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری زبردست احتجاج کرتے ہیں۔ مظاہروں’ جلسے جلوسوں اور سیمینارز کے ذریعے عالمی برادری کو باور کروایا جاتاہے کہ بھارت نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر عالمی برادری کو بے وقوف بنارکھا ہے۔ وہ آئے دن کشمیریوں پر نت نئے مظالم کے حربے آزماتے ہوئے انہیں اپنے ازلی اور پیدائشی حق سے محروم رکھنے کی کوششیں کررہاہے۔ کشمیری صرف اور صرف بھارت سے آزادی چاہتے ہیں۔ انہیں آزادی سے کم کوئی چیز قبول نہیں۔
کئی سال سے بھارت کشمیریوں کی تحریکِ حریت کو مکمل طور پر کچلنے کے لئے روح فرسا اقدامات کررہاہے۔ کئی اقدامات ایسے ہیں جن کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ مثلاً پچھلے کچھ سالوں سے کشمیر میں بھارتی فوج پیلٹ گن کا استعمال کررہی ہے۔ اس گن سے نکلنے والے چھرے جسم کے اندر تک پیوست ہو کر دھیرے دھیرے زہر پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔ یہ چھرے جسموں پر ایسے نشان چھوڑ جاتے ہیں جن کا مندمل ہونا ممکن نہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ چھرے آنکھ کے اندر دھنس کر بینائی ختم کردینے کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ پچھلاسال اگرچہ کشمیریوں پر ماضی کی طرح آسیب بن کر چھایارہا اور ان کے زخموں سے خون کی پھوار مسلسل بہتی رہی لیکن اس کے باوجود ان کے عزم اور حوصلے میں کوئی فرق نہیں پڑا بلکہ وہ پہلے سے کہیں زیادہ توانا جذبوں کے ساتھ اپنی تحریک آزادی کی آبیار ی میں مصروف عمل ہیں۔
ہندوستان کے37ویں یوم جمہوریہ پر بھارتی شہری اپنی شناخت تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔ مودی نے لاکھوں اقلیتوں کو پناہ گزین بنا کررکھ دیا ہے۔اس یوم جمہوریہ کے موقع پر عام ہندوستانی سوال کر رہے ہیں کیا یہ نہرو اور گاندھی کا سیکولر ہندوستان ہے یا آرایس ایس کا ہندو راشٹرا؟ یہ شائننگ انڈیا ہے یا ریپستان کہ جہاں غیر ملکی سیاح بھی محفوظ نہیں؟مودی نے لاکھوں مسلمان کو ہندوستانی ریاست سے بے دخل کرکے پناہ گزین بنا دیا ہے۔ ہندوستان کی خدمت کرنے والے سائنسدان، شعرا اور آرٹسٹ اپنی شناخت کھو بیٹھے ہیں۔اقلیتیں ہوں یا مقبوضہ وادی، کسان احتجاج ہو یا طلبہ بھارت میں موجودہ حکومت سے آزادی کے نعرے گونجنے لگے ہیں۔اس یوم جمہوریہ کا سورج ایک ایسے ہندوستان پر طلوع ہوا کہ جس کا شیرازہ بکھر رہا ہے۔ ہندوستان تقسیم ہو رہا ہے۔ بھارت کا 73واں یوم جمہوریت اس مرتبہ بیشتر بھارتیو ں کےلیے یوم سیاہ ہے۔آج مودی کے ہندو راشٹرا میں مذہبی اقلیتوں کے لیے زمین تنگ ہو چکی ہے۔ مودی کے آمرانہ اوریکطرفہ فیصلوں کے باعث ہندوستان میں جمہوریت دم توڑ رہی ہے۔بھارت کے اندر اور باہرسکھ اپنے ساتھ بڑھتے تعصب اور ناانصافی پر آگ بگولہ ہیں۔ کسانوں کی احتجاجی تحریک 120لاشیں اُٹھا کر بھی پورے زور شور سے جاری ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت شمال مشرقی بھارت کی ریاستوں میں یہ دن یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ مگر اس کی کم تشہیر ہوتی ہے۔ انڈیا کی دیگر ریاستوں کے برعکس مقبوضہ جموں و کشمیر میں لاکھوں لوگوں کو جو پہلے سے تاریخ کی طویل ترین پابندیوں کی زد میں ہیں،کریک ڈائون اور ناکہ بندیوں، گرفتاریوں کا شکار بنایا جاتا ہے۔ انہیں ان کے گھروں میں بند رکھ کر اور سخت محاصرے میں پریڈوں کا بندو بست کیا جاتا ہے۔ سب سے بڑی تقریب سرینگر کے بخشی اسٹیڈیم میں ہوتی ہے۔ بھارتی فورسز ہفتوں پہلے ہی بخشی اسٹیڈیم اور اس کے نواحی علاقوں پر قبضہ جما لیتے ہیں، سرکاری عمارتوں کے ساتھ ساتھ رہائشی عمارتوں پر بھی جبری قبضہ کرکے چھتوں پرمورچہ بندی کی جاتی ہے۔ بخشی اسٹیڈیم کے نزدیک لعل دید چلڈرن ہسپتال کے مریضوں تک کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔مریض اور ان کے تیماردار گرفتار کئے جاتے ہیں۔ آج بھی یہی حال ہے۔ کشمیری عوام بھارتی پابندیوں اور ناجائز قبضے کے خلاف اور آزادی کے حق میں مکمل ہڑتال پر ہیں۔ دن کو یومِ سیاہ اور رات کو مکمل بلیک آئوٹ کیا جاتا ہے۔ اس طرح کشمیری عوام بھارتی جبری قبضے اور نسل کش پالیسی و مظالم کے خلاف اپنے سخت ردّعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ جاری ہے۔ لوگ کرفیو کو توڑ کر احتجاجی مظاہرے کرتے ہیں۔ جگہ جگہ سیاہ پرچم لہراتے ہیں اور ہندوستانی پرچم کو اور بھارتی حکمرانوں کے پتلوں کو نذر آتش کیا جاتا ہے۔ اس طرح کشمیری جنگ بندی لائن کے آرپار اور دنیا بھر میں ہندوستانی نام نہاد جمہوریت کو بے نقاب کرتے ہیں۔ کشمیری ہر روز بھارتی ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنائے جاتے ہیں۔دنیا کی ایسی جمہوریت کا جشن جس نے کشمیر ہی نہیں بلکہ شمال مشرقی بھارت کی ریاستوں میں کروڑوں عوام کی آزادی سلب کر رکھی ہے۔ بھارت کا73واں یوم جمہوریہ بیشتر بھارتیوں کے لیے سیاہ دن ہے، جہاں ہندو توا کا چوپٹ راج ، اقلیتوں کی بدحالی اور قائد اعظم کی بصیرت کو صحیح ثابت کرتی نظر آتی ہے۔مودی کےآمرانہ ون پارٹی رول سے بھارت میں جمہوریت دم توڑ رہی ہے،ہندو اکثریت کی اجارہ داری کے ریلے میں نام نہاد سیکولر ازم خاشاک کی طرح بہہ گیا بھارت میں یوم جمہوریہ تقریبات دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ بھارت کے بدصورت اور اصلی چہرے کو چھپانے کے لیے مودی حکومت نے کچی آبادیوں کو دیواریں کھڑی کرکے اور گندے دریا میں میٹھا پانی ڈال کر چھپا دیا۔ بھارت کو خواتین کے لیے خطرناک ترین ملک قرار دیا جا چکا ہے لیکن اس کے باوجود وہ بالی ووڈ کی فرضی کہانیوں کے ذریعے خود کو فیمنسٹ ملک کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں مودی سرکار کے ظالمانہ اقدامات نے دنیا کے سامنے اس کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے اور اس مسئلے کو امریکہ کے سامنے اجاگر کرنے کا وقت آگیا ہے ۔ بابری مسجد کے فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان کی عدلیہ حکومت کے ہاتھ میں کٹھ پتلی ہے۔بھارت اسے ایک آزاد پریس اور آزاد عدلیہ والے ملک کے طور پر پیش کرتا ہے لیکن حقیقت میں اس کا میڈیا مکمل طور پر حکومت کے زیر کنٹرول ہے۔ میڈیا کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ حقیقی ہندوستان نسل پرست ہندوتوا، انتہائی غربت اور انتہائی بدعنوان ہے۔حکومت نے ایک قانون بھی پاس کیا جس کے تحت پہلی بار ہمسایہ ممالک سے آنے والے تارکین وطن کے لیے رسمی طور پر ہندوستانی شہریت حاصل کرنے کے لیے مذہب کو ایک معیار بنایا گیا ہے۔ اس سب کے پیچھے امت شاہ کا ہاتھ ہے۔مودی کے دور میں کشمیریوں کا زندہ رہنا ناممکن ہو گیا، جسمانی تشدد کو چھوڑ دیں کشمیریوں کے ذہنوں پر نفسیاتی اثرات کئی دہائیوں تک رہیں گے۔کشمیر میں انٹرنیٹ کی جزوی بحالی صحرا میں پانی کی بوند کی طرح ہے۔ دوسری بار وزیر اعظم بننے کے بعد سے مودی زیادہ سے زیادہ مہلک ہوتے گئے، گجرات 2002 کے ڈراؤنے خواب بھارت کے کئی حصوں میں لوٹ آئے۔ مودی بھارت میں ایک انتہا پسند اور فاشسٹ گروپ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے نظریے کو اکساتا اور پھیلاتا رہا ہے۔مودی مسلمانوں کی لاشوں پر ہندو ریاست بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ عالمی رہنما مودی سے ان 200 خواتین کے بارے میں پوچھیں جنہیں کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے عصمت دری اور جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ کشمیر کے حوالے سے موجودہ منظر نامے پر ایک نظر ڈالیں تو نظر آتا ہے کہ یہ بھارت نریندر مودی کے مظالم اور بربریت کی وجہ سے جل رہا ہے۔ سیکولر ہندوستان کا اصلی چہرہ یہ ہے کہ وہاں دنیا میں سب سے طویل فاشسٹ تحریک چل رہی ہے۔انڈیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے ۔بھارتی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں ہر 16 ویں منٹ میں ایک خاتون کہیں نہ کہیں ‘ریپ’ کا شکار بن رہی ہے، جب کہ ملک کی کوئی ایسی ریاست نہیں جہاں خواتین محفوظ ہوں۔اگرچہ ریپ کیسز میں نئی دہلی سب سے آگے ہے تاہم خواتین کے خلاف تشدد، استحصال اور بعض جرائم کے کچھ واقعات میں ممبئی سرفہرست ہے۔مسلمان عورتوں کو قبروں سے نکال کر ریپ کرنا چاہیے۔’ جی ہاں یہ فتویٰ کسی عام شخص کا نہیں بلکہ 2007 میں یوپی میں سدھارتھ نگر کے مقام پر ویرات ہندوستان نامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک رہنما نے دیا تھا۔اس ریلی کی صدارت یوگی ادیتیہ ناتھ کر رہے تھے جو اب بھارت کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ اس پر سخت تنقید کے بعد بھی یوگی نے کبھی اس بیان کی مذمت نہیں کی۔ ہندوستانی معاشرہ ہوس کا کتنا پجاری اس کے لیے آپ کے سامنے صرف ایک مثال رکھتا ہوں۔انڈیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق گوگل پر’کشمیری لڑکیاں’ سرچ کرنے میں کیرالہ پہلے نمبر پر، جھار کھنڈ دوسرے اور ہماچل پر دیش تیسرے نمبر پر تھا۔ یہاں یہ واضح کرنا لازمی ہے ریاست کیرالہ 96.2 فی صد شرح خواندگی کے ساتھ بھارت میں پہلے نمبر پر ہے۔ اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ جنسی ہوس کا تعلق تعلیم یا جاہلیت سے نہیں بلکہ یہ ہمارے معاشرے میں رس بس چکی ہے۔اسی طرح ‘کشمیری لڑکیوں سے شادی’ کو گوگل سرچ کرنے میں بھارت کی راجدھانی دہلی پہلے نمبر پر جبکہ مہاراشٹر اور کرناٹک کا بالترتيب دوسرا اور تیسرا نمبر تھا۔آئین کی شق 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد بھارت میں حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے بہت سے رہنماؤں نے، جن میں ایم ایل ایز و ایم پیز بھی شامل ہیں، یہ تک کہہ دیا تھا کہ اب ہماری موج ہو گی، کشمیر کی گوری لڑکیوں سے شادی کریں گے۔ہریانہ کے وزیراعلیٰ منوہر لال کھٹر کا بیان ‘جموں و کشمیر کی لڑکیوں کو اب بہو بنائیں گے’ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔یہ کام ایک سازش کے تحت کروایا گیا تھا تاکہ جموں و کشمیر کے اندر مذہبی ہم آہنگی کو توڑ کر مذموم سیاسی مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔ ابھی حال میں اتر پردیش میں ایک پجاری نے مندر میں ایک عورت کے ساتھ ریپ کیاـ اتر پردیش کے لئے ایسے حادثے کوئی نئے نہیں ہیں، ہاتھرس ، بلرام پور اور بیشتر شہروں میں ایسے حادثے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں ـ لیکن انصاف کون کرےگا ؟ وہ شخص جس نے وزیر اعلی بننے سے قبل یہ بیان دیا ہو کہ مسلم عورتوں کو قبر سے نکال کر ریپ کروـ میں اس بیان پر کچھ دیر ٹھہرنا چاہتا ہوں ـ ایک مردہ عورت جو قبر میں دفن ہے، وہ جس قوم کی بھی ہو ، مگر اب وہ مر چکی ہے اور قبر کی تنہائیوں میں آرام کر رہی ہےـ کیا ایسی فکر رکھنے والا انسان ہو سکتا ہے ؟ ایسی سوچ رکھنے والا تو بھیڑیا اور جنگلی جانور بھی نہیں ہو سکتا،مگر ایک فاشسٹ تنظیم نے اتر پردیش جیسی بڑی ریاست اس کے سپرد کر دی اور مسلمانوں سے نفرت کرنے والے شخص نے جب بھی بیان دیا ، مسلمانوں کے خلاف بیان دیاـ آر ایس ایس نے اس جاہل ڈھونگی کو وزیر اعلی کی کرسی دیتے ہوئے یہ ضرور غور کیا ہوگا کہ اسی جاہل شخص نے اپنی تقریر میں مسلمان عورتوں کو قبر سے نکال کر بلاتکار کرنے کو کہا تھا، جو مسلمانوں کو قبرستان بھیجے وہ وزیر ا علیٰ،جو قبر سے نکال کر ریپ کرنے کو کہے ، اسے ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست تحفے میں دی جائے، ملک غارت ہوا ، کوئی آواز نہیں، ملک تباہ ہوا، کوئی آواز نہیں، کروڑوں کے روزگار گئے ، کوئی آواز نہیں ـ کسانوں کو کمزور کرنے کے لئے قانون آیا ، کوئی آواز نہیں،مسلمان سڑکوں ، شاہراہوں ، گلیوں میں مارے جاتے رہے اور اب ملک کے موجودہ حالات مسلمانوں کے لئے بد تر ہوئے جا رہے ہیں ـ حکومت کی فسطائی منطق کے سامنے بے بس اور مجبور ہیں۔نریندرا مودی/بی جے پی/آر ایس ایس حکومت نے اپنے نازی فاشسٹ نظریے کے مطابق دہشت گردی اور وحشیانہ قتل و غارت کا راج شروع کیا ہے۔ کشمیری عوام ہٹلر (ہٹلر دوئم یا مودی کے نام سے دوبارہ جنم لینے والے) کے ہاتھوں تازہ ترین ہولوکاسٹ کا شکار ہیں۔ ہرسال بھارت کے یوم جمہوریہ پرمقبوضہ کشمیر میں قابض سیکیورٹی فورسز کی پیشگی کارروائیوں سے ماحول کشیدہ ہوجاتا ہے۔ بھارتی سیکیورٹی فورسز بیگناہ کشمیریوں کو گرفتار کرنا شروع کردیتی ہیں جس کے باعث وادی میں حالات کشیدہ ہوجاتے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کشمیریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی اتر آتی ہیں اورکئی کئی روز تک وادی کی کٹھ پتلی حکومت نے انٹرنیٹ اورموبائل فون رابطوں پر پابندی عائد کردیتی ہے۔ بھارتی جمہوریت کے پیروکاروں نے ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو صرف اس لیے شہید کیا کہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں۔ نئی دہلی کے حکمران مقبوضہ کشمیر کے لوگوں پر ظلم و ستم جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ انکی آزادی سلب کر کے 26 جنوری کو یوم جمہوریہ منا کر دراصل جمہوریت کے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔ اس کے باوجود بھی بھارت جانتا ہے کہ اگر وہ آٹھ کی بجائے پندرہ سولہ لاکھ بھی فوج کشمیر بھیج دے تو کشمیریوں کی جدوجہد آزادی ختم نہیں ہوگی۔ آج تک کشمیری قوم بھارتی فوج کے ظلم و جبر کیخلاف جدوجہد کررہی ہے۔ مسئلہ کشمیر ہی بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ ہے اور اس دیرینہ مسئلے کو حل کیے بغیر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات معمول پر نہیں آسکتے۔ عالمی برادری کشمیر میں بھارتی مظالم روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے اور کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق خودارادیت دیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر کے قبرستانوں میں ہر سال کئی ہزار نئی قبروں کا اضافہ ، جن پر شہداء کے نام اور پتے درج ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارتی فوج نے کشمیر میں قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ایک جمہوری ملک ہونے کے دعویدار کی حیثیت سے بھارت کا فرض تھا کہ وہ کشمیر کا مسئلہ جمہوری انداز سے حل کرتا لیکن اس نے ہمیشہ غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی۔ سری نگر سمیت متعدد علاقوں میں جگہ جگہ بھارتی یوم جمہوریہ کے جشن کے بائیکاٹ کی اپیل والے پوسٹرز آویزاں کر دیے گئے ہیں۔ حریت رہنماؤں نے کشمیریوں سے گھروں، دکانوں اور دیگر عمارتوں پر سیاہ پرچم لہرانے کی اپیل کی ہے۔اس دن کی مناسبت سے جہاں ایک طرف سارے بھارت میں خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ثابت کرنے کیلئے مختلف تقاریب کاا نعقاد کیا جاتا ہے تو وہاں دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں آٹھ لاکھ کے لگ بھگ فوجی اور نیم فوجی دستوں کی بندوقوں اور ٹینکوں کے سائے تلے خطہ کشمیر کو متحدہ بھارت کا حصہ قرار دینے کیلئے تقریب منعقد کی جاتی ہے جب کہ اس موقع پر آل پارٹیز حریت کانفرنس کی کال پر مقبوضہ و آزاد کشمیر کے علاوہ پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری بھارت کے یوم جمہوریہ کو "یوم سیاہ” کے طور مناتے ہیں۔

راجہ منیب

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کچہری بس سٹاپ
  • اندھیرے کا سفر
  • اس کی باتوں سے میں نے پرکھا تھا
  • ایسا لگتا تھا کچھ خفا سا تھا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
راجہ منیب

اگلی پوسٹ
مسجود ملائک اور درد دل
پچھلی پوسٹ
لمحوں کے پیچھے چلتا یہ لمحہ لگا ہوا

متعلقہ پوسٹس

ماں کی خاموشی اور بیٹی کی عزت

نومبر 27, 2024

جب سامنے والا کباڑیا ہو

دسمبر 16, 2025

عورت اور ماں

مئی 21, 2020

کشمیر

جون 21, 2020

وہ میری بانہوں میں زندہ ہو گیا

مارچ 29, 2025

بچے

جنوری 25, 2020

فطرت کے دامن میں خاموش جذبات

نومبر 24, 2024

وقت کو پر لگے ہوئے ہیں !

مئی 30, 2020

کوئی تو ہو جو ہمیں خوف سے رہائی دے

نومبر 27, 2021

ڈاکٹر وحید احمد کا نظم نامہ

جون 2, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہم گاتے رہیں صبحِ وطن کا

مئی 6, 2025

روشنی بھی سرِ افلاک مجھے ڈھونڈے...

مارچ 26, 2020

شام کا سحر

مارچ 6, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں