خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےباتیں کریں 
اردو افسانےاردو تحاریرمریم تسلیم کیانی

باتیں کریں 

مریم تسلیم کیانی کا ایک افسانہ

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 24, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 24, 2019 0 تبصرے 333 مناظر
334

باتیں کریں 

نیاز صدیقی برما ٹیک کی سوتی رسی سے بنی کُرسی ہی پر بیٹھ کر لکھا کرتا تھا۔ یہ وُہی کُرسی تھی جو اس ماں نے پہلی بار اپنے ہاتھوں سے کسی تھی، ماں کے گزرجانے کے بعد اس کی بیوی نے بہت چاہا کہ وہ کرسی کباڑیئے کوبیچ دی جائے ۔ مگر اس کو کرسی پر ٹیک لگا کر بیٹھ کے لکھنے کی عادت تھی ۔۔ کرسی کی بنائی ڈھیلی ہوجانے کے بعد اس کوتین مرتبہ بنوائی والے سے کسوایا گیا اور دو بار اس کی سوتی رسی بھی تبدیل کروائی مگر اس کی سال ہا سال سے مرمت کے باوجود کباڑیئے کی نذر نہ کرنے دی ۔یہ الگ بات ہے کہ اپنی کمر کے آرام کی خاطر نیاز صدیقی نے ملائم روئی کے بڑے بڑے دوکشن بنوالیے تھے ۔
نیاز صدیقی دیکھنے میں تو اب بھی جوان لگتا تھا لیکن جانے کیا وجہ تھی کہ وہ اپنے تین رازدار دوستوں سے ٹائم بڑھانے کی دوا پوچھ چکا تھا ۔ ایک دوست نے اسے ہومیو پیتھی کی دوائی اور ایک نے جڑی بوٹی بتائی تھی اور ایک نے مذاق میں چھیڑا کہ بھائی اب شادی کے بیس سال کے بعد ویاگرا کی کیا ضرورت پڑ گئی!!
کچھ سال پہلے تک اس کی اسٹڈی ٹیبل پر صرف کاغذاور قلم ہوتے تھے اور سامنے دیوار پر کتابوں سے ریک بھرا ہوتا تھا ۔ جن میں ، میر، درد ،مومن ، غالب ،ناصر کاظمی ، مصطفی زیدی ، حالی ، اقبال وغیرہ کے دیوان ، شہاب نامہ ، علی پور کا ایلی، اشفاق احمد کے زاویے کا سیٹ ، کرشن چندر ،پریم چند کے چھوٹے سائز کی جلد میں بہترین افسانے اور ناولز ، آگ کا دریا ، اداس نسلیں ، منٹو کے افسانے ، عصمت چغتائی کی ٹیرھی لکیر اور اردولغات جیسی مشہور کتب کے علاوہ باقی تمام کتابیں اسے تحفتآ ملی تھیں ۔۔جب سے وہ اپنے نئے لکھنے والے دوستوں کی تعریف میں مضامین لکھنے لگا تھا ، اس وقت سے وہ اپنے حلقےمیں ” نقاد ” مشہور ہوگیا تھا ۔ تعریفی مضامین کی لالچ میں لوگ اسے اپنی کتابیں بصد شوق بھیجا کرتے تھے ۔
اپنے چھوٹے شہر کےمخصوص ادبی حلقے میں اس کی بہت عزت تھی ۔۔ وہ اپنے دوستوں کی ادبی لابی کا جانا پہچانا اور مانا ہوا بڑا ادیب تھا ۔ ایک ادیب دوست کے”خالص ادبی رسالے” میں تواتر سے چھپتا تھا ۔ اس کی تحریرکے لیے رسالے کا مدیربار بار اسے یاد دہانی کرواتا ، وہ پیغامات پر بظاہر اچھنبے کا اظہار کرتا ، پیار اور محبت ، دعا و شفقت کے جوابی پیغامات دیتا پھر ہمیشہ کی طرح اپنی نئی نویلی تحریر اس کے حوالے کردیتا تھا ۔
کئی برسوں سے اس کی روٹین تھی کہ وہ رات سونے سے قبل لکھا کرتا تھا ۔ جب سے اس کی پرانی میز پر نیا لیپ ٹاپ آ گیا تھا تب سے فراغت کے یہ لمحات اسے رنگین لگنے لگے تھے ۔۔۔
اسے یہ دیکھ کے بہت حیرت ہوتی کہ اس جدید دور میں اس سے بھی پرانے لکھنے والے اور اس کے ہم عصر سوشل میڈیا پربہت زیادہ ایکٹیودکھائی دیتے ہیں ۔ اسے آئے دن، اردوشاعری یا اردو افسانے کے کسی نہ کسی گروپ میں ایڈ کر لیا جاتا تھا ۔ جہاں اس کے نت نئے ” فیس بک دوست “بنتے رہتے تھے ۔
سوشل میڈیا پر آجانے کے بعد اس کا ادبی حلقہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جارہا ہے ۔ اس کی دلی تمنا تھی کہ وہ اردو کی ادبی دنیا میں مشہور ہوجائے اور سوشل میڈیا نے اس کا کام آسان کردیا تھا ، یہاں لوگ اس کے مضامین اور افسانے پڑھ کےاس کی عزت وتکریم میں زمین وآسمان کے قلابے ملانے لگے تھے ۔ وہ اور بھی جانفشانی سے افسانے اور مضامین لکھنے لگا تھا ۔
وہ دنیا کی مشہور کتابوں کے حوالے ،مشہور فلاسفر کے اقتباسات واقوال اور تنقید کی مشکل اصلاحات سے نئے لکھنے والوں کے افسانوں پر افسانے کی تکنیک کے بارے میں ایسی رائے دیتا کہ ادب کے باغیچے کی نوخیز قلم کار کلیاں اس سے متاثر ہو جاتی تھیں ۔ اکثر لڑکیاں اس کے ساتھ ان بکس میں بات چیت شروع کردیتی پھراس کے ساتھ دوستی کی لہر میں بہنے لگتیں ۔ وہ بھی ان کو افسانے اور تنقید کے وہ وہ زاویے سمجھاتا کہ وہ چاروں شانے چت ہوکےاس پر عاشق ہوجاتیں ۔ وہ اپنے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے جلد ہی گھل مل کے ،باتیں کر کے ان بند کلیوں کو کھول دیتا ۔ پھراپنی مطلوبہ خواہش پوری کر کے ، تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی ، کے مصداق ، آگے کسی اور بند کلی کی تلاش میں نکل جاتا ۔ اس کا یہ جذباتی و نفسیاتی سلسلہ ، دوستی کے پردےمیں دراز ہوتا جارہا تھا ۔
اب وہ رات کا بھی انتظار نہیں کرتا تھا بلکہ دفتر سے آتے ہی اپنےاسٹڈی روم میں گھس جاتا ۔ بچے بہت اداس ہوگئے تھے ۔ گھومنے پھرنے ، باپ کے ساتھ کھیل و تفریح سے بھی گئے ۔ پہلے وہ سب شام میں بیٹھ کر اپنی اپنی باتیں کرلیا کرتے تھے ۔ نیاز صدیقی اکثر ان کے ساتھ ہنسی مذاق کرتا یا کوئی اور قصہ کہانی سنا دیا کرتا تھا ۔۔۔مگر باپ کے لیپ ٹاپ اور سوشل میڈیا کی مسروفیات نے ان بچوں کی ساری تفریحی سرگرمیاں ختم کر دی تھیں ۔
نیاز صدیقی اپنی سرمستی میں ہواوٗں میں اڑ رہا تھا ،اس کے لیے اجنبی شوخ خواتین سے بات کرنے کا نشہ نیا نیا تھا اور جب وہ حسینایئں بھی اس کا حوصلہ بڑھا دیتیں تو وہ بھی ایک قدم مزید آگے بڑھ جاتا ۔ نشہ دوبالا ہو جاتا ۔ بسا اوقات موقع کی مناسبت سے وہ مستعد ہوکے اپنی فطری خواہش کی تکمیل بھی کرلیتا تھا ۔ خواتین کی رنگین باتیں اور ان کی چھیڑ چھاڑاس کے برسوں سےتھکے ہوئے اعصاب کو تقویت دیتیں اور وہ اپنے اندر کڑیل جوانوں جیسا جوش و جذبہ بیدار ہوتے دیکھ کے بھرپور مزے لیتا اورمحبت کی اس انوکھی دنیا میں پائی جانی والی ہر کیفیت کو چسکیاں بھر کے پیتا ۔۔ بہت سالوں بعد بغیر دوا لیے بیوی کے پاس جانا بھی اچھا لگنے لگا تھا ۔
بہت سے خوشگوارتجربات کے بعد سوشل میڈیا پراسےایک آدھ تلخ تجربے بھی ہوئے ۔ جن میں سب سےزیادہ دکھی اس کوایک “خاتون بی بی” نامی شاعرہ نے کیا تھا ۔ وہ ایک ہی خاتون بیک وقت اس کے ساتھ ساتھ اس کے تین مزید دوستوں کے ساتھ بھی عشق و عاشقی کی پینگیں بڑھا رہی تھی اور ان کے بعض میسجز دوسرے کو کاپی کرکے بھی دکھاتی اورمزے لیتی تھی ۔۔ وہ سب دوست چونکہ ایک ہی حمام میں ننگے تھے اس لیے بات وہیں ان بکس میں فلش آوٗٹ ہوگئی ۔۔ اس کے بعد اس نے احتیاط سے گفتگو کرنے کو ترجیح دینا شروع کر دی تھی ۔۔
پھر جب صدف نامی ایک حسین خاتون اس کو میسج کرنے لگی تھی تو اس کی ساری احتیاط دھری کی کی دھری رہ گئی ۔صدف سے باتیں کرنے کےبعد اس کی زندگی میں جیسے نئی بہار آگئی تھی ۔ وہ اپنی ڈسپلے پکچر میں ملکوتی حسن کی ملکہ دکھائی دیتی تھی ۔ وہ اسے دیکھتے ہی اپنے بے قابو ہوتے دل سے اس کے گلابی گلابی لب ورخسار پر عاشق ہو گیا ۔۔
اس نے صدف کی باتوں سے اندازہ کیا تھا کہ وہ بہت ہی بے باک عورت ہے ، نیاز کو اس پر زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی اور نہ اپنے لفظوں کی زیادہ جادوگری دکھانی پڑی ، اسے محسوس ہوگیا کہ صدف اس مڈل ایج کرائسس سے گزر رہی ہے جس عمر میں بے تابیاں ایک بار پھر جوان ہو کے جوش مارتی ہیں ، پھر ایک دن صدف نے بے باکی کی تمام حدود پار کرلیں ۔وہ پکے ہوئے آم کی طرح اس کی جھولی میں آگری تھی ، اس کی جھولی بھی کیچ کرنے کی ماہر تھی اور وہ اپنے تجربات کی بنا پر اس پکے ہوئے آم کو اچھی طرح چوس چوس کے رس نکالنا بھی جانتا تھا ۔۔۔۔۔ دوسری طرف صدف بھی کم نہ تھی ، اسے بھی مزے میں رس بھرنا اچھی طرح آتا تھا ۔۔۔۔
صدف کے ساتھ اس کا تجربہ سب سے خوشگوار ، انوکھا اور یاد گار تھا ۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ اس کی ہر جنبش کو محسوس کر کے اس کی ہر بے قراری پر حقیقی ساتھ دے رہی ہے ۔
صدف کے ہمراہ لفظی ملن کے بعد اس کی نوجوانی کے دن جیسے واپس لوٹ آئے تھے ۔اسے لگا کہ اب تک جو بھی لڑکیاں یا عورتیں اسے ملی تھیں وہ سب ایک طرف اور صدف ایک طرف تھی ۔ صدف کی ہر بات ہی نرالی تھی ، وہ وصال کے تمام مزے لینے والی زندگی سے بھرپورعورت تھی ۔
نیاز کو صدف کی عادت ہوچکی تھی ۔ وہ آن لائن آتے ہی صرف اس کے میسج دیکھتا ، اس کے جدیدیت سے بھرپوراسٹیٹس پڑھتا ، پھر اس کے دیگر دوستوں کو اس کے اسٹیٹس پرتعریفی کلمات دیکھ کے جلتا اور کڑھتا ۔ صدف ان سب کی جھوٹی تعریفوں پر نخرے دکھاتی ،اٹھلاتی اور کھلکھلاتی ۔
اسے صدف کا ہر ایرے غیرے سے فری ہوجانا بے حد کھلنے لگا تھا ۔ ایک ہی ماہ میں وہ اس کے اتنے نزدیک آچکی تھی کہ وہ اسے ہردم اپنی روح میں محسوس کرنے لگا تھا ۔۔ وہ چاہتا تھا کہ صدف صرف اسی سے بات کرے اور وہ بارہا اس خیال کا اظہار صدف سے کرتا تھا ۔ وہ حسب عادت اسے مذاق میں ٹالتی اور گھما پھرا کے اصل مدعا پر لے آتی تھی ۔۔۔
وہ محسوس کررہا تھا کہ صدف اسے کئی دن سے یکسرنظرانداز کررہی ہے ۔ آن لائن ہوتے ہوئے بھی اس کو میسج نہیں کررہی ہے ۔ اس نے بھی ضد پکڑلی تھی کہ وہ خود ہی پہل کرے گی تو وہ اسے جواب دے گا ۔
صدف کے میسج کا انتظار کرتے کرتے بہت ساری راتیں بیت گیئں ۔ وہ روز آن لائن دکھائی دیتی مگر اسے میسج نہیں کرتی تھی ۔
آخر ایک رات اس نے ہی بے تاب دل کے ہاتھوں مجبور ہو کے پہل کر دی ۔
“آو باتیں کرتے ہیں ۔” اس نے ہمیشہ کی طرح لکھا ۔ یہ جملہ ان کے وصال کا کوڈ ورڈ تھا ۔ مگر اس نے یہ میسج پڑھنے کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا بلکہ آف لائن دکھائی دی ۔
“سالی حرامزادی ۔ ۔۔ “بے اختیار اسے گالی دے کے نیاز نےتپ کے لیپ ٹاپ بند کردیا ۔
نیاز صدیقی ، صدف کے فراق میں بھرا ہوا تھا ،اس نے اپنا سارا غباراپنی بیوی پر اتار دیا ۔
صدف اگلی رات آن لائن دکھائی دی اوراس بار صدف نے میسج میں پہل کی۔” چلو باتیں کرتے ہیں ۔ ”
اسے صدف پر کئی راتوں سے غصہ آرہا تھا ۔ اس نے صدف کو کوئی جواب نہ دیا بلکہ آف لائن ہوکے بیوی کے ساتھ جا کے چمٹ گیا ۔ بیوی کو اس طرح کے جذباتی لمس سے خوشی مل رہی تھی ۔
پھراگلے دن اس نے صدف کو لکھا ۔ ” آوٗ باتیں کرتے ہیں ۔ ”
صدف نے پڑھنے کے باوجود اسے جواب نہ دیا ۔
وہ بھوکے بچوں کی طرح بیوی کی چھاتیوں سے چمٹ گیا ۔
کئی دن تک یہ ہی کھیل چلتا رہا کہ کبھی صدف کہتی ، کبھی وہ کہتا ۔ اور دونوں ہی بات کیے بنا آف لائن ہوجاتے ۔
بیوی اس کی گرم جوشی دیکھ کے چہک کےچھیڑنے لگی ۔ ” ایسا لگ رہا جیسے ابھی ہماری نئی نئی شادی ہوئی ہے ۔۔۔” وہ جھنجلا گیا ۔ اور صدف کو دل ہی دل میں گالیاں دینے لگا ۔۔
ایک دن نیاز صدیقی نے اپنی پرانی کرسی کی نئی سوتی رسی کو کسے ہوئے دیکھ کے بیوی سے کہا ۔ “اب اس کو مت کسوانا ۔ خواہ مخواہ پیسے خرچ ہوتے ہیں پرانی کرسی پر ،سوچ رہا ہوں اسے کباڑیئے کو ہی بیچ دوں ۔ ”
” ہایئں ! کیسے پیسے ۔۔ میاں اب یہ کرسی میں خود کٙسنے لگی ہوں ۔ اور پرانی چیزوں کو بیچنا نہیں چاہیئے ، ان کی مرمت کرواتے رہنا چاہیئے ۔۔۔ ”
” تم کو کیسے آیا رسی کٙسنا ؟ ”
” دنیا میں کوئی کام ناممکن بھی نہیں ہے جی ۔”
کہہ کر بیوی اپنے گھر کے کاموں میں لگ گئی ۔
نیاز صدیقی رات کو حسب عادت اسٹڈی روم میں اپنے لیپ ٹاپ پر فیس بک پر صدف کے میسج کا منتظر تھا ۔
بیڈروم میں بیوی نے ہنستے ہوئے نیاز صدیقی کو میسج کیا۔
” آوٗ باتیں کریں ۔ـ”

مریم تسلیم کیانی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بڑے گھر کی بیٹی
  • 25دسمبر: یومِ قائد ِاعظم
  • اللہ کو بھولنے سے لے کر اللہ سے جڑنے تک کا سفر
  • ہندوستانی فلموں کے سو سال
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ہو جائے گا جس کو بھی دیدار محمدﷺ کا
پچھلی پوسٹ
کربِ آگہی

متعلقہ پوسٹس

ماں کا دل

مئی 20, 2020

جھکی جھکی آنکھیں

جنوری 17, 2020

بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم

اکتوبر 15, 2025

ڈائری

جنوری 8, 2022

بیانیے کا زہر

فروری 3, 2026

پاک بحریہ کا کارنامہ

جنوری 22, 2026

کافی

دسمبر 7, 2019

ایک فطری جلوہ

جنوری 12, 2025

سمندر کے نام دوسرا غنائیہ

مارچ 24, 2026

خوش و خرم زندگی گزارنے کا راز

مارچ 15, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

صحت مند زندگی کے لیے مثبت...

ستمبر 28, 2025

سرخ لباس کی سرخوشی

نومبر 30, 2024

حسرت اُن غنچوں پہ

فروری 8, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں