138
مجھے بناتا ہے میری جیسی نہیں بناتا
وہ کوزہ گر اب عجیب مٹی نہیں بناتا
اگر اسے علم ہوتا تیری کشادگی کا
وہ پانیوں پہ قدیم کشتی نہیں بناتا
جو چاہتا ہے تمہیں خبر ہو خمار کیا ہے
وہ بارشیں بھیجتا ہے چھتری نہیں بناتا
تمہاری خوشبو سے جس کے شانے مہک رہے ہوں
وہ صندلوں سی عظیم لکڑی نہیں بناتا
پھر اس نے اک دن تمہاری آنکھوں سے دنیا دیکھی
اور اب خدا بھی ادھیڑ عمری نہیںبناتا
یہاں پہ بودھی کے پیڑ اگتے ہیں اس لیے تو
ہماری بستی میں کوئی آری نہیں بناتا
جو مجھ سے کہتا تھا تیری خاطر بنائی دنیا
وہ سچا ہوتا تو اِس کو اندھی نہیں بناتا
جو ایک پل کو تمہارے قدموں میں بیٹھ جائے
زمین والوں کو اپنا قاری نہیں بناتا
وہ اپنی تنہائی بانٹ سکتا نہیں کسی سے
وہ آسماں تک تبھی تو سیڑھی نہیں بناتا
تجدید قیصر
