966
ہو جائے گا جس کو بھی دیدار محمد کا
فردوس میں جائے گا بیمار محمد کا
جو نام فقط لے گا اک بار محمد کا
بھرے گا وہ دامن میں سب پیار محمد کا
جنت کی ہواؤں کی سانسوں میں مہک ہو گی
جس دِل میں بسا ہو گا گلزار محمد کا
پڑھتا ہے مسلسل جو ہر روز درُود اُن پر
ہوتا ہے فدا اُس پر گھر بار محمد کا
دُنیا بھی اُسی کی ہے عُقبیٰ بھی اُسی کا ہے
جس دِل کو لگا ہو گا ازار محمد کا
رستہ بھی نہ بھٹکے گا منزل پہ بھی پہنچے گا
ہو جس کی نگاہوں میں کردار محمد کا
تھا قیصر و کسریٰ کے دربار سے بھی اعلی
لگتا تھا جو حجرے میں دربار محمد کا
