130
ماں کبھی چھوڑ کر نہیں جاتی
ماں کبھی چھوڑ کر نہیں جاتی
ماں سدا ساتھ ساتھ رہتی ہے
جیسے سایہ ہمارے ساتھ چلے
جس طرح دن کے ساتھ رات چلے
جیسے ہو آسماں زمین کے ساتھ
جیسے کوئی مکاں مکین کے ساتھ
ماں سدا ساتھ ساتھ رہتی ہے
جھڑکیاں دے کہ ہو خفا ہم سے
ڈانٹ دے یا کرے گلہ ہم سے
ماں کی ہر بات میں محبت ہے
ماں کی تو ذات میں محبت ہے
ماں تو ایثار ہے، شفاء بھی ہے یہ
ماں عبادت ہے اور دعا بھی ہے یہ
یہ اگر گھر میں نہ دکھائی دے
گھر نہیں وہ مکان لگتا ہے
ماں کسی کی بھی ہو سلام اسے
ماں کی چادر خدا کی رحمت ہے
ماں کے قدموں تلے تو جنت ہے
کوئی ماں سے مجھے جدا نہ کرے
یہ جدا ہو کبھی، خدا نہ کرے
ماں کبھی چھوڑ کر نہیں جاتی
ماں سدا ساتھ ساتھ رہتی ہے۔۔۔۔۔
فاخرہ بتول نقوی
