خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابا14اگست: جشنِ آزادی اور اس کے تقاضے!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمز

14اگست: جشنِ آزادی اور اس کے تقاضے!

از سائیٹ ایڈمن اگست 15, 2020
از سائیٹ ایڈمن اگست 15, 2020 0 تبصرے 43 مناظر
44

14اگست: جشنِ آزادی اور اس کے تقاضے!

آزادی کسی قوم کا وہ بیش بہا سرمایہ افتخار ہوتا ہے جو اس قوم کی زندگی اور اس کے تابناک مستقبل کا ضامن حیات ہوتا ہے غلام قومیں اور محکوم افراد پر مشتمل معاشرے نہ صرف اصل حیات و ممات سے محروم رہ جاتے ہیں بلکہ زمین پر ایک بوجھ بھی ہوتے ہیں۔ غلامی وہ مرض کہن ہے کہ جو دِلوں کو یکسر مردہ کردیتا ہے شاید اسی لئے غلامی کو آزادی میں بدلنے کا زریں نسخہ بتاتے ہوئے علامہ اقبال نے بجا طور پر فرمایاتھا کہ،دل مردہ، دل نہیں ہے، اسے زندہ کردوبارہ!،کہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ!
حقیقی آزادی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی مرضی سے ہر کام کر سکیں پھر چاہے اُن کے کاموں کا نتیجہ کچھ بھی ہو۔‏ اِس حوالے سے“‏ دی ورلڈ بک اِنسائیکلوپیڈیا”‏ میں بتایا گیا ہے کہ “آزادی ”‏وہ نعمت ہے جس کی بِنا پر ہم اپنی مرضی سے فیصلے کر سکتے ہیں اور اِن پر عمل کر سکتے ہیں‏ساتھ ہی ساتھ اِس میں یہ بھی بتایا گیا ہے:‏ “‏‏قانونی نقطۂ‌نظر سے لوگوں کو آزادی دراصل اُس وقت ملتی ہے جب اُن پر کوئی ناجائز یا غیرضروری حدیں نہیں لگائی جاتیں”۔‏ مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ملک پاکستان جو رمضان المبارک کی 27ویں کو معرض وجود میں آیا۔ قائداعظم نے 13اگست 1947ء کو کراچی میں لارڈ مائونٹ بیٹن کے اعزاز میں ضیافت کے موقع پر تقریر میں فرمایا ’’آج ہندوستان کے لوگوں کو مکمل اقتدار منتقل ہونے والا ہے اور 15 اگست 1947ء کے مقررہ دن دو آزاد اور خودمختار مملکتیں پاکستان اور ہندوستان معرض وجود میں آجائیں گی‘‘۔[قائداعظم تقاریر و بیانات: بزم اقبال لاہور صفحہ 361]
قائداعظم نے 15اگست 1947ء کو پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس کی افتتاحی تقریب پر قوم کے نام پیغام میں فرمایا ’’بے پایاںمسرت اور تہنیت کے ساتھ میں آپ کو مبارک باد کا پیغام دیتا ہوں۔ 15 اگست آزاد اور خودمختار پاکستان کی سالگرہ کا دن ہے‘‘۔[ایضاََ صفحہ 364]  جولائی 1948ء میں پاکستان کی پہلی ڈاک ٹکٹ جاری کی گئی اس پر بھی آزادی کی تاریخ 15اگست 1947ء درج کی گئی ۔
آج قائداعظم کے 13، 14 اور 15 اگست 1947ء کے خطابات کے اقتباسات سے آزادی کی روح کو تلاش کرنے کی کوشش کرنے کا وقت تقاضا کر رہا ہے۔ قائداعظم نے اپنے 13اگست 1947ء کے خطاب میں فرمایا ’’اب ہمارے سامنے ایک نئے باب کا آغاز ہورہا ہے۔ ہماری کوشش یہ ہوگی ہم برطانیہ اور ہمسایہ مملکت ہندوستان اور دیگر برادر اقوام کے ساتھ بھی خیر سگالی اور دوستی کے تعلقات استوار کریں اور انہیں برقرار رکھیں تاکہ ہم سب مل کر امن، امن عالم اور دُنیا کی خوشحالی کے لیے اپنا عظیم ترین کردار ادا کرسکیں‘‘۔[ایضاََ صفحہ 363]
قائداعظم نے 14 اگست 1947ء کو مجلس دستور ساز پاکستان کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں فرمایا ’’ہماری پیہم کوشش یہ ہوگی کہ ہم پاکستان میں آباد تمام گروہوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں اور مجھے توقع ہے کہ ہر شخص خدمت خلق کے تصور سے سرشار ہوگا۔ وہ جذبہ تعاون سے لیس اور ان سیاسی اور شہری اوصاف سے سرفراز ہوں گے جو کسی قوم کو عظیم بنانے اور اس کی عظمت کو چار چاند لگانے میں ممدو معاون ہوتے ہیں۔[ایضاََ صفحہ 363]

قائداعظم نے اپنے اسی خطاب میں فرمایا ’’عظیم شہنشاہ اکبر نے تمام غیر مسلموں کے ساتھ رواداری اور حسن سلوک کا مظاہرہ کیا۔ اس کی ابتداء آج سے چودہ سو برس پہلے بھی ہمارے پیغمبرﷺ نے کردی تھی۔ آپﷺ نے زبان سے ہی نہیں بلکہ عمل سے یہود و نصاریٰ پر فتح حاصل کرنے کے بعد نہایت اچھا سلوک کیا ان کے ساتھ رواداری برتی اور ان کے عقائد کا احترام کیا‘‘۔قائداعظم نے خود حضور اکرمﷺ کے اسوۂ حسنہ (امانت، دیانت، صداقت اور شجاعت) پر عمل کردکھایا۔انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ ان کے پاکستان میں وہ دن بھی آئے گا جب مسلم اور غیر مسلم دونوں محفوظ نہیں ہونگے اور کلمہ گو مسلمان ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہے ہونگے۔

کیا آج ہم سرور کائناتﷺ کے اسوۂ حسنہ پر عمل کررہے ہیں ؟قائداعظم نے 15اگست 1947ء کو پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس کی افتتاحی تقریب پر قوم کے نام ایک پیغام میں فرمایا ’’نئی مملکت کی تخلیق کی وجہ سے پاکستان کے شہریوں پر زبردست ذمے داری آن پڑی ہے انہیں یہ موقع ملا ہے کہ وہ دُنیا کو دکھا سکیں کہ ایک قوم جو بہت سے عناصر پر مشتمل ہے کس طرح امن و آشتی کے ساتھ رہ سکتی ہے اور ذات ، پات اور عقیدے کی تمیز کے بغیر سارے شہریوں کی بہتری کے لیے کام کرسکتی ہے‘‘۔[ایضاََ صفحہ 364] اسی خطاب میں قائداعظم نے مزید فرمایا ’’امن اندرون ملک اور امن بیرون ملک ہمارا مقصد ہونا چاہیئے۔ ہم پر امن رہنا چاہتے ہیں اور اپنے نزدیکی ہمسایوں اور ساری دُنیا سے مخلصانہ اور دوستانہ تعلقات رکھنے چاہتے ہیں۔ ہم کسی کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں کررکھتے۔ ہم اقوام متحدہ کے منشور کے حامی ہیں اور امن عالم اور اس کی خوشحالی کیلئے اپنا پورا کردار ادا کریں گے‘‘۔[ایضاََ صفحہ 364]
امن اور خوشحالی قائداعظم کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول تھا۔ ہم آزادی کی روح سے انحراف کرکے مسلسل بھٹک رہے ہیں۔ ہمارا چالاک اور مکار ہمسایہ بھی ہمارے لیے مصائب پیدا کررہا ہے۔ قائداعظم نے اپنے اسی پیغام میں فرمایا ’’اے میرے ہم وطنو آخر میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان بیش بہا وسائل کی سرزمین ہے لیکن اس کو ایک مسلم قوم کے شایان شان ملک بنانے کیلئے ہمیں اپنی تمام توانائیوں کی ضرورت ہوگی‘‘۔ بیش بہا وسائل کے باوجود پاکستان آج بھی زوال پذیر ہے۔

قائداعظم نے یوم آزادی پر گورنر جنرل ہائوس میں ایک استقبالیہ دیا۔ سٹاف نے مہمانوں کے لیے کاریں رینٹ پر لینے اور گرمی کی وجہ سے چھتریاں خریدنے کی اجازت طلب کی۔ قائداعظم محسن انسانیت اور رحمتہ الالعالمینﷺ کے نقش قدم پر چلنے والے سیاسی رہنما تھے۔ آپ نے یوم آزادی پر بیت المال (قومی خزانے) کے محتاط خرچ کی شاندار روایت کا آغاز کیا اور سٹاف سے کہا کہ مسلم لیگ کے لیڈروں سے کاریں اور وائی ایم سی اے ہال سے چھتریاں عارضی طور پر حاصل کر لی جائیں۔ قائداعظم کے بعد ہم مجموعی طور پر قول و فعل کے تضاد کا شکار ہوگئے ہیں۔ آزادی کی روح کو فراموش کربیٹھے ہیں جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے مگر ہم تاریخ سے سبق سیکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

یوم آزادی کا سبق اور پیغام یہ ہے کہ نوجوان قائداعظم کی اساسی تعلیمات اور آزادی کی روح کے مطابق پاکستان کی تشکیل نو کی جدوجہد کا آغاز کریں اور سیرت رسولﷺ کے خلاف چلنے والوں اور قائداعظم کے ذہنی اور فکری مخالف عناصر کا بے دریغ اور بلاامتیاز کا قلع قمع کرکے آزادی کی روح کو بازیاب کرائیں۔ انقلابی عوامی جدوجہد کے بغیر پاکستان کو غاصبوں اور ظالموں کے قبضے سے نجات دلاناممکن نہ ہوگا۔جب تک آزادی کی روح بحال نہ ہوجائے ہم اپنے مسائل سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔
ہمارا مکار دشمن ابتداء سے ہی امن دشمن پالیسوں پر گامزن ہے ، جس میں مسلسل تیزی آ رہی ہے،
قائداعظم نے خیر سگالی، دوستی، امن اور خوشحالی کا جو پیغام دیا تھا وہ ہی آزادی کی روح تھا۔ افسوس بھارت نے قائداعظم کے پرخلوص جذبے کی قدر نہ کی اور ہندو ذہنیت تبدیل نہ ہوئی۔ بھارت آج بھی سرحدی کشیدگی پیدا کرکے اپنا اصل چہرہ دکھا رہا ہے، جس نے اقوام متحدہ کی قراردوں کو بھی پاوں تلے روند دیا، یوں تو بھارت نے شروع دِن سے ہی امن کی خواہش کو نظر انداز کیا ، لیکن 05 اگست 2019 کو جملہ انسانی حقوق کو پامال کر کے غیر قانونی ، غیر آئینی ، جبری کشمیر کی حیثیت تبدیل کی ، پھر غیر قانونی ڈومیسائل کا اجراء ، اور جبری ، انسانیت سوز کرفیو کو سال سے زائد کا عرصہ بیت گیا، علاوہ ازیں جنگی جنون میں آزاد کشمیر میں بھی ایل او سیز پر بلا اشتعال گولہ بھاری بھارتی عزائم کا منہ بولتا ثبوت ہیں ، سب سے بڑھ کر مودی سرکار نے انسانی بنیادی حقوق آزادی کو سلب کر لیا ، جو اقوام عالم کے لیے لحمہ فکریہ ہے۔
پاکستان کلمہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ، اس کا بنیادی مقصد امن ، سب کے حقوق کا تحفظ ہے ۔ہمیں آزادی کی قدر کرنی چاہیے ، وہ وقت بھی قریب ہے جب بھارت کے ظالمانہ تسلط سے وادی کشمیر بھی پاکستان کے ساتھ جشنِ آزادی منائیں گے (ان شاء اللہ تعالیٰ)

عابد ہاشمی ، آزاد کشمیر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہے بحرِ بے کَنار سے اَفزُود تیری یاد
  • ڈھلے جب شام دل میں
  • گم شدہ چراغ
  • کیا بتاوں میں کدھر جاتا ہوں روز
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ہمارے وطن
پچھلی پوسٹ
معاشرتی اقدار، قربانیاں اور آزادی کی نعمت!

متعلقہ پوسٹس

مَیں شعر کہوں گا تو پذِیرائی کرے گا

نومبر 13, 2025

آ کبھی شام کے علاوہ بھی

جون 12, 2020

جوہرِ بیش بہا کو کھولا

اکتوبر 25, 2025

تغیراتی کمال ہونے میں دن لگیں گے

جولائی 11, 2021

خاموش چیخیں اور بکھری ہوئی راہیں

مارچ 13, 2025

قرب رسول کلام اعلیٰ 

اگست 20, 2020

کہیں جواب کہیں پر دلیل جھوٹی ہے

اپریل 23, 2022

سرِ بازار

مئی 14, 2024

تعلق کی ویران سڑک پر

اگست 5, 2025

درویش جو مسکرا رہا ہے

اکتوبر 25, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

طارق فتح کیسے پیدا ہوتا ہے...

مارچ 27, 2019

لباسِ ارغوانی

دسمبر 18, 2024

توبۃ النصوح – فصل دہم

اکتوبر 30, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں