445
صبح تک بے طلب میں جاگوں گا
آج تو بے سبب میں جاگوں گا
اس سے پہلے کہ نیند ٹوٹے مری
تیرے خوابوں سے اب میں جاگوں گا
اب میں سوتا ہوں آپ جاگتے ہیں
آپ سوئیں گے جب میں جاگوں گا
دوست آگے نکل چکے ہوں گے
نیند سے اپنی جب میں جاگوں گا
معتبر ہوں میں قافلے کے لیے
ڈٹ کے سوئیں گے سب میں جاگوں گا
زبیر قیصر
