104
راہ چلتے کو یہ اعزاز نہیں دے سکتے
اپنی آنکھوں میں چھپے راز نہیں دے سکتے
وہ خدا ہے تو گزارش بھی الگ بنتی ہے
سوچتے رہتے ہیں آواز نہیں دے سکتے
اس کہانی میں کئی بار جدائی ہوگی
ڈرتے رہتے ہیں سو آغاز نہیں دے سکتے
اس کا مطلب کہ ہمیں بولنا آتا ہی نہیں
اس کی چپ کو اگر آواز نہیں دے سکتے
جو بزرگوں کی زیارت کو نہیں جاتے ہیں
لفظ کو قوتِ پرواز نہیں دے سکتے
تیری تسکین کی خاطر ہے یہ دنیا حاضر
بس تجھے چادرِ شہباز نہیں دے سکتے
تجدید قیصر
