113
شائستگی کے واسطے اک بار چاٹ لے
میرے دہن کو آپ کی گفتار چاٹ لے
چمکیں گی ساری غزلیں تیری مثلِ کہکشاں
تو کلیات میر کے اشعار چاٹ لے
یہ جسم کیا ہو روح بھی شفایاب بل یقین
اس خاکِ کربلا کو جو بیمار چاٹ لے
بدلا ہے دور رہنا ہو زندہ تجھے اگر
دیمک نکل تو لکڑی سے دیوار چاٹ لے
ایم اے دوشی
