خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےباتیں کریں 
اردو افسانےاردو تحاریرمریم تسلیم کیانی

باتیں کریں 

مریم تسلیم کیانی کا ایک افسانہ

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 24, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 24, 2019 0 تبصرے 353 مناظر
354

باتیں کریں 

نیاز صدیقی برما ٹیک کی سوتی رسی سے بنی کُرسی ہی پر بیٹھ کر لکھا کرتا تھا۔ یہ وُہی کُرسی تھی جو اس ماں نے پہلی بار اپنے ہاتھوں سے کسی تھی، ماں کے گزرجانے کے بعد اس کی بیوی نے بہت چاہا کہ وہ کرسی کباڑیئے کوبیچ دی جائے ۔ مگر اس کو کرسی پر ٹیک لگا کر بیٹھ کے لکھنے کی عادت تھی ۔۔ کرسی کی بنائی ڈھیلی ہوجانے کے بعد اس کوتین مرتبہ بنوائی والے سے کسوایا گیا اور دو بار اس کی سوتی رسی بھی تبدیل کروائی مگر اس کی سال ہا سال سے مرمت کے باوجود کباڑیئے کی نذر نہ کرنے دی ۔یہ الگ بات ہے کہ اپنی کمر کے آرام کی خاطر نیاز صدیقی نے ملائم روئی کے بڑے بڑے دوکشن بنوالیے تھے ۔
نیاز صدیقی دیکھنے میں تو اب بھی جوان لگتا تھا لیکن جانے کیا وجہ تھی کہ وہ اپنے تین رازدار دوستوں سے ٹائم بڑھانے کی دوا پوچھ چکا تھا ۔ ایک دوست نے اسے ہومیو پیتھی کی دوائی اور ایک نے جڑی بوٹی بتائی تھی اور ایک نے مذاق میں چھیڑا کہ بھائی اب شادی کے بیس سال کے بعد ویاگرا کی کیا ضرورت پڑ گئی!!
کچھ سال پہلے تک اس کی اسٹڈی ٹیبل پر صرف کاغذاور قلم ہوتے تھے اور سامنے دیوار پر کتابوں سے ریک بھرا ہوتا تھا ۔ جن میں ، میر، درد ،مومن ، غالب ،ناصر کاظمی ، مصطفی زیدی ، حالی ، اقبال وغیرہ کے دیوان ، شہاب نامہ ، علی پور کا ایلی، اشفاق احمد کے زاویے کا سیٹ ، کرشن چندر ،پریم چند کے چھوٹے سائز کی جلد میں بہترین افسانے اور ناولز ، آگ کا دریا ، اداس نسلیں ، منٹو کے افسانے ، عصمت چغتائی کی ٹیرھی لکیر اور اردولغات جیسی مشہور کتب کے علاوہ باقی تمام کتابیں اسے تحفتآ ملی تھیں ۔۔جب سے وہ اپنے نئے لکھنے والے دوستوں کی تعریف میں مضامین لکھنے لگا تھا ، اس وقت سے وہ اپنے حلقےمیں ” نقاد ” مشہور ہوگیا تھا ۔ تعریفی مضامین کی لالچ میں لوگ اسے اپنی کتابیں بصد شوق بھیجا کرتے تھے ۔
اپنے چھوٹے شہر کےمخصوص ادبی حلقے میں اس کی بہت عزت تھی ۔۔ وہ اپنے دوستوں کی ادبی لابی کا جانا پہچانا اور مانا ہوا بڑا ادیب تھا ۔ ایک ادیب دوست کے”خالص ادبی رسالے” میں تواتر سے چھپتا تھا ۔ اس کی تحریرکے لیے رسالے کا مدیربار بار اسے یاد دہانی کرواتا ، وہ پیغامات پر بظاہر اچھنبے کا اظہار کرتا ، پیار اور محبت ، دعا و شفقت کے جوابی پیغامات دیتا پھر ہمیشہ کی طرح اپنی نئی نویلی تحریر اس کے حوالے کردیتا تھا ۔
کئی برسوں سے اس کی روٹین تھی کہ وہ رات سونے سے قبل لکھا کرتا تھا ۔ جب سے اس کی پرانی میز پر نیا لیپ ٹاپ آ گیا تھا تب سے فراغت کے یہ لمحات اسے رنگین لگنے لگے تھے ۔۔۔
اسے یہ دیکھ کے بہت حیرت ہوتی کہ اس جدید دور میں اس سے بھی پرانے لکھنے والے اور اس کے ہم عصر سوشل میڈیا پربہت زیادہ ایکٹیودکھائی دیتے ہیں ۔ اسے آئے دن، اردوشاعری یا اردو افسانے کے کسی نہ کسی گروپ میں ایڈ کر لیا جاتا تھا ۔ جہاں اس کے نت نئے ” فیس بک دوست “بنتے رہتے تھے ۔
سوشل میڈیا پر آجانے کے بعد اس کا ادبی حلقہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جارہا ہے ۔ اس کی دلی تمنا تھی کہ وہ اردو کی ادبی دنیا میں مشہور ہوجائے اور سوشل میڈیا نے اس کا کام آسان کردیا تھا ، یہاں لوگ اس کے مضامین اور افسانے پڑھ کےاس کی عزت وتکریم میں زمین وآسمان کے قلابے ملانے لگے تھے ۔ وہ اور بھی جانفشانی سے افسانے اور مضامین لکھنے لگا تھا ۔
وہ دنیا کی مشہور کتابوں کے حوالے ،مشہور فلاسفر کے اقتباسات واقوال اور تنقید کی مشکل اصلاحات سے نئے لکھنے والوں کے افسانوں پر افسانے کی تکنیک کے بارے میں ایسی رائے دیتا کہ ادب کے باغیچے کی نوخیز قلم کار کلیاں اس سے متاثر ہو جاتی تھیں ۔ اکثر لڑکیاں اس کے ساتھ ان بکس میں بات چیت شروع کردیتی پھراس کے ساتھ دوستی کی لہر میں بہنے لگتیں ۔ وہ بھی ان کو افسانے اور تنقید کے وہ وہ زاویے سمجھاتا کہ وہ چاروں شانے چت ہوکےاس پر عاشق ہوجاتیں ۔ وہ اپنے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے جلد ہی گھل مل کے ،باتیں کر کے ان بند کلیوں کو کھول دیتا ۔ پھراپنی مطلوبہ خواہش پوری کر کے ، تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی ، کے مصداق ، آگے کسی اور بند کلی کی تلاش میں نکل جاتا ۔ اس کا یہ جذباتی و نفسیاتی سلسلہ ، دوستی کے پردےمیں دراز ہوتا جارہا تھا ۔
اب وہ رات کا بھی انتظار نہیں کرتا تھا بلکہ دفتر سے آتے ہی اپنےاسٹڈی روم میں گھس جاتا ۔ بچے بہت اداس ہوگئے تھے ۔ گھومنے پھرنے ، باپ کے ساتھ کھیل و تفریح سے بھی گئے ۔ پہلے وہ سب شام میں بیٹھ کر اپنی اپنی باتیں کرلیا کرتے تھے ۔ نیاز صدیقی اکثر ان کے ساتھ ہنسی مذاق کرتا یا کوئی اور قصہ کہانی سنا دیا کرتا تھا ۔۔۔مگر باپ کے لیپ ٹاپ اور سوشل میڈیا کی مسروفیات نے ان بچوں کی ساری تفریحی سرگرمیاں ختم کر دی تھیں ۔
نیاز صدیقی اپنی سرمستی میں ہواوٗں میں اڑ رہا تھا ،اس کے لیے اجنبی شوخ خواتین سے بات کرنے کا نشہ نیا نیا تھا اور جب وہ حسینایئں بھی اس کا حوصلہ بڑھا دیتیں تو وہ بھی ایک قدم مزید آگے بڑھ جاتا ۔ نشہ دوبالا ہو جاتا ۔ بسا اوقات موقع کی مناسبت سے وہ مستعد ہوکے اپنی فطری خواہش کی تکمیل بھی کرلیتا تھا ۔ خواتین کی رنگین باتیں اور ان کی چھیڑ چھاڑاس کے برسوں سےتھکے ہوئے اعصاب کو تقویت دیتیں اور وہ اپنے اندر کڑیل جوانوں جیسا جوش و جذبہ بیدار ہوتے دیکھ کے بھرپور مزے لیتا اورمحبت کی اس انوکھی دنیا میں پائی جانی والی ہر کیفیت کو چسکیاں بھر کے پیتا ۔۔ بہت سالوں بعد بغیر دوا لیے بیوی کے پاس جانا بھی اچھا لگنے لگا تھا ۔
بہت سے خوشگوارتجربات کے بعد سوشل میڈیا پراسےایک آدھ تلخ تجربے بھی ہوئے ۔ جن میں سب سےزیادہ دکھی اس کوایک “خاتون بی بی” نامی شاعرہ نے کیا تھا ۔ وہ ایک ہی خاتون بیک وقت اس کے ساتھ ساتھ اس کے تین مزید دوستوں کے ساتھ بھی عشق و عاشقی کی پینگیں بڑھا رہی تھی اور ان کے بعض میسجز دوسرے کو کاپی کرکے بھی دکھاتی اورمزے لیتی تھی ۔۔ وہ سب دوست چونکہ ایک ہی حمام میں ننگے تھے اس لیے بات وہیں ان بکس میں فلش آوٗٹ ہوگئی ۔۔ اس کے بعد اس نے احتیاط سے گفتگو کرنے کو ترجیح دینا شروع کر دی تھی ۔۔
پھر جب صدف نامی ایک حسین خاتون اس کو میسج کرنے لگی تھی تو اس کی ساری احتیاط دھری کی کی دھری رہ گئی ۔صدف سے باتیں کرنے کےبعد اس کی زندگی میں جیسے نئی بہار آگئی تھی ۔ وہ اپنی ڈسپلے پکچر میں ملکوتی حسن کی ملکہ دکھائی دیتی تھی ۔ وہ اسے دیکھتے ہی اپنے بے قابو ہوتے دل سے اس کے گلابی گلابی لب ورخسار پر عاشق ہو گیا ۔۔
اس نے صدف کی باتوں سے اندازہ کیا تھا کہ وہ بہت ہی بے باک عورت ہے ، نیاز کو اس پر زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی اور نہ اپنے لفظوں کی زیادہ جادوگری دکھانی پڑی ، اسے محسوس ہوگیا کہ صدف اس مڈل ایج کرائسس سے گزر رہی ہے جس عمر میں بے تابیاں ایک بار پھر جوان ہو کے جوش مارتی ہیں ، پھر ایک دن صدف نے بے باکی کی تمام حدود پار کرلیں ۔وہ پکے ہوئے آم کی طرح اس کی جھولی میں آگری تھی ، اس کی جھولی بھی کیچ کرنے کی ماہر تھی اور وہ اپنے تجربات کی بنا پر اس پکے ہوئے آم کو اچھی طرح چوس چوس کے رس نکالنا بھی جانتا تھا ۔۔۔۔۔ دوسری طرف صدف بھی کم نہ تھی ، اسے بھی مزے میں رس بھرنا اچھی طرح آتا تھا ۔۔۔۔
صدف کے ساتھ اس کا تجربہ سب سے خوشگوار ، انوکھا اور یاد گار تھا ۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ اس کی ہر جنبش کو محسوس کر کے اس کی ہر بے قراری پر حقیقی ساتھ دے رہی ہے ۔
صدف کے ہمراہ لفظی ملن کے بعد اس کی نوجوانی کے دن جیسے واپس لوٹ آئے تھے ۔اسے لگا کہ اب تک جو بھی لڑکیاں یا عورتیں اسے ملی تھیں وہ سب ایک طرف اور صدف ایک طرف تھی ۔ صدف کی ہر بات ہی نرالی تھی ، وہ وصال کے تمام مزے لینے والی زندگی سے بھرپورعورت تھی ۔
نیاز کو صدف کی عادت ہوچکی تھی ۔ وہ آن لائن آتے ہی صرف اس کے میسج دیکھتا ، اس کے جدیدیت سے بھرپوراسٹیٹس پڑھتا ، پھر اس کے دیگر دوستوں کو اس کے اسٹیٹس پرتعریفی کلمات دیکھ کے جلتا اور کڑھتا ۔ صدف ان سب کی جھوٹی تعریفوں پر نخرے دکھاتی ،اٹھلاتی اور کھلکھلاتی ۔
اسے صدف کا ہر ایرے غیرے سے فری ہوجانا بے حد کھلنے لگا تھا ۔ ایک ہی ماہ میں وہ اس کے اتنے نزدیک آچکی تھی کہ وہ اسے ہردم اپنی روح میں محسوس کرنے لگا تھا ۔۔ وہ چاہتا تھا کہ صدف صرف اسی سے بات کرے اور وہ بارہا اس خیال کا اظہار صدف سے کرتا تھا ۔ وہ حسب عادت اسے مذاق میں ٹالتی اور گھما پھرا کے اصل مدعا پر لے آتی تھی ۔۔۔
وہ محسوس کررہا تھا کہ صدف اسے کئی دن سے یکسرنظرانداز کررہی ہے ۔ آن لائن ہوتے ہوئے بھی اس کو میسج نہیں کررہی ہے ۔ اس نے بھی ضد پکڑلی تھی کہ وہ خود ہی پہل کرے گی تو وہ اسے جواب دے گا ۔
صدف کے میسج کا انتظار کرتے کرتے بہت ساری راتیں بیت گیئں ۔ وہ روز آن لائن دکھائی دیتی مگر اسے میسج نہیں کرتی تھی ۔
آخر ایک رات اس نے ہی بے تاب دل کے ہاتھوں مجبور ہو کے پہل کر دی ۔
“آو باتیں کرتے ہیں ۔” اس نے ہمیشہ کی طرح لکھا ۔ یہ جملہ ان کے وصال کا کوڈ ورڈ تھا ۔ مگر اس نے یہ میسج پڑھنے کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا بلکہ آف لائن دکھائی دی ۔
“سالی حرامزادی ۔ ۔۔ “بے اختیار اسے گالی دے کے نیاز نےتپ کے لیپ ٹاپ بند کردیا ۔
نیاز صدیقی ، صدف کے فراق میں بھرا ہوا تھا ،اس نے اپنا سارا غباراپنی بیوی پر اتار دیا ۔
صدف اگلی رات آن لائن دکھائی دی اوراس بار صدف نے میسج میں پہل کی۔” چلو باتیں کرتے ہیں ۔ ”
اسے صدف پر کئی راتوں سے غصہ آرہا تھا ۔ اس نے صدف کو کوئی جواب نہ دیا بلکہ آف لائن ہوکے بیوی کے ساتھ جا کے چمٹ گیا ۔ بیوی کو اس طرح کے جذباتی لمس سے خوشی مل رہی تھی ۔
پھراگلے دن اس نے صدف کو لکھا ۔ ” آوٗ باتیں کرتے ہیں ۔ ”
صدف نے پڑھنے کے باوجود اسے جواب نہ دیا ۔
وہ بھوکے بچوں کی طرح بیوی کی چھاتیوں سے چمٹ گیا ۔
کئی دن تک یہ ہی کھیل چلتا رہا کہ کبھی صدف کہتی ، کبھی وہ کہتا ۔ اور دونوں ہی بات کیے بنا آف لائن ہوجاتے ۔
بیوی اس کی گرم جوشی دیکھ کے چہک کےچھیڑنے لگی ۔ ” ایسا لگ رہا جیسے ابھی ہماری نئی نئی شادی ہوئی ہے ۔۔۔” وہ جھنجلا گیا ۔ اور صدف کو دل ہی دل میں گالیاں دینے لگا ۔۔
ایک دن نیاز صدیقی نے اپنی پرانی کرسی کی نئی سوتی رسی کو کسے ہوئے دیکھ کے بیوی سے کہا ۔ “اب اس کو مت کسوانا ۔ خواہ مخواہ پیسے خرچ ہوتے ہیں پرانی کرسی پر ،سوچ رہا ہوں اسے کباڑیئے کو ہی بیچ دوں ۔ ”
” ہایئں ! کیسے پیسے ۔۔ میاں اب یہ کرسی میں خود کٙسنے لگی ہوں ۔ اور پرانی چیزوں کو بیچنا نہیں چاہیئے ، ان کی مرمت کرواتے رہنا چاہیئے ۔۔۔ ”
” تم کو کیسے آیا رسی کٙسنا ؟ ”
” دنیا میں کوئی کام ناممکن بھی نہیں ہے جی ۔”
کہہ کر بیوی اپنے گھر کے کاموں میں لگ گئی ۔
نیاز صدیقی رات کو حسب عادت اسٹڈی روم میں اپنے لیپ ٹاپ پر فیس بک پر صدف کے میسج کا منتظر تھا ۔
بیڈروم میں بیوی نے ہنستے ہوئے نیاز صدیقی کو میسج کیا۔
” آوٗ باتیں کریں ۔ـ”

مریم تسلیم کیانی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • حکومت، حکمراں اور طریقۂ حکمرانی
  • گھر کی اصل طاقت
  • شہزاد نیرّ اور ”گرہ کھُلنے تک“ 
  • بے بسی اور خفت کا عالم
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ہو جائے گا جس کو بھی دیدار محمدﷺ کا
پچھلی پوسٹ
کربِ آگہی

متعلقہ پوسٹس

کتے کی زبان

مئی 25, 2024

سرخ لباس کی سرخوشی

نومبر 30, 2024

سیڑھیوں والا پُل

مارچ 20, 2020

برطانیہ – بچوں کے تحفظ کا اصل سوال

جنوری 19, 2026

شادی کی خوشیوں کا سفر

مارچ 28, 2026

ٹیلی گرام

جنوری 15, 2020

فائو جی کیمرا

مارچ 26, 2023

جان لیوا وبائیں اور مسلمان سائنسدان!

اپریل 11, 2021

مصنوعی ذہانت: انقلابِ ثانی یا پیغام ِ تباہی؟

ستمبر 15, 2023

کفن میں ایک سو ایک سال

جون 14, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہماری تباہی وپسماندگی اور اس کا...

جنوری 22, 2022

حضرت امام جعفرصادقؓ اورخلیفہ منصور

جنوری 29, 2024

سنا ہے عالم بالا میں کوئی...

جنوری 3, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں