384
عشق میں کانہا کے رادھا یوں ہی دیوانی نہ تھی
پر محبت اس کی دنیا ہی نے پہچانی نہ تھی
آج کہتی ہوں میں کھل کر جو نہیں اب تک کہا
تم سے مل کر میں نے جانا عشق نادانی نہ تھی
اگتے سورج کو ہی دنیاں جھک کے کرتی ہے سلام
بدلے تیور پہ ذرا بھی مجھ کو حیرانی نہ تھی
یوں لگے کی جام نظروں سے تری اس نے پیا
اس سے پہلے تو کبھی رت اتنی مستانی نہ تھی
کس لیے غم میں کروں بولو تو اس پہ دوستوں
تھی خبر مجھ کو جوانی لوٹ کر آنی نہ تھی
تجھ کو چاہا تجھ کو پوجا دیوتاؤں کی طرح
بے وفائی سے میں لیکن تیری انجانی نہ تھی
عیب ہی مجھ میں صدا تم کو نظر آئے فقط
خوبیوں کو پر مری تم جیوتیؔ پہچانی نہ تھی
جیوتی آزاد کھتری
