100
دکھ میں جلتے ہیں کبھی پیاس میں جلتے ہوئے ہم
ایک بچے کی طرح روز بلکتے ہوئے ہم
پھول تو پھول تھے خوشبو بھی ہماری تھی کمال
بے ثباتی کے ستم میں ہیں بکھرتے ہوئے ہم
آرزوئیں بھی بڑے کر ب لیے ہوتی ہیں
گیلی لکڑی سے اُجاغوں میں سلگتے ہوئے ہم
اپنا جیون بھی تو بچوں کی پہیلی جیسا
راکھ ہوتے کبھی تاروں سے دمکتے ہوئے ہم
ہم سے مفہومِ عبارت کا بھرم ہے قائم
تیری شہکار نگارش کے بھی نقطے ہوئے ہم
اِک ترے نا م کی تسبیح کریں گے، ملیں گے
ایک دن دشت کے اُس پا ر اُترتے ہوئے ہم
جانے کب کون سی بستی میں کہاں پھر سے ملیں!
سوچتے کب ہیں کسی روز بچھڑتے ہوئے ہم
اکرم کنجاہی
