102
ہمارے بارے میں کیا کیا نہ کچھ کہا ہوگا
چلیں گے ساتھ تو دنیا کا سامنا ہوگا
وہ ایک شخص جو پتھر اٹھا کے دوڑا تھا
ضرور خواب کی کڑیاں ملا رہا ہوگا
ہمارے بعد اک ایسا بھی دور آئے گا
وہ اجنبی ہی رہے گا جو تیسرا ہوگا
خزاں پسند ہمیں ڈھونڈنے کو نکلے ہیں
ہمارے درد کا قصہ کہیں سنا ہوگا
جو ہر قدم پہ مرے ساتھ ساتھ رہتا تھا
ضرور کوئی نہ کوئی تو واسطا ہوگا
نہیں ہے خوف کوئی رہبروں سے آشفتہؔ
ہمارے ساتھ شکستوں کا قافلا ہوگا
آشفتہ چنگیزی
