389
کیوں چلتی زمیں رکی ہوئی ہے
کیا میرے تئیں رکی ہوئی ہے
خوابوں سے اداس ہو کے تعبیر
پلکوں کے قریں رکی ہوئی ہے
سائے کو روانہ کر دیا ہے
دیوار کہیں رکی ہوئی ہے
موسم کا لحاظ ہے ہوا کو
یونہی تو نہیں رکی ہوئی ہے
میں آتے دنوں سے جا ملا ہوں
دنیا تو وہیں رکی ہوئی ہے
عابد ملک
