102
اک جادوگر ہے آنکھوں کی بستی میں
تارے ٹانک رہا ہے میری چنری میں
میرے سخی نے خالی ہاتھ نہ لوٹایا
ڈھیروں دکھ باندھے ہیں میری گٹھڑی میں
کون بدن سے آگے دیکھے عورت کو
سب کی آنکھیں گروی ہیں اس نگری میں
جن کی خوشبو چھید رہی ہے آنچل کو
کیسے پھول وہ ڈال گیا ہے جھولی میں
جس نے مہر و ماہ کے کھاتے لکھنے ہوں
میں اک ذرہ کب تک اس کی گنتی میں
عشق حساب چکانا چاہا تھا ہم نے
ساری عمر سما گئی ایک کٹوتی میں
حرف زیست کو موت کی دیمک چاٹ بھی لے
کب سے ہوں محصور بدن کی گھاٹی میں
حمیدہ شاہین
