376
بسلسلہ یوم اقبال ایک تطمین بر شعر خورشید
اے مری قوم کو اک خواب دکھانے والے
اے مرے دیس کو امکان بنانے والے
تیرے افکار سے عاری ہے یہاں کا منظر
دست خوددار سے عاری ہے یہاں کا پیکر
ہےجدا دین سیاست سے یہاں کی یکسر
رہبرِ دیں ہے یہاں کذب وریا کا خو گر
سرحدیں اس کی ہیں پامال نگر ہیں تاریک
منزلیں دور ہوئیں اور سفر ہیں تاریک
سینکڑوں ذہن مگر سوچ ٹھکانے پہ نہیں
سینکڑوں تیر مگر ایک نشانے پہ نہیں
میں کہ بد بخت ترے دور میں پیدا نہ ہوا
تو وہ خوش بخت کہ تو میرے زمانے میں نہیں
صدیق صائب

1 تبصرہ
میں کہ بد بخت ترے دور میں پیدا نہ ہوا
تو وہ خوش بخت کہ تو میرے زمانے میں نہیں
کیا کہنے واااااہ
بہترین کلام