خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباجنس اور شادی کی نفسیات
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزسید محمد زاہد

جنس اور شادی کی نفسیات

ڈاکٹر خالد سہیل کے نام ایک کھلا خط

از سائیٹ ایڈمن اپریل 16, 2020
از سائیٹ ایڈمن اپریل 16, 2020 0 تبصرے 383 مناظر
384

محترم خالد سہیل
السلام علیکم،

میرا آپ کا تعارف صرف ’ہم سب‘ کی وساطت سے ہے۔ میرے اور آپ کے استاد محترم وجاہت مسعود کا کہنا ہے ”ہم عصر کی تعریف ذرا مشکل ہوتی ہے۔ چشمک کا پہلو موجود نہیں ہو تب بھی خود آرائی آڑے آتی ہے“۔ لیکن میں چوں کہ آپ کا ایک لحاظ سے ہم عصر نہیں بلکہ بہت چھوٹا ہوں (عمر نہیں قد، اور قد بھی جسمانی نہیں بلکہ ادبی قد) اس لئے مجھے یہ کہنا بہت مناسب لگتا ہے کہ آپ جو لکھ رہے ہیں، اس کی تعریف کیے بنا چارہ نہیں۔ آپ کا گزشتہ کالم ”کیا آپ جنسیات کی نفسیات سے واقف ہیں“؟ پڑھا۔ آپ جنسیات پر کھل کر لکھتے ہیں اور نفسیات کے ڈاکٹر ہیں۔ دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ آپ یہ ساتھ خوب نباہ رہے ہیں اور اگر دامن اٹھاتے ہیں تو چولی بھی اتار دیتے ہیں۔ یہی اس موضوع کا تقاضا ہے کہ تمام پردے ہٹا دیے جائیں تا کہ انسان اپنی زندگی کی اس بنیادی ضرورت سے صحیح طریقے سے اور پورا پورا لطف اندوز ہو سکے۔

گھنڈ حسن دی آب چھپا لیندا، لمے گھنڈ والی رڑے ماریے نی
(رڑے، سخت زمین۔ لمے، لمبے )

میرے ذہن میں اس موضوع پر بہت سے سوالا ت ابھر تے ہیں۔ معذرت خواہ ہوں، کہ سوال تو چھوٹے ہی ہیں لیکن اپنے سوالات کو واضح کرنے کے لئے پہلے کچھ مثالیں دوں گا۔

جنسی خواہش ہر انسان کی سوچ، جذبا ت اور اس کے رویوں کے پیچھے پائی جانے والی مرکزی قوت ہے۔ آپ کے اس کالم کا ایک فقر ہ مستعار لینا چاہوں گا، جو میری بات کو آگے بڑھا نے میں مددگار ہو گا۔

”لوگ جب جوان ہوتے ہیں تو ان کی خواہش، ان کی آرزو اور ان کی تمنا ہوتی ہے کہ وہ شادی کریں، بچے پیدا کریں، ایک خاندان بنائیں اور افزائش نسل کا سلسلہ جاری رکھیں“۔ یہ تو ہو گئی شادی کی ایک وجہ، آگے چل کر آپ لکھتے ہیں کہ ”تخلیقی لوگ اپنی جنسی خواہشات کا غیر روایتی اظہار کرتے ہیں۔ چاہیں تو کئی لوگوں سے بیک وقت تعلق قائم کر لیتے ہیں، نا چاہیں تو مدتوں کسی ایک سے بھی تعلق قائم نہیں کرتے۔ اور جب رومانی تعلق قائم کریں، تو اس کا مقصد لازمی نہیں کہ شادی کرنا اور بچے پیدا کرنا ہو“۔

بہت واضح ہو گیا کہ جنس کا اکلوتا مقصد بچے پیدا کرنا ہی نہیں ہے۔ میرا سوال صرف شادی کے ذریعے جنسی خواہش کی تکمیل کے متعلق ہے۔ بیک وقت ایک یا ایک سے زائد کے ساتھ جنسی تعلق سے ہے۔

اگر ہم پرانی تہذیبوں کو دیکھیں تو ان کام یاب ادوار میں ایک ہی وقت میں مختلف جگہوں پر شادی کی مختلف قسمیں کام یابی سے اس معاشرہ کی ضروریات پوری کرتی نظر آتی ہیں۔ جب دنیا میں ایک سے زائد شادیوں کا رواج عام تھا، اس وقت روم کا قانون اس کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ اگرچہ اس میں بھی کنیز رکھنے کی اجازت تھی اور مالک کے ساتھ اس کانام ایسا جڑا ہوا تھا کہ اس کی قبر پر دونوں نام لکھے جا تے تھے۔ بعد میں جب روم کا مذہب تبدیل ہوا تو یہی رواج مسیحیت نے اپنا لیا۔

بہت پہلے سے لے کر آج تک ہندوؤں میں کبھی ایک سے زائد شادی کو پسند نہیں کیا گیا۔ ہند میں راجھستان سے لے کر نیپال تک اور کٹاس سے لے کر آسام تک مختلف علاقوں میں ایک ہی عورت سے تمام بھائیوں کی شادی کا رواج رہا ہے۔ نیپال میں اس قسم کی شادی آج بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ اس کی بڑی وجہ زمین کو تقسیم سے بچانا تھا یا ہے۔ کزن کے ساتھ شادی کا ایک مقصد بھی یہ رہا ہے۔ لیکن عرب جو کہ ایک قبائلی علاقہ تھا، کے کچھ علاقوں میں بھی ایسی مثالیں پائی جاتی رہی ہیں۔ جب ایک خاوند اندر لطف اندوز ہو رہا ہوتا تو وہ باہر دروازے پر اپنا خنجر گاڑ دیتا کہ اگر کسی دوسرے میں ہمت ہے تو رنگ میں بھنگ ڈالنے، اپنا انجام سوچ کر، اندر آ جائے۔

انھی معاشروں میں جہاں ایک ہی عور ت سے پانچ بھائیوں کی شادی کی مثال ملتی ہے، وہیں اسی علاقے سے تعلق رکھنے والے اکبر اعظم کے ایک رتن راجا مان سنگھ کا دعویٰ تھا کہ اس کے گھر میں بیس پنگھوڑے ہیں، جو کبھی بھی خالی نہیں ہوئے۔ مولانا محمد حسین آزاد نے لکھا ہے، ”جب وہ مرا تو اس کے ساتھ تین ہزار عورتیں ستی ہوئیں۔ یہی مردوں کی شان ہوتی ہے (مان سنگھ کی بہن مریم الزمانی اکبر کی بیوی اور اس کی بیٹی جہانگیر کی بیوی تھی) ۔

وہی راج پوت نسل کی ملکہ جو نور جہاں کی دوسری شادی کو بنیاد بنا کر ایسی باتیں کرتی، جو اسے زچ کر دیتی تھیں۔ ایک مرتبہ نور جہاں نے خوشامدانہ لہجے میں بادشاہ کو کہا، ”آپ کے منہ سے بہت پیاری خوش بو آتی ہے“۔ بادشاہ نے خوشی خوشی یہ بات ہندو رانی کو بتائی، تو اس کا جواب تھا، ”منہ کی بد بو، خوش بو کا اندازہ اس کو ہو گا، جس نے ایک سے زیادہ منہ سونگھے ہوں“۔ باپ کا فخر تین ہزار سے زائد شادیاں، اور بیٹی کا بیوگی کے بعد بھی دوسری شادی پر طنز۔

زرعی اور قبائلی علاقوں میں زیادہ شادیوں کی ایک وجہ زیادہ اولاد کی خواہش ہے۔ اتنی اولاد جو لڑائی جھگڑے میں مدد گار ہو۔ یہ خواہش پہلے بیان کی گئی خواہش سے بالکل الٹ ہے۔

اسی طرح کی مثالیں ہر دور کی تہذیبوں میں مل جاتی ہیں۔ ہوموسیپینز، سیپینز کی پیدائش افریقہ میں ہوئی اور لاکھوں سال تک وہ اسی علاقہ میں رہا۔ آج بھی جسمانی لحاظ سے سب سے بہترین انسان اسی علاقے کے ہیں۔ افریقہ میں شادیوں کے بہت عجیب و غریب رواج پائے جاتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے ملک ملاوی میں ہر کنواری لڑکی کو شادی سے پہلے ایک ’ہائینہ‘ مرد سے قربت کرنی پڑتی ہے اور ہر عورت کو طلاق، بیوگی، بچے کی پیدائش اور ابارشن کے بعد اسی کے پاس جاکر ’حلالہ‘ کروانا پڑتا ہے۔ اور اس کام کا اسے معاوضہ بھی دینا پڑتا ہے۔

انسانوں کے رویوں کو سمجھنے کے لئے عام طور پر جانوروں کی زندگی کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ ان کے خاندانی نظام میں بھی اسی طرح کے مختلف جنسی میلان پائے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب خط طویل ہو رہا ہے۔ مزید مثالیں دینے کی بجائے، اب میں اصل سوالوں کی طرف آؤں گا۔ پو چھنا یہ ہے کہ انسانی معاشروں میں شادیوں کی اتنی مختلف اقسام کی موجودی میں شادی کی کون سی قسم، انسان کی جنسی نفسیا ت سے مطابقت رکھتی ہے؟

شادی کا زیادہ تعلق کہیں اس معاشرہ کی معاشیات سے تو نہیں؟ اگر یہی وجہ ہے تو کیا انسانی نفسیات کا اس میں پھر بھی کوئی کردار موجود ہے؟ کیا ایسی شادیاں انسان کے حیوانی جذبہ کو پورا کرنے کے ساتھ اس میں تخلیقی صلاحیتوں کو بھی اجاگر کرنے میں مدد دیتی ہیں؟

انسانی نفسیات کے ساتھ ساتھ ان سوالات کے سماجی اور معاشی پہلو بھی ہیں۔ اس لئے میں نے آپ کے نام یہ خط ’ہم سب‘ کی معرفت بھیجا ہے، کیوں کہ اس فورم پر ایسے ماہرین موجود ہیں، جو شاید انسانی نفسیات کی یہ گرہیں کھول سکیں۔

صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے
و السلام
ڈاکٹر سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ماہِ صفر کے متعلق ایک بڑی غلط فہمی کا ازالہ
  • کچھ حیا اور کچھ محبت
  • جب اس پر پھول آئیں گے تو حیرانی بنے گی
  • عزت صحت اور محبت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ایک دعا ہریالی کی
پچھلی پوسٹ
بدلتا ہوا شاہی محلہ اور بدلتے کردار

متعلقہ پوسٹس

کیوں چلتی زمیں رکی ہوئی ہے

مئی 4, 2020

رشید حسرتؔ

نومبر 18, 2025

یہ کس نے کہا خواب سہانے نہیں آتے

نومبر 4, 2021

میری زندگی، میری کہانی

جنوری 31, 2025

لاجونتی

فروری 2, 2019

ہنسنے رونے والے اچھے لگتے ہیں

مارچ 20, 2020

مایوسی کی داستان

نومبر 28, 2024

جو بھی ایثار کر نہیں سکتا

نومبر 26, 2025

مشین گردی

نومبر 28, 2020

زمین اور انسان

اگست 8, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مری رہنما تری آنکھ ہے

مارچ 9, 2020

سولڈ آوٹ چھابا

دسمبر 10, 2019

بوڑھا تھا مگر عین جوانی میں...

نومبر 13, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں