439
ایک تیری دید کی میں پھر پیاسی رہ گئی
میرے پہلو میں پڑی کتنی اداسی رہ گئی
سارا دن کرتی رہی ھوں میں ترا ہی انتظار
شام سے پہلے ہی دیکھو میں ذار سی رہ گئی
میرے اندر کی گھٹن نے مارا ڈالا ھے مجھے
ھوش میرا گھو گیا ھے بد حواسی رہ گئی
دل کے اندر جھانکنے کا ختم ھے اب تو چلن
اب تو لوگوں میں فقط چہرہ شناسی رہ گئی
وہ بزرگوں کا ادب ھے اک پرانی داستاں
نسل_نو کے لہجے میں بس ناسپاسی رہ گئی
اس زمانے کے نئے اطوار دیکھے جابجا
جسم پر کپڑے مگر روح بے لباسی رہ گئی
سانس لینے کو بھی تحمینہ کہے کیا زندگی
زندگی کے نام پر یہ اک بلا سی رہ گئی
تہمینہ مرزا
