469
ایسا لگتا تھا کچھ خفا سا تھا
وہ ملا تو بجھا بجھا سا تھا
لے گیا مجھ سے چھین کر تعبیر
جو مرے خواب سے شناسا تھا
پھول کِھلنے سے ڈر رہا تھا اور
دشت کے لہجے میں دلاسا تھا
بھیک مجھ کو ملی ہے اشکوں کی
وقت کے ہاتھ میں بھی کاسہ تھا
جانتا ہوں میں درد صحرا کا
جب سمندر تھا شاذؔ پیاسا تھا
شجاع شاذ
