خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباشوگر ڈیڈی اور ٹرافی وائف
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

شوگر ڈیڈی اور ٹرافی وائف

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 7, 2021
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 7, 2021 0 تبصرے 116 مناظر
117

شوگر ڈیڈی اور ٹرافی وائف

وہ جھوٹی تھی۔ سدا کی جھوٹی۔ محبت کے سب دعوے جھوٹے تھے۔ میں زوردیتا تو کہنے لگتی“میں تم سے شدید محبت کرتی ہوں اور تم مجھ سے۔ یہ محبت ہی شک میں مبتلا کرتی ہے۔میں نظریں نیچی کیے سنتا رہتا۔ منہ اٹھا کر اس کی طرف دیکھتا تواجلے لباس میں سفید گردن پر سجا نورانی چہرہ ایسا شائستہ، پروقار اور پرصداقت دکھائی دیتا کہ اس پر مغموم و دل گیر فرشتے کا گمان ہونے لگتا۔ روشنی کی حریص موٹی موٹی نیلگوں آنکھوں میں جھانکتا تو کالی پتلیاں اور سیاہ ہو جاتیں لیکن ان کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب کر سارا درد و کرب اجنبی ہو جاتا۔

وہ جھوٹی تھی۔ بہت سلیقے سے جھوٹ بولتی تھی۔ یونیورسٹی میں تھی تو اپنے گاؤں اور زمینوں کی ایسے باتیں کرتی کہ جیسے تمام پٹواری تحصیلدار اس کے نسلی غلام ہیں۔ جب ہم دونوں کا یورپ آنے کا پروگرام بنا تو پرسکون لہجے میں بولی کہ میرے بابا تویونیورسٹی کے اخراجات پورے کر لیں گے تم ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں وظیفہ اپلائی کر دو یا کوئی ڈونر ایجنسی ڈھونڈ لو۔”

مجھے پتا تھا کہ وہ جسے ان تمام امدادی پروگراموں کا مجھ سے زیادہ علم ہے، خود بھی کوئی مدد ڈھونڈ رہی ہوگی۔ مجھے توکچھ مدد مل گئی اور شاید اسے بھی۔ ہم دونوں ایک ہی ہاسٹل میں رہائش پذیر ہوئے۔ مختصرسے کمرے تھے بڑی مشکل سےایک بیڈ اور ایک ریڈنگ ٹیبل پورا آتا تھا۔ چار کمروں کے لیے ایک مشترکہ باتھ روم اور کچن۔ ہمارے گاؤں والے گھر میں تو ایک کمرہ تھا اور وسیع دالان کی اس نکڑ میں ایک بغیر چھت والا غسل خانہ۔ میرے لیے تو یہ ہاسٹل تاج محل تھا۔ وہ موٹی آنکھیں جن کی سیاہ و عمیق پتلیوں میں جھوٹ کے بھوت تنکتے تھے، مٹکاتی ہوئی کہتی “ایسے ہاسٹل میں گذارا کرنا مشکل ہے۔ میں تو محل نما گھروں میں رہنے کی عادی ہوں۔ ”اگلے سال وہ یونیورسٹی کے قریب ایک بڑے سے گھر میں پیئنگ گیسٹ کے طور پر منتقل ہوگئی۔

اسی گھر سے خرابیوں کا آغاز ہوا۔

اس کے اظہار محبت میں بھی جھوٹ کا زہر شامل ہو گیا۔ اب جھوٹ اس کے ہونٹوں سے پھنکارتے ہوئے نکلتے اور میری روح کو جکڑ لیتے۔ وہ نرمی سے میرا ہاتھ پکڑ کر کہتی “تمہیں مجھ پر اعتبار کرنا چاہیے۔ میں صرف تمہاری ہوں۔ وہ بوڑھا میرا بہت خیال رکھتا ہے۔ اگر میں اس کے ساتھ گھومنے چلی جاتی ہوں تو اس میں کیا مضائقہ ہے؟“

سوانگ بدلتے ہوئے بولی “چھوڑو، ان نفرت بھری باتوں کو۔ چلو! اپنی پسندیدہ دوکان سے پیزا کھلاؤ۔”

“تم خود کیوں نہیں لے آتیں؟”

“مجھے اس کا افغانی مالک ذرا نہیں بھاتا۔ وہ مجھے بہت غصے سے دیکھتا ہے۔

میں تمہارے ساتھ چلتی ہوں لیکن پیچھے کھڑی رہوں گی۔”

کچھ دیر ہم بیٹھے رہے۔ جانے لگی تو میرے ہاتھ پر بوسہ دیا۔ میں نے کھینچ کرگلے سے لگانا چاہا تو بھاگ گئی۔

“ کل ملاقات ہوگی. تم جلدی آجانا۔”

یہ بھی اس نے جھوٹ کہا تھا۔ میں اکیلا بیٹھا انتظار کرتا رہا، وہ نہ آئی۔ شام ڈھل کر رات میں بدل گئی۔ دل گرفتہ، کبیدہ خاطر چلتے چلتے نہ جانے کب اس عظیم الشان مکان تک پہنچ گیا جس میں وہ رہتی تھی۔ گھر میں مکمل اندھیرا تھا۔ صرف ڈیوڑھی کی لائٹ جل رہی تھی۔ میں دل جمع کر رہا تھا کہ اس کے دروازے تک جا کر دیکھ لوں۔ دیر تلک گلی کی دوسری طرف فٹ پاتھ پر گھومتا رہا۔ جب بھی اس کے گھر کے سامنے سے گذرتا، میری نظریں اس آبدار دروازے پر جم جاتیں۔ تھوڑا آگے بڑھتا تو بار بار مڑ کر دیکھتا۔ اس عالیشان مکان کی بند کھڑکیوں پرنظر دوڑاتا۔ رات گہری ہوتی جارہی تھی اور سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہو گیا تھا۔ کبھی کبھی اس گلی کی پژمرده فضا کو توڑتی کوئی گاڑی گذرتی تو میں خود کو کسی اوٹ میں چھپا لیتا۔ ایسی ہی ایک گاڑی گھوم کر اس گھر کے گیراج میں داخل ہوئی۔ بلند و بالا قامت والا گورا چٹا بوڑھا اس گاڑی سے برآمد ہوا۔ ناز و تبختر سے قدم اٹھاتا بائیں طرف آیا۔ گاڑی کا دروازہ کھولا۔ وہ باہر نکلی تواس کی کمر کے گرد بازو حمائل کیے اوردونوں اندر چلے گئے۔

اگلے دن وہی بحث تھی اور اس کی جھوٹی تسلیاں و وعدے۔

میں نے خاموشی اختیار کر لی۔

آخری سال تھا میرے معاشی حالات مزید خراب ہو رہے تھے۔ ہفتے میں بیس گھنٹے کی قانونی جاب سے اخراجات پورے کرنا مشکل تھا۔ اس لیے میں نے اسی پیزا شاپ پر کام شروع کردیا۔ اس کا مالک ایکسٹرا کام کی تنخواہ نقد دے دیتا۔ کوئی ٹیکس کٹتا اور نہ ہی حساب کتاب رکھا جاتا۔ میں زیادہ مصروف ہو گیا اور وہ بھی بہانے بہانے سے کم ہی ملتی۔

وقت گذر گیا۔ ہمارا کورس پورا ہو چکا تھا۔ اب میرا ارادہ واپس جانے کا تھا اور وہ پی ایچ ڈی کی خواہش مند۔ میرا ماتھا ٹھنکا۔

ایک رات میں نے ان دونوں کو نائٹ کلب میں دیکھا۔ وہ اس گورے کے ساتھ ڈانس کر رہی تھی۔ لمبے تڑنگے بڈھے کی باہوں میں جھول رہی تھی۔ میں ہرحرکت کا بغور مطالعہ کر رہا تھا۔ رفتار و طور دیکھ رہا تھا، طرز و وضع کو پرکھ رہا تھا۔ اس نے بھی مجھے دیکھ لیا لیکن چال ڈھال میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ وہ ایسے ظاہر کر رہی تھی کہ جیسے مجھے دیکھا ہی نہیں۔ عرصہ ہوا میں اس کی کم نگہی کے افراط کا شکار تھا لیکن اس کا یہ بے پروایانہ انداز دیکھ کر زمین میں پیوست ہو گیا۔

اگلے دن میں نے اسے پکڑ لیا۔

“سچ سچ بتاؤ۔ تمہارا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے؟”

“وہ مالک مکان ہے اور میں اس کی پیئنگ گیسٹ۔”

“لیکن وہ ڈانس؟”

“ڈانس کا کیا ہے؟ وہ توکسی کے ساتھ بھی کیا جا سکتا ہے۔ تم نہیں کرتے؟”

میں نے اسے ڈرایا دھمکایا، اس پر دانت پیستا رہا۔ منتیں کیں۔

وہ جھوٹ بولتے جارہی تھی۔

مجھے پکا یقین تھا۔

برف جیسے سرد مہر چہرے کے ساتھ، کالی سیاہ عمیق آنکھوں سے جھوٹے آنسوں گراتے ہوئے بولی “تم کیسا الزام لگا رہے ہو؟ وہ میرے باپ کی عمر کا ہے۔”

“یہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ وہ تمہارا شوگر ڈیڈی ہے۔”

متحیر آبروؤں کو لہراتے ہوئے پرسکون لہجے میں کہنے لگی “میری بلا سے! تمہیں اشتباہ ہے، تو کیا؟”

وہ بہت اعتماد سے جھوٹ بول رہی تھی۔

میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔ آنکھوں کی گہرائی میں اس کے دعوے کا بطلان موجود تھا۔ خط پیشانی میں کوئی بل نہیں تھا۔ سچ اس گولڈ ڈگر کی سیدھی مانگ کے پیچھے سیاہ بالوں کے جمگھٹے میں کہیں چھپا بیٹھا تھا۔

وہ جانتی تھی کہ میں اس کا جھوٹ ثابت نہیں کرسکوں گا۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ اس کا بولا ہوا صرف ایک لفظ میرے اس جگر شکن دکھ اور جاں ستاں درد کو ختم کردے گا۔ مجھے پتا تھا کہ وہ لفظ بھی جھوٹ ہی ہوگا لیکن مجھے اسی کا انتظار تھا۔ پھر وہ لفظ اسکے لبوں سے ادا تو ہوا لیکن مجھے اور دکھی کر گیا۔

“میں تم سے محبت کرتی ہوں اور صرف تمہاری ہی ہوں لیکن اب سوچنا پڑے گا۔”

“میں صرف سچ سننا چاہتا ہوں، چاہے وہ میرے لیے زہر کی طرح کڑوا ہو۔ شاید اسے سن کر میں مر ہی جاؤں۔ تم سچ کہہ دو۔ میں زندہ رہا تو بھی تمہیں چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔”

“پھر سنو۔ سچ یہ ہے کہ میں تمہارے جیسے کنگلے کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔”

“تو سچ تمہاری زبان پر آ ہی گیا کہ وہ بگا بلا تمہارا شوگر ڈیدی ہے۔ تمہارا کھانڈ بابا۔”

“یہ تم جھوٹ کہہ رہے ہو۔”

کچھ دیر خاموش رہی پھر بولی

“جو الزام تم مجھ پر لگا رہے ہو اجازت ہو تواس کے بارے میں کچھ کہوں؟”

“ہاں، ہاں، بولو۔”

“یاد کرو، تمہارا وہ افغانی پیزے والا جو مجھ سے نفرت کرتا تھا۔ جب تم اس سے پیزا لینے جاتے تو وہ کیا کرتا تھا؟ تم جھینپ کر کنکھیوں سے میری طرف دیکھتے کہ کہیں میں نے دیکھ تو نہیں لیا؟”

وہ بکواس کررہی تھی۔

میں غصے سے چلایا “تم اپنے جھوٹ کو چھپانے کے لیے ایک اور جھوٹ بول رہی ہو۔”

“چلو، یہ بھی جھوٹ سہی۔ سچ یہ ہے کہ میں خوبصورت ہوں، بہت خوبصورت۔ میں ساری عمر تمہارے ساتھ رہ کر مزدوریاں نہیں کر سکتی۔ میں حسرتوں کے ساتھ سسک سسک کر نہیں جینا چاہتی۔ میں کسی سیٹھ کی ٹرافی وائف بن کر پرسکون اور آرام دہ زندگی گزاروں گی۔”

وہ مون گورلین کی عنبر وڈ خوشبو بکھیرتی، گوچی کا کراس باڈی بیگ لہراتی، لوباٹون کی ہائی ہیل سے ٹپ ٹپ کرتی واپس چل پڑی۔

کچھ دیر سوچ کر میں اس کے پیچھے بھاگ اٹھا۔ میں جانتا تھا کہ اس کا یہ سچ بھی سچ نہیں، جھوٹ ہے۔

ہم یورپ میں ہی سیٹل ہیں۔ لوگ کہتے ہیں “کھانڈ بنا سب رانڈ رسوئی” لیکن ہماری رسوئی میں کھانڈ نہیں ہوتی کیونکہ ہم شوگر کے مریض ہیں۔

سیّد محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خاموشی کا جادو
  • تری عظمت ہے شاہانہ، تری فطرت فقیرانہ
  • بنے ہیں کام سب اُلجھن سے میرے
  • کیا ہے جو نہ سمجھے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شہرت کیلئے ملک اور قوم کی عزت
پچھلی پوسٹ
ماضی کی گمنام ریل کی ڈار

متعلقہ پوسٹس

کڑوی مسری

جنوری 24, 2020

جہاں پہ دوستی ہو اس جگا انائیں کیا

اگست 23, 2020

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

ہمارے ساتھ چلا ہے تو تھک نہ جائے گا

جون 12, 2020

امن

اکتوبر 12, 2025

پاکستان میں ڈرائیونگ لائسنس کا نظام

مارچ 29, 2026

سیر عدم

جنوری 16, 2026

مقابلے کی دوڑ میں کھوئی ہوئی نسل

اکتوبر 21, 2025

مجھ سے دور رہیں

مئی 28, 2024

شیرو

جنوری 21, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تیرے شہر کی رونق ہائے کیا...

مئی 5, 2020

کیا اسلام دین، ہندو ہی تھا؟

جون 14, 2020

ایسا بھی کہیں دیکھا ہے

مئی 18, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں