513
عمر بھر عشق کسی طور نہ کم ہو آمین
دل کو ہر روز عطا نعمت غم ہو آمین
میرے کاسے کو ہے بس چار ہی سکوں کی طلب
عشق ہو وقت ہو کاغذ ہو قلم ہو آمین
حجرۂ ذات میں یا محفل یاراں میں رہوں
فکر دنیا کی مجھے ہو بھی تو کم ہو آمین
جب میں خاموش رہوں رونق محفل ٹھہروں
اور جب بات کروں بات میں دم ہو آمین
لوگ چاہیں بھی تو ہم کو نہ جدا کر پائیں
یوں مری ذات تری ذات میں ضم ہو آمین
عشق میں ڈوب کے جو کچھ بھی لکھوں کاغذ پر
خود بخود لوح زمانہ پہ رقم ہو آمین
نہ ڈرا پائے مجھے تیرگئ دشت فراق
ہر طرف روشنئ دیدۂ نم ہو آمین
میرؔ کے صدقے مرے حرف کو درویشی ملے
دور مجھ سے ہوس دام و درم ہو آمین
میرے کانوں نے سنا ہے ترے بارے میں بہت
میری آنکھوں پہ بھی تھوڑا سا کرم ہو آمین
جب زمیں آخری حدت سے پگھلنے لگ جائے
عشق کی چھاؤں مرے سر کو بہم ہو آمین
رحمان فارس
