خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامستقل ناکامی کے خطرناک ہتھیار!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

مستقل ناکامی کے خطرناک ہتھیار!

از سائیٹ ایڈمن اپریل 4, 2021
از سائیٹ ایڈمن اپریل 4, 2021 0 تبصرے 55 مناظر
56

مستقل ناکامی کے خطرناک ہتھیار!

ہر شخص اپنی زندگی میں کامیابی کا خواہشمند ہوتا ہے مگر کچھ ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو سہی معنوں میں کامیاب ہوپاتے ہیں جبکہ بیشتر کو ناکامی کا سامنا ہوتا ہے۔اور آج کا نوجوان ناکامی کے خوف سے خود کشی کی طرف مائل ہو رہا ہے جو یقیناباعث ِتشویش ہے۔ حالانکہ ناکامی‘ کامیابی کا زینہ ہے۔ انسان کامیابی کا خواہاں مگر ناکام ہو جاتا ہے‘مگر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ہم ناکامی کے خوف میں ضرور مبتلا رہتے ہیں‘مگر ناکامی کی وجوہات کو جاننے کی کوشش نہیں کرتے‘ آج ہماری ناکامی کی بنیادی وجوہات جن کو اکثر نظر انداز کیا جاتا اور دلبرداشتہ ہو کر مستقل ناکامی کو اپنا مقدر بنا لیا جاتا ہے۔
کامیابی کے حصول کی کوششیں ترک کر دینا:
دُنیا کی ایک سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب Think and Grow Rich کے مصنف نیپولیئن ہِل (Napoleon Hill) نے اس کتاب کی اشاعت سے بھی پہلے 1953ء میں اپنے ایک ریڈیو پروگرام Three Causes of Failure میں کہا تھا کہ لوگوں کی ناکامی کی وجوہ صرف تین ہوتی ہیں۔ اِن تین میں سے ایک وجہ ہے‘ مشکلیں پیش آنے پر کامیابی کے حصول کی کوشش ترک کر دَینا۔ اگر ہم کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ناکامیوں کے باوجود کوشش کرتے رہیں۔
کامیابی کے حصول کی کوشش ترک کرنا لوگوں کے ناکام ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ کامیابی کے حصول کی کوشش تَرک کر دینا واحد مستقل ناکامی ہے۔ جب تک ہم پُوری فعالیت کے ساتھ کوششیں کرتے رہتے ہیں‘ تب تک آپ ناکام نہیں ہوتے۔ ایک نہ ایک دن آپ کامیاب ہو جائیں گے۔ہماری حکمتِ عملی غلط ہی کیوں نہ‘ کوشش کرتے رہیں۔ کوششیں کرتے رہنے سے ہم سیکھتے ہیں۔ کوششیں کرتے رہنے سے ہماری اُمیدیں زندہ رہتی ہیں۔ کوشش کرتے رہنا کامیابی حاصل کرنے کا سب سے اہم اصول ہے۔
لاپروائی:
لاپروائی انسانوں کے ناکام ہونے کی دوسری سب سے بڑی وجہ ہے۔ اگرہم کوئی کام پُوری توجہ سے نہیں کریں گے تو ہم اسے ٹھیک طرح سے نہیں کر سکیں گے۔ لاپروائی ہماری پوری زندگی کو برباد کر سکتی ہے۔ لاپروائی کا سب سے خطرناک رُخ یہ ہے کہ زندگی کے ایک میدان میں اسے اپنا لیا جائے تو اس کے نتیجے میں ہونے والی ناکامی ہماری زیست کے دوسرے حصوں پر بھی جلد ہی اثر ڈالتی ہے اور ناکامی کا دائرہ وسیع کر دیتی ہے۔ یہ اصول یاد رکھیے کہ جتنا زیادہ ہم توجہ‘ دل چسپی اور ولولہ و جوش سے کام لیں گے‘ ہماراکامیاب ہونا اتنا زیادہ یقینی ہو جائے گا۔
غلط مقام:
بعض اوقات ناکامی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ناکام ہونے والا شخص صحیح مقام پر نہیں ہوتا۔ وہ غلط ملک یا شہر یا غلط ملازمت میں ہوگا۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اس کا کوئی مشغلہ غلط ہو۔ یہ ناکامی کی سب سے پیچیدہ وجہ ہے۔ہمارے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ کس وقت کوئی ملازمت یا شہر چھوڑ دینا چاہیے۔ ہو سکتا ہے ہم اس وقت درمیانے درجے کی ملازمت کر رہے ہوں جب کہ کسی دوسرے شعبے میں ہوتے تو عالمی سطح کا کام کر سکتے تھے۔ مختلف کاموں کا تجربہ ضرور کرنا چاہیے۔
اپنی ناکامی کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دینا:
اپنی ناکامی کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانا صرف مسئلہ نہیں بلکہ زہر بھرا اندازِ فکر ہے۔ آپ جانتے ہیں اپنی ناکامی کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانے کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب ہے ہم تسلیم کر رہے ہیں کہ ہمارا کوئی اختیار نہیں‘ ہم بے اختیار و بے بس ہیں۔ اگر ہم کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اپنی ناکامی کی مکمل ذمہ داری قبول کرنا ہوگی اور اس کی اصلاح کرنا ہوتی ہے۔ اس طرح ہمیں بہتر کام کرنے کا موقع ملے گا۔ یاد رکھیے دُنیا میں صرف ہمیں خودہی پر کامل اختیار حاصل ہے۔
خوف:
خوف ہمیں مفلوج کر دیتا ہے۔ہمیں اپنی زندگی میں ہرن جیسا انداز نہیں اپنانا چاہیے۔ جمود زندگی کی اچھی حکمتِ عملی نہیں ہے۔ حرکت کرنا اور آگے بڑھتے رہنا ہمیں کامیابی دلا دیتا ہے۔ اگر خوف ہمیں کوئی کام نہیں کرنے دے رہا تو خوف کا سامنا کیجیے۔ جیسے ہی ہم خوف کا جواں مردی سے مقابلہ کریں گے‘تو کامیابی فوراً ہمیں حاصل ہو جائے گی۔ خوف پر قابو پا لینا ہی کامیابی ہے۔ یہ کامیابی مزید کامیابیوں کے دروازے کھول دے گی۔ خوف ناکامی کا سب سے خطرناک ہتھیار ہے۔خوف روشنی کا سامنا نہیں کر سکتا۔ اگر ہم خوف کے سامنے ڈٹ جائیں گے تو جلد ہی وہ ہم سے خود ہی ’خوف زدہ“ ہو جائے گا۔
نااُمیدی:
اگرہم ناکامی کی توقع رکھیں گے تو یقینا ناکام ہو جائیں گے۔ نااُمیدی اس لیے ناکامی کی وجہ بنتی ہے کہ اس کی وجہ سے انسان اتنی کوششیں نہیں کرتا جتنی کہ اسے کرنا چاہئیں۔ کامیابی کے حصول کے لیے کوشش کرنا ضروری ہوتا ہے۔ کامیابی کے حصول کی کوششوں کو تیزی اس اُمید سے ملتی ہے کہ آپ کی کوششیں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ایک معرکے میں شکست پوری جنگ میں شکست نہیں ہوتی ،بعض اوقات کوئی چھوٹی ناکامی تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ ہم کاروباری ناکامی سے دوچار ہو جائیں تو ہمارے لیے مثبت رہنا ممکن نہیں ہوتا۔ لیکن کامیابی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اگر ہمارا کاروبار ناکام ہوا ہے تو یقینا ہم نے اس سے یہ سبق ضرور سیکھا ہوگا کہ اگلی مرتبہ کون کون سی غلطیاں نہیں کرنی۔
منصوبہ بندی کا فقدان:
اگر ہم کوئی بھی کام کرنے سے پہلے منصوبہ بنا لیں گے تو ہماری کامیابی کا امکان بڑھ جائے گا۔ جو لوگ منصوبہ بنائے بغیر کام شروع کرنے کی وجہ سے ناکامی سے دوچار ہوجاتے ہیں‘ انھوں نے محض ایک سادہ سا منصوبہ بنا کر کامیابی حاصل کر لی۔ اب کسی کام کا منصوبہ بنائیں مکمل امکانات کو مدِنظر رکھ کر بنائیں۔ تاکہ ہماری راہ میں رکاوٹیں کم آئیں اور کامیابی سے ہمکنار ہو سکیں۔
یقین کا نہ ہونا:
انسانی دماغ مسائل حل کرنے اور مستقبل کی پیش گوئی کرنے والی انتہائی طاقت ور مشین ہے۔ہم اس مشین میں یقین ڈالیں گے تو تجزیہ‘ قدر پیمائی اور عمل کے تین مراحل کا آغاز ہو جائے گا جس کا نتیجہ ہماری خواہش کے مطابق نکلے گا یعنی ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اگر ہم اپنے مقصد کے حصول کے حوالے سے بھرپور یقین سے محروم ہوں گے تو ابتدا ہی سے ناکامی ہمارا مقدر ہو گی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ بھی انسانی گمان کے مطابق فیصؒہ صادر فرماتے ہیں‘ اور ان کی حالت کبھی تبدیل نہیں کی جاتی‘ جو خود کوشاں نہیں ہوتے‘ اور صمیم ِ قلب سے یقین نہیں رکھتے۔ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے ہمیں یقین پیدا کرنا ہوگاکہ ہم اس میں کامیاب ہوں گے۔
لوگوں کی یادوں میں زندہ رہنے کی کوشش نہ کرنا:
ہم میں سے ہر ایک ہمیشہ کے لیے زندہ رہنا چاہتا ہے‘ لیکن زندہ وہی رہتا ہے جو دوسروں کے لیے زیست سہل کر جاتا ہے‘ ہمیں ایسے کام ضرور کرنا چاہئیں کہ مرنے کے بعد لوگ ہمیں یاد رکھیں۔ محض اچھے کام کرنے کی بجائے مثالی‘ کردار ادا کیجیے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب ہمارے ذہن میں یہ پختہ خیال موجود ہو گا کہ ہم نے ہر کام اس طرح کرنا ہے کہ لوگ ہمیں مرنے کے بعد بھی یاد رکھیں تو کامیابی ہر قدم پرہمارا استقبال کرے گی اور ناکامی کا سایہ بھی ہماری زندگی پر نہیں پڑے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی ناکامی کو کامیابی میں بدلیں اور اپنے ملک و قوم کے لیے ایک سایہ دار درخت بنیں‘ نہ کی ناکام ہو کر خود کشی‘ یا معاشرے پر بوجھ بن کر زندہ رہیں۔یاد رکھیں کہ کوئی بھی شخص ناکام نہیں ہوتا جب تک وہ خود ناکامی کو تسلیم نہ کر لے۔

عابد ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • فائو جی کیمرا
  • موجودہ حالات اور بڑھتا ہوا ذہنی دباؤ
  • پہلے انڈا آیا ۔ یا مرغی
  • ابن انشاء’’اردو کی آخری کتاب‘‘
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
فیصلے ملک کے مفاد میں ہونے چاہئیں!
پچھلی پوسٹ
قائد اعظم کا نوجوانوں سے ذاتی حیثیت سے خطاب !

متعلقہ پوسٹس

طلب کے خول سے دل

اکتوبر 15, 2025

حق کا پرچار کیے گزرے پیمبر اکثر

جولائی 13, 2022

گمراہی کا راستہ

جنوری 4, 2022

عید گاہ

نومبر 5, 2019

مولانا شبلی نعمانی اور اردو زبان

ستمبر 24, 2025

کر کے رہوں گی خیر کی تدبیر دیکھنا

اکتوبر 10, 2025

ممتاز مفتی کی کتاب "غبارے” سے

دسمبر 16, 2019

گاف گُم

جنوری 13, 2020

چارہ گر

جولائی 15, 2025

غریب اور عید

اپریل 26, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہلکی دھڑکنیں

دسمبر 3, 2024

سگریٹ اور فاؤنٹین پن

جنوری 23, 2020

اپنے دُکھ مجھے دے دو

جنوری 15, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں