خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباشوگر ڈیڈی اور ٹرافی وائف
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

شوگر ڈیڈی اور ٹرافی وائف

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 7, 2021
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 7, 2021 0 تبصرے 47 مناظر
48

شوگر ڈیڈی اور ٹرافی وائف

وہ جھوٹی تھی۔ سدا کی جھوٹی۔ محبت کے سب دعوے جھوٹے تھے۔ میں زوردیتا تو کہنے لگتی“میں تم سے شدید محبت کرتی ہوں اور تم مجھ سے۔ یہ محبت ہی شک میں مبتلا کرتی ہے۔میں نظریں نیچی کیے سنتا رہتا۔ منہ اٹھا کر اس کی طرف دیکھتا تواجلے لباس میں سفید گردن پر سجا نورانی چہرہ ایسا شائستہ، پروقار اور پرصداقت دکھائی دیتا کہ اس پر مغموم و دل گیر فرشتے کا گمان ہونے لگتا۔ روشنی کی حریص موٹی موٹی نیلگوں آنکھوں میں جھانکتا تو کالی پتلیاں اور سیاہ ہو جاتیں لیکن ان کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب کر سارا درد و کرب اجنبی ہو جاتا۔

وہ جھوٹی تھی۔ بہت سلیقے سے جھوٹ بولتی تھی۔ یونیورسٹی میں تھی تو اپنے گاؤں اور زمینوں کی ایسے باتیں کرتی کہ جیسے تمام پٹواری تحصیلدار اس کے نسلی غلام ہیں۔ جب ہم دونوں کا یورپ آنے کا پروگرام بنا تو پرسکون لہجے میں بولی کہ میرے بابا تویونیورسٹی کے اخراجات پورے کر لیں گے تم ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں وظیفہ اپلائی کر دو یا کوئی ڈونر ایجنسی ڈھونڈ لو۔”

مجھے پتا تھا کہ وہ جسے ان تمام امدادی پروگراموں کا مجھ سے زیادہ علم ہے، خود بھی کوئی مدد ڈھونڈ رہی ہوگی۔ مجھے توکچھ مدد مل گئی اور شاید اسے بھی۔ ہم دونوں ایک ہی ہاسٹل میں رہائش پذیر ہوئے۔ مختصرسے کمرے تھے بڑی مشکل سےایک بیڈ اور ایک ریڈنگ ٹیبل پورا آتا تھا۔ چار کمروں کے لیے ایک مشترکہ باتھ روم اور کچن۔ ہمارے گاؤں والے گھر میں تو ایک کمرہ تھا اور وسیع دالان کی اس نکڑ میں ایک بغیر چھت والا غسل خانہ۔ میرے لیے تو یہ ہاسٹل تاج محل تھا۔ وہ موٹی آنکھیں جن کی سیاہ و عمیق پتلیوں میں جھوٹ کے بھوت تنکتے تھے، مٹکاتی ہوئی کہتی “ایسے ہاسٹل میں گذارا کرنا مشکل ہے۔ میں تو محل نما گھروں میں رہنے کی عادی ہوں۔ ”اگلے سال وہ یونیورسٹی کے قریب ایک بڑے سے گھر میں پیئنگ گیسٹ کے طور پر منتقل ہوگئی۔

اسی گھر سے خرابیوں کا آغاز ہوا۔

اس کے اظہار محبت میں بھی جھوٹ کا زہر شامل ہو گیا۔ اب جھوٹ اس کے ہونٹوں سے پھنکارتے ہوئے نکلتے اور میری روح کو جکڑ لیتے۔ وہ نرمی سے میرا ہاتھ پکڑ کر کہتی “تمہیں مجھ پر اعتبار کرنا چاہیے۔ میں صرف تمہاری ہوں۔ وہ بوڑھا میرا بہت خیال رکھتا ہے۔ اگر میں اس کے ساتھ گھومنے چلی جاتی ہوں تو اس میں کیا مضائقہ ہے؟“

سوانگ بدلتے ہوئے بولی “چھوڑو، ان نفرت بھری باتوں کو۔ چلو! اپنی پسندیدہ دوکان سے پیزا کھلاؤ۔”

“تم خود کیوں نہیں لے آتیں؟”

“مجھے اس کا افغانی مالک ذرا نہیں بھاتا۔ وہ مجھے بہت غصے سے دیکھتا ہے۔

میں تمہارے ساتھ چلتی ہوں لیکن پیچھے کھڑی رہوں گی۔”

کچھ دیر ہم بیٹھے رہے۔ جانے لگی تو میرے ہاتھ پر بوسہ دیا۔ میں نے کھینچ کرگلے سے لگانا چاہا تو بھاگ گئی۔

“ کل ملاقات ہوگی. تم جلدی آجانا۔”

یہ بھی اس نے جھوٹ کہا تھا۔ میں اکیلا بیٹھا انتظار کرتا رہا، وہ نہ آئی۔ شام ڈھل کر رات میں بدل گئی۔ دل گرفتہ، کبیدہ خاطر چلتے چلتے نہ جانے کب اس عظیم الشان مکان تک پہنچ گیا جس میں وہ رہتی تھی۔ گھر میں مکمل اندھیرا تھا۔ صرف ڈیوڑھی کی لائٹ جل رہی تھی۔ میں دل جمع کر رہا تھا کہ اس کے دروازے تک جا کر دیکھ لوں۔ دیر تلک گلی کی دوسری طرف فٹ پاتھ پر گھومتا رہا۔ جب بھی اس کے گھر کے سامنے سے گذرتا، میری نظریں اس آبدار دروازے پر جم جاتیں۔ تھوڑا آگے بڑھتا تو بار بار مڑ کر دیکھتا۔ اس عالیشان مکان کی بند کھڑکیوں پرنظر دوڑاتا۔ رات گہری ہوتی جارہی تھی اور سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہو گیا تھا۔ کبھی کبھی اس گلی کی پژمرده فضا کو توڑتی کوئی گاڑی گذرتی تو میں خود کو کسی اوٹ میں چھپا لیتا۔ ایسی ہی ایک گاڑی گھوم کر اس گھر کے گیراج میں داخل ہوئی۔ بلند و بالا قامت والا گورا چٹا بوڑھا اس گاڑی سے برآمد ہوا۔ ناز و تبختر سے قدم اٹھاتا بائیں طرف آیا۔ گاڑی کا دروازہ کھولا۔ وہ باہر نکلی تواس کی کمر کے گرد بازو حمائل کیے اوردونوں اندر چلے گئے۔

اگلے دن وہی بحث تھی اور اس کی جھوٹی تسلیاں و وعدے۔

میں نے خاموشی اختیار کر لی۔

آخری سال تھا میرے معاشی حالات مزید خراب ہو رہے تھے۔ ہفتے میں بیس گھنٹے کی قانونی جاب سے اخراجات پورے کرنا مشکل تھا۔ اس لیے میں نے اسی پیزا شاپ پر کام شروع کردیا۔ اس کا مالک ایکسٹرا کام کی تنخواہ نقد دے دیتا۔ کوئی ٹیکس کٹتا اور نہ ہی حساب کتاب رکھا جاتا۔ میں زیادہ مصروف ہو گیا اور وہ بھی بہانے بہانے سے کم ہی ملتی۔

وقت گذر گیا۔ ہمارا کورس پورا ہو چکا تھا۔ اب میرا ارادہ واپس جانے کا تھا اور وہ پی ایچ ڈی کی خواہش مند۔ میرا ماتھا ٹھنکا۔

ایک رات میں نے ان دونوں کو نائٹ کلب میں دیکھا۔ وہ اس گورے کے ساتھ ڈانس کر رہی تھی۔ لمبے تڑنگے بڈھے کی باہوں میں جھول رہی تھی۔ میں ہرحرکت کا بغور مطالعہ کر رہا تھا۔ رفتار و طور دیکھ رہا تھا، طرز و وضع کو پرکھ رہا تھا۔ اس نے بھی مجھے دیکھ لیا لیکن چال ڈھال میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ وہ ایسے ظاہر کر رہی تھی کہ جیسے مجھے دیکھا ہی نہیں۔ عرصہ ہوا میں اس کی کم نگہی کے افراط کا شکار تھا لیکن اس کا یہ بے پروایانہ انداز دیکھ کر زمین میں پیوست ہو گیا۔

اگلے دن میں نے اسے پکڑ لیا۔

“سچ سچ بتاؤ۔ تمہارا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے؟”

“وہ مالک مکان ہے اور میں اس کی پیئنگ گیسٹ۔”

“لیکن وہ ڈانس؟”

“ڈانس کا کیا ہے؟ وہ توکسی کے ساتھ بھی کیا جا سکتا ہے۔ تم نہیں کرتے؟”

میں نے اسے ڈرایا دھمکایا، اس پر دانت پیستا رہا۔ منتیں کیں۔

وہ جھوٹ بولتے جارہی تھی۔

مجھے پکا یقین تھا۔

برف جیسے سرد مہر چہرے کے ساتھ، کالی سیاہ عمیق آنکھوں سے جھوٹے آنسوں گراتے ہوئے بولی “تم کیسا الزام لگا رہے ہو؟ وہ میرے باپ کی عمر کا ہے۔”

“یہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ وہ تمہارا شوگر ڈیڈی ہے۔”

متحیر آبروؤں کو لہراتے ہوئے پرسکون لہجے میں کہنے لگی “میری بلا سے! تمہیں اشتباہ ہے، تو کیا؟”

وہ بہت اعتماد سے جھوٹ بول رہی تھی۔

میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔ آنکھوں کی گہرائی میں اس کے دعوے کا بطلان موجود تھا۔ خط پیشانی میں کوئی بل نہیں تھا۔ سچ اس گولڈ ڈگر کی سیدھی مانگ کے پیچھے سیاہ بالوں کے جمگھٹے میں کہیں چھپا بیٹھا تھا۔

وہ جانتی تھی کہ میں اس کا جھوٹ ثابت نہیں کرسکوں گا۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ اس کا بولا ہوا صرف ایک لفظ میرے اس جگر شکن دکھ اور جاں ستاں درد کو ختم کردے گا۔ مجھے پتا تھا کہ وہ لفظ بھی جھوٹ ہی ہوگا لیکن مجھے اسی کا انتظار تھا۔ پھر وہ لفظ اسکے لبوں سے ادا تو ہوا لیکن مجھے اور دکھی کر گیا۔

“میں تم سے محبت کرتی ہوں اور صرف تمہاری ہی ہوں لیکن اب سوچنا پڑے گا۔”

“میں صرف سچ سننا چاہتا ہوں، چاہے وہ میرے لیے زہر کی طرح کڑوا ہو۔ شاید اسے سن کر میں مر ہی جاؤں۔ تم سچ کہہ دو۔ میں زندہ رہا تو بھی تمہیں چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔”

“پھر سنو۔ سچ یہ ہے کہ میں تمہارے جیسے کنگلے کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔”

“تو سچ تمہاری زبان پر آ ہی گیا کہ وہ بگا بلا تمہارا شوگر ڈیدی ہے۔ تمہارا کھانڈ بابا۔”

“یہ تم جھوٹ کہہ رہے ہو۔”

کچھ دیر خاموش رہی پھر بولی

“جو الزام تم مجھ پر لگا رہے ہو اجازت ہو تواس کے بارے میں کچھ کہوں؟”

“ہاں، ہاں، بولو۔”

“یاد کرو، تمہارا وہ افغانی پیزے والا جو مجھ سے نفرت کرتا تھا۔ جب تم اس سے پیزا لینے جاتے تو وہ کیا کرتا تھا؟ تم جھینپ کر کنکھیوں سے میری طرف دیکھتے کہ کہیں میں نے دیکھ تو نہیں لیا؟”

وہ بکواس کررہی تھی۔

میں غصے سے چلایا “تم اپنے جھوٹ کو چھپانے کے لیے ایک اور جھوٹ بول رہی ہو۔”

“چلو، یہ بھی جھوٹ سہی۔ سچ یہ ہے کہ میں خوبصورت ہوں، بہت خوبصورت۔ میں ساری عمر تمہارے ساتھ رہ کر مزدوریاں نہیں کر سکتی۔ میں حسرتوں کے ساتھ سسک سسک کر نہیں جینا چاہتی۔ میں کسی سیٹھ کی ٹرافی وائف بن کر پرسکون اور آرام دہ زندگی گزاروں گی۔”

وہ مون گورلین کی عنبر وڈ خوشبو بکھیرتی، گوچی کا کراس باڈی بیگ لہراتی، لوباٹون کی ہائی ہیل سے ٹپ ٹپ کرتی واپس چل پڑی۔

کچھ دیر سوچ کر میں اس کے پیچھے بھاگ اٹھا۔ میں جانتا تھا کہ اس کا یہ سچ بھی سچ نہیں، جھوٹ ہے۔

ہم یورپ میں ہی سیٹل ہیں۔ لوگ کہتے ہیں “کھانڈ بنا سب رانڈ رسوئی” لیکن ہماری رسوئی میں کھانڈ نہیں ہوتی کیونکہ ہم شوگر کے مریض ہیں۔

سیّد محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • میں اپنے خوں کی حرارت میں
  • میڈم – ناولٹ (قسط نمبر 2)
  • غم پرندہ جو پہلی اڑانوں سے
  • جہاں پہ دوستی ہو اس جگا انائیں کیا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شہرت کیلئے ملک اور قوم کی عزت
پچھلی پوسٹ
ماضی کی گمنام ریل کی ڈار

متعلقہ پوسٹس

غریب انسان رشتوں میں کمزور؟

مارچ 25, 2026

رمضان اور اتحاد بین المجرمین!

اپریل 14, 2022

شب کی دیوار گرا دی ہے شفق زادی نے

مئی 9, 2020

نہ ہونے کا گماں رکھّا ہُوا ہے

جون 12, 2020

خودی کے سمندر میں پتھرا گئی ہوں

اکتوبر 12, 2025

استعارہ

نومبر 14, 2021

انکی آنکھوں میں پا لیا خود کو

مئی 21, 2020

نصیر اور خدیجہ

اپریل 1, 2023

بھرپور پیداوار حاصل کرنے کے رہنما اصول

مئی 21, 2024

قلم اور صفحہ کی گفتگو

جنوری 6, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

استعمار کی گرفت

جنوری 28, 2026

شکستہ جسم مسلسل خراب ہوتے ہوئے

مارچ 4, 2025

پاکستان ایک نازک موڑ پر

فروری 13, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں