خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےساسان پنجم
اردو افسانےاردو تحاریرنیر مسعود

ساسان پنجم

از فضّہ جون 15, 2020
از فضّہ جون 15, 2020 0 تبصرے 61 مناظر
62

ساسان پنجم
دور دور تک پھیلے میدانوں میں بکھری ہوئی ان کوہ پیکر سنگی عمارتوں کے بننے میں صدیاں لگ گئی تھیں اور ان کو کھنڈر ہوئے بھی صدیاں گذر گئی تھیں۔ خیال پرست سیاح ان کھنڈروں کے چوڑے دروں، اونچے زینوں اور بڑے بڑے طاقوں کو حیرت سے دیکھتے اور ان زمانوں کا تصور کرتے تھے جب گذشتہ بادشاہوں کے یہ آثار صحیح سلامت اور وہ بادشاہ بھی زندہ رہے ہوں گے۔

ان عمارتوں میں لگے ہوئے پتھر کی سلوں پر کندہ تصویروں کو زیادہ غور اور دل چسپی سے دیکھا جاتا تھا۔ صاف ظاہر تھا کہ یہ تصویریں اپنے زمانے کی تاریخ بیان کر رہی ہیں۔ ان میں تاج پوشیوں، جنگوں، ہلاکتوں، فاتح بادشاہوں کے دربار میں شکست خوردہ بادشاہوں کی حاضری اور دوسرے موقعوں کے منظر دکھائے گیے تھے جن سے ان پرانے زمانوں کی بہت سی باتوں کا کچھ اندازہ ہوتا تھا اور ان علاقوں کی پرانی تاریخ اور تمدن کے بارے میں کچھ غیریقینی سی معلومات حاصل ہوتی تھیں۔

انھیں کھنڈروں کے پتھروں پر بہت سے کتبے بھی کھدے ہوئے تھے اور سیاح ان کو بھی دل چسپی سے اور دیر دیر تک دیکھتے تھے، لیکن ان تحریروں کو کوئی پڑھ نہیں سکتا تھا۔ دیکھنے میں صرف ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کسی نے قطاروں کی صورت میں مختلف زاویوں سے تیروں کے پیکان بنا دیے ہیں، لیکن اس میں کسی کو کوئی شک نہیں تھا کہ پتھر کی سلوں پر پیکانوں کی یہ قطاریں در اصل لمبی لمبی عبارتیں ہیں جنھیں اگر پڑھ لیا جائے اور سمجھ بھی لیا جائے تو ان کی مدد سے ان تصویروں کو بھی اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے اور بہت سی ایسی باتیں بھی معلوم ہو سکتی ہیں جن کا تصویروں سے معلوم ہونا ممکن نہیں۔

ہمارے عالم ایک مدت سے ان تحریروں کو پڑھنے کی کوشش کر رہے تھے اور ناکام ہو رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ یہ اسی زبان کی تحریریں ہیں جس کے کچھ نمونے ساسانِ پنجم نے فراہم کیے تھے، لیکن ان نمونوں کی مدد سے ان کتبوں کو پڑھنا ممکن نہ ہوا اس لیے کہ وہ نمونے پیکانی تحریر میں نہیں تھے، اور ساسانِ پنجم کو گذرے ہوئے زمانہ ہو گیا تھا، بلکہ کسی کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ وہ کس زمانے میں تھا۔

آخر ایک مدت کی کاوشوں کے بعد جب مردہ زبانوں کو پڑھنے کا فن کافی ترقی کر گیا تو کھنڈروں کی انھیں تصویروں کی مدد سے اور کچھ دوسرے طریقوں سے ہمارے عالم پیکانوں کی شکل کی یہ تحریریں پڑھنے میں کامیاب ہو گیے۔ اور ان تحریروں کی مدد سے ان تصویروں کو بھی پوری طرح سمجھ لیا گیا۔ اس طرح گویا تحریروں نے تصویروں کا احسان اتار دیا۔ایک ایک کر کے سارے کتبے پڑھ لیے گیے اور اس خبر کا عام طور پر خیرمقدم کیا گیا کہ ہماری زبانوں میں ایک نئی زبان کا اضافہ ہوا ہے جو ہزاروں سال پرانی ہے۔

لیکن اس زبان کا ساسان پنجم کے فراہم کیے ہوئے نمونوں کی زبان سے کوئی تعلق نہیں نکلا بلکہ ان دونوں زبانوں میں کوئی اتفاقی مشابہت بھی نہیں پائی گئی، اور یہ بات ہمارے عالموں کے گمان میں بھی نہیں تھی اس لیے کہ ان کی کئی پشتوں نے ان نمونوں کی زبان کا بڑی سنجیدگی سے مطالعہ کیا تھا اور اس کے بارے میں عالمانہ خیال ظاہر کیے تھے۔ اب انھوں نے فیصلہ کر لیا کہ ساسانِ پنجم زبانوں کی تاریخ کا سب سے بڑا فریب یا سب سے بڑا مذاق تھا، جس کا شکار ہونا ظاہر ہے انھیں پسند نہیں آ سکتا تھا، اس لیے اب وہ چاہتے ہیں کہ ساسانِ پنجم اور اس کی زبان کو بھلا دیا جائے۔

ماننا پڑتا ہے کہ ساسانِ پنجم کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔ ایک تو اس کے وجود ہی کا انکار کر دیا گیااور انکار کی دلیل یہ دی گئی کہ چار ابتدائی ساسانوں کے بغیر پانچویں ساسان کا وجود قائم نہیں ہو سکتا، اور تاریخ میں ایک ساسان کے سوا ساسانِ دوم، ساسانِ سوم اور ساسانِ چہارم کا سراغ نہیں ملتا، لہٰذا ساسانِ پنجم بھی نہیں تھا؛ اسی کے ساتھ اس کی پیش کی ہوئی زبان کو بھی باطل کر دیا گیا۔

لائق عالموں نے بڑی محنت سے ثابت کیا ہے کہ ساسانِ پنجم نے جس زبان کے اصلی اور قدیمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اس زبان کا کبھی وجود نہ تھا، اور ساسانِ پنجم نے اس موہوم زبان کے جو الفاظ درج کر کے ان کے جو معنی لکھے ہیں وہ سب لفظ خود اس کے گڑھے ہوئے ہیں اور اس سے پہلے نہ کسی زبان سے ادا ہوئے تھے نہ کسی قلم نے انھیں لکھا تھا۔ اور اس زبان کی جو قواعد ساسان پنجم نے ظاہر کی ہے وہ بھی سراسر اس کے ذہن کی اختراع ہے، حقیقتاً کسی بھی زبان کے جملوں میں لفظوں کی ترتیب اس طرح نہیں تھی جس طرح ساسان پنجم کی اس مفروضہ قواعد میں ملتی ہے۔

عالموں نے یہ تمام باتیں ثابت کرنے میں حیرت خیز مطالعے اور ذہنی کاوش کا ثبوت دیتے ہوئے علم اور منطق دونوں سے کام لیا ہے اور اس سلسلے کی ہر نئی دریافت ان کے دعووں کو مزید مستحکم کرتی جاتی ہے۔ تاہم انھیں دریافتوں کی بنیاد پر یہ عالم اس کا بھی اعتراف کرتے ہیں کہ ایک عرصے تک ساسانِ پنجم کو حقیقی اور اس کی زبان کو اصلی سمجھا جاتا رہا اور گذشتہ عالم اس زبان کے لفظوں کا فخریہ استعمال کرتے تھے، لیکن ان لفظوں کی مدد سے ایک مستقل اور قائم بالذات زبان بولنے اور لکھنے میں ان گذشتہ عالموں کو کامیابی نہیں ہو سکی اگرچہ ان میں سے کئی اس زبان سے واقفیت کے مدعی بتائے جاتے تھے۔

آج کا عالم بتاتا ہے کہ گذشتہ زمانے میں کچھ لفظ استعمال ہوتے تھے جن کا حقیقی وجود نہیں تھا، وہ اس طرح کہ یہ لفظ جن معنوں میں استعمال کیے جاتے تھے در اصل ان کے معنی وہ نہیں تھے، در اصل ان کے معنی کچھ بھی نہیں تھے، تاہم ان میں کا ہر لفظ ایک مخصوص معنی کے لیے استعمال ہوتا تھا، یعنی بولنے والا ایک لفظ بولتا تھا اور اس سے ایک معنی مراد لیتا تھا اور سننے والا اس کے وہی معنی سمجھتا تھا جو بولنے والا مراد لیتا تھا، لیکن حقیقتاً اس لفظ کے وہ معنی نہیں ہوتے تھے جو بولنے والا مراد لیتا اور سننے والا سمجھتا تھا، اس لیے کہ در اصل وہ کوئی لفظ نہیں ہوتا تھا اور چونکہ وہ کوئی لفظ نہیں ہوتا تھا اس لیے اس کے کوئی معنی بھی نہیں ہوتے تھے۔ اور یہ بے معنی لفظ جس زبان کے سمجھے جاتے تھے اس زبان کا بھی حقیقی وجود نہیں تھا، اگرچہ عالم اس امکان کا انکار نہیں کرتے کہ کسی زمانے میں کہیں یہ زبان بولی اور سمجھی جاتی ہو، تاہم در اصل یہ کوئی زبان تھی نہیں۔

عالموں کی ساری تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ نہ کوئی ساسانِ پنجم تھا، نہ اس کی پیش کی ہوئی کوئی زبان تھی، نہ اس زبان کا کوئی لفظ تھا اور نہ اس لفظ کے کچھ معنی تھے۔

لیکن اسی ساری تحقیق کا خلاصہ یہ بھی ہے کہ ایک وقت میں کچھ معنی تھے جو بعض لفظوں سے ادا ہوتے تھے، اور یہ لفظ ایک زبان سے منسوب تھے، اور اس زبان کا تعارف ایک شخص نے کرایا تھا، اور وہ شخص خود کو ساسانِ پنجم بتاتا تھا۔

نیر مسعود

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جنس اور شادی کی نفسیات
  • پردہ فاش
  • بنت ِحوا تشدد کی زد میں کیوں؟
  • حالی اور اردو
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
فضّہ

اگلی پوسٹ
وقفہ
پچھلی پوسٹ
مراسلہ

متعلقہ پوسٹس

قرآن اور انسانی نفسیات

نومبر 5, 2025

پاکستان کی خوشحالی کا راستہ

اکتوبر 29, 2025

فطرت کی گود میں

دسمبر 1, 2024

خلیل جبران اور آج کا پاکستان

دسمبر 4, 2019

توپوں کی گھن گرج میں امن کی صدا

اکتوبر 12, 2025

سقوطِ ڈھاکہ کا مقدمہ

دسمبر 16, 2019

کیا اُستاد ہونا قابلِ شرم ہے؟

اپریل 29, 2026

درس وفا

جنوری 18, 2025

شیر خوار

مارچ 25, 2025

کیا عورت سائیکو ہے؟

اپریل 28, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

جنوری 2, 2020

پہاڑی کھیت میں!

مئی 20, 2020

تنہائی، فطرت اور خود شناسی

دسمبر 1, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں