404
ہنسنے ہنسانے پڑھنے پڑھانے کی عمر ہے
یہ عمر کب ہمارے کمانے کی عمر ہے
لے آئی چھت پہ کیوں مجھے بے وقت کی گھٹن
تیری تو خیر بام پہ آنے کی عمر ہے
تجھ سے بچھڑ کے بھی تجھے ملتا رہوں گا میں
مجھ سے طویل میرے زمانے کی عمر ہے
اولاد کی طرح ہے محبت کا مجھ پہ حق
جب تک کسی کا بوجھ اٹھانے کی عمر ہے
غربت کو کیوں نہ میں بھی شرارت کا نام دوں
دیوار و در پہ پھول بنانے کی عمر ہے
کوئی مضائقہ نہیں پیری کے عشق میں
ویسے بھی یہ ثواب کمانے کی عمر ہے
اظہر فراغ
