خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکراچی کی آواز، ہمیں تو اپنوں نے لوٹا!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

کراچی کی آواز، ہمیں تو اپنوں نے لوٹا!

از سائیٹ ایڈمن جولائی 31, 2020
از سائیٹ ایڈمن جولائی 31, 2020 0 تبصرے 65 مناظر
66

کراچی کی آواز، ہمیں تو اپنوں نے لوٹا!

کچھ حقیقتیں اتنی تلخ ہوتی ہیں کہ انکا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا، لیکن سچائی چیخ چیخ کر اس حقیقت کو حرف عام بنا دیتی ہے۔ ہم بارہا بے حسی کا تذکرہ کرتے رہے ہیں اور یہ حقیقتیں اور یہ سچائیاں بھی اس بے حسی کی بھینٹ چڑھتی جا رہی ہیں بلکہ تقریباً چڑھ ہی چکی ہیں۔ ہمارے ملک میں روزانہ رات آٹھ بجے سے تقریباً گیارہ بجے تک ٹیلی میڈیا پر بڑے بڑے سیاسی فلسفی جلوہ گر ہوتے ہیں اور حالات و اقعات پر بھر پور گفتگو ہوتی ہے۔کچھ تو مانتے ہیں کہ یہاں بیٹھ کر ہی انکی روزی روٹی کا بندوبست ہوتا ہے باقیوں کا علم نہیں کہ وہ فقط روزی روٹی کی خاطر وہاں بیٹھے ہوتے ہیں یا پھرکوئی اور وجہ انہیں وہاں بیٹھائے رکھتی ہے۔ اب سچ بولنے کا رواج رہا نہیں، اب صرف بولنے کا رواج ہے یعنی آپ کے سامنے مائیک اور کیمرہ ہے اب آپ بولیں۔ ایسا نہیں کہ یہ کام صرف ٹیلی میڈیاپر سرانجام دیا جارہا ہے بلکہ پڑنٹ میڈیا اور سماجی میڈیا والے بھی سیاسی کیا، معاشرتی کیا،مذہبی کیا، تقریباً ہر موضوع پر طبع آزمائی کرتے دیکھے جاسکتے ہیں اور بڑے بڑے مسائل کے حل بھی تلاش کئے جاسکتے ہیں، ہم بھی اپنے آپ کو ان لوگوں میں شامل رکھتے ہوئے نا چاہتے ہوئے بدبودار پانی میں چھلانگ لگا ہی دیتے ہیں۔ حالات اور وقت کا تقاضہ ہے کہ بھلے کچھ کرو یا نا کرو لیکن دونوں ہاتھو ں سے ڈھول پیٹنا شروع کردو کہ یہ کیا ہوگیا یہ کیاہوگیا۔ سنتے ہیں کہ گزرے زمانوں کی عزت کی بقاء کی خاطر بڑے بڑے حادثے اور سانحہ لوگ خاموشی سے سہہ جاتے تھے (یہ غلط تھا یا صحیح پھر اور کبھی کیلئے رکھ چھوڑتے ہیں)۔آج تو گھروں کے بہت ہی اندر کی خبروں میں نمایاں کر نے کی استدعا کی جاتی ہے اور سماجی ابلاغ پر رجحان (ٹرینڈ) چلائے جاتے ہیں۔

کراچی چیخ رہا ہے درد کی شدت سے، کرب کی حد ت سے، کراچی اس وقت سے چیخ رہا ہے جب آخباروں میں لاشوں کی گنتیاں شائع ہوتی تھیں اور جس دن ایک یا دو کم ہوتی تھیں تو کچھ کراچی کے شہری حالات کو اچھا سمجھنے لگتے تھے یہ وہ وقت تھا جب پورا پاکستان کراچی کے نام سے خوفزدہ ہوجاتا تھا اور شائد سوائے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد کے کہیں سے کراچی کوئی نہیں آتا تھا۔ روشنی کی علامت سمجھا جانے والا شہر خوف و دہشت کی ویرانی سے اٹ گیا اور ناحق خون میں ڈوب گیا تھا۔ پھر امن کا سورج طلوع ہوا پھر کراچی کی رونقیں بحال ہونا شروع ہوئیں لیکن اب کراچی والے خوف اور دہشت کے موذی مرض میں بری طرح سے مبتلا ہوچکے تھے جس سے بچنے کیلئے ان زبوں حال لوگوں نے خود کو پان، سگریٹ، گٹکے اور دیگر نشوں کے حوالے کردیا۔ ایک طرف جلاؤ گھیراؤ ہڑتالوں کی وجہ سے شہر برباد ہواتو دوسری طرف شہری بھی برباد ہوتے چلے گئے۔علم کے متوالوں کے شہر سے، علم کورخصت دے دی گئی جوکہ تاحال ملی ہوئی ہے اور اب بہت مشکل سے کوئی با ادب با ملاحظہ سے واقف ملتا ہے (ملتا ہے ایسا نہیں کہ نہیں ملتا)۔بد قسمتی سے علم سے دوری نے اردو بولنے والوں کو انکی اپنی زبان سے دور کر دیا، بولتے تو اردو ہی ہیں لیکن وہ اردو جو ادب سے عاری اور مغلظات سے بھرپور ہوچکی ہے۔

کراچی جو کہ پاکستان کے سب سے منظم شہروں کی فہرست میں اول نمبر پر آتا تھا، سیاست اور مفادات کی بھینٹ چڑھتے چڑھتے شائد اس فہرست میں سب سے آخری نمبر پر پہنچ گیا ہوگا۔ جہاں اس بات پر اغیار نے جشن منایا ہوگا تو اس میں اپنے بھی خوب شامل رہے ہونگے۔ پچھلے کچھ سالوں سے گرمی کی شدت بھی کراچی والوں پر غیض و غضب ڈھا رہی ہے پھر بادل برستے ہیں یعنی بارش ہوتی ہے تو پانی آتا ہے اور جب زیادہ بارش ہوتی ہے تو زیادہ پانی شہر کی سڑکوں کو ڈبودیتا ہے۔ کراچی اور کراچی والوں کو سیاست کی بھینٹ چڑھایا جاتا رہا ہے، حکومت سندھ کام نہیں کرتی کیوں کہ کراچی والے انہیں ووٹ نہیں دیتے کراچی والے ایم کیو ایم (پاکستان) کو ووٹ دیتے ہیں جو وفاق میں تو حکومت کا حصہ بن جاتے ہیں لیکن اپنے شہر کے صوبے میں حزب اختلاف کا حصہ بن جاتے ہیں، گوکہ کراچی کی مئیر شب ایم کیو ایم (پاکستان) کے پاس ہی رہی ہے کراچی کا ناظم بھی ایم کیوایم (پاکستان) سے ہی رہا لیکن مشکل یہ رہی ہے کہ ترقیاتی اور عمومی اخراجات حکومت سندھ کی طرف سے ملنے ہوتے ہیں جہاں ایم کیوایم (پاکستان) حکومت مخالف جماعت ہے۔یہ صرف کراچی ہی کی نہیں بلکہ پورے سندھ کی بد قسمتی ہے رہی ہے کہ یہاں ترقی کو رسائی دی ہی نہیں گئی۔ کراچی کی معاشی اہمیت کی بدولت ہمیشہ وفاق کی خصوصی گرانٹ کی مرہونِ منت کچھ کام ہوئے،ایک طرف ایم کیو ایم (پاکستان) سے نکلے ہوئے افراد نے پاک سرزمین پارٹی کی بنیاد رکھنے والے مصطفی کمال صاحب جوکہ سابقہ ناظم ِ کراچی رہ چکے ہیں انکے دور میں کئے جانے والے ترقیاتی منصوبوں کا سارا کا سارا سہرا اپنے سر باندھتے دیکھائی دیتے ہیں جوکہ ایک حد تک صحیح بھی ہے کیونکہ وفاق سے (اسوقت کے صدر پرویز مشرف صاحب)ملنے والی رقم کو اس طرح سے شہر کی تزئین و آرائیش پر لگتا کبھی پہلے یا بعد میں نہیں دیکھا جا سکا ہے۔

ہمارے ملک میں ایک شہر سے دوسرے میں باقاعدہ سکونت اختیار کرنے کے حوالے سے کوئی ضابطہ نہیں ہے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کراچی میں روزگار کے لئے آنے والے مکمل سکونت اختیار کرتے چلے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے کراچی کی آبادی جوکہ سن دو ہزار (۰۰۰۲) میں لگ بھگ اٹھانوے لاکھ تھی اور دوہزار بیس میں کراچی کی آبادی دوکروڑ سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ کراچی میں بے قاعدگیوں کی ایک نا ختم ہونے والی داستانیں ہیں۔ کراچی سب کا ہے لیکن کیا صرف اس لئے کہ اسے نوچ نوچ کر کھایا جائے اس لئے نہیں کہ اس کا خیا ل بھی رکھا جائے۔ جس حساب سے آبادی بڑی اس حساب سے کوئی کام نہیں ہوا۔کراچی شہر دنیا کے بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے، اس شہر کے مسائل بھی بڑے بڑے ہی ہیں پینے کا پانی نایاب ہے، بجلی کا ہونا نا ہونا ایک برابر ہے اس پر بجلی کے بل من مانی، ہر طرف کچرہ کنڈی نے کراچی جیسے شہر کو کچرہ کنڈی میں بدل کر رکھ دیا ہے، اور سب سے بڑھ کر ہم نے گندے پانی کے نکاس کے نظام (سیوریج) پر کبھی بھی خاطر خواہ دھیان نہیں دیا بس چل سو چل والی حکمت عملی پر گامزن رہے۔

ایسا بھی سنتے آئے ہیں کہ کراچی کوتو سمندر بدر ہونا ہی ہے تو آجکل جو کراچی صورتحال ہے وہ بلکل ایسی ہی دیکھائی دے رہی ہے کہ کہ کراچی ڈوب رہا ہے۔ بارش کیساتھ ساتھ الزام تراشیوں کی بھی بارش جاری ہے کوئی کراچی کی تباہی کی ذمہ داری کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے،یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پیپلز پارٹی نے کبھی کراچی کو اہمیت دینے کی کوشش ہی نہیں کی اور اس بات کا واضح ثبوت کراچی کی بد سے بدتر ہوتی ہوئی صورت حال ہے، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آبائی حلقوں میں کبھی کام نہیں کرایا تو وہ کراچی جیسے شہر کیلئے کیا کرینگے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کراچی ایک ایسی لاش ہو جسے نامعلوم لوگوں نے قتل کردیا ہو اور اب کوئی اس لاش کو اٹھانے والا بھی نا ہو کیونکہ کراچی کی نامعلوم لاشوں کے وارث ایدھی صاحب بھی اس دنیا میں نہیں رہے۔ رات گئے جب اپنی بالکونی میں کھڑا سڑکوں اور گلیوں میں پانی اور دور تک پھیلے ہوئے اندھیرے کو دیکھتا ہوں تو کراچی کی نم آلود ہوائیں کانوں میں سرگوشیاں کرتی ہوئی گزر جاتی ہیں کہ ×ہمیں تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تجھ سے کہہ جو دیا
  • افسر کا فن
  • پاکستان کے تعلیمی مسائل
  • ترکی بدل گیا ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
عید قربان معارف و اسباق
پچھلی پوسٹ
عید قرباں:عزت ِ مجبور کو قربان تو نہ کیجیے!

متعلقہ پوسٹس

ہنرمند نسل کی تعمیر کیسے کی جائے؟

اکتوبر 13, 2025

اچھے دن آنے والے ہیں

نومبر 12, 2025

خاص بندوں پر خاص کرم

ستمبر 29, 2025

کرونا کی وبا: کیا حکومتی اعداد و شمار صحیح ہیں؟

اپریل 6, 2020

ایک پھول کم پڑ جائے گا

جنوری 12, 2026

اِقرار

مارچ 19, 2022

عجب باتیں کھٹکتی ہیں

جولائی 6, 2021

لالچ

مارچ 25, 2022

ہماری تہذیب اور مرحوم عامر

جولائی 13, 2022

غلامی کا زیور

مئی 29, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

رنگِ سوات

جنوری 19, 2020

اِدھر اُدھر میں نہیں

نومبر 11, 2025

کتن والی

مارچ 24, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں