120
دل کی آس مٹائے کون
جلتی شمع بجھائے کون
ان کی بات پہ جائے کون
جھوٹی آس لگائے کون
دو اک ہوں تو بات کریں
دنیا کو سمجھائے کون
ہم حق پر ہی سہی لیکن
ان کی راہ میں آئے کون
وہ داتا تو ہیں باقیؔ
پر دامن پھیلائے کون
باقی صدیقی
