476
سب خواتین پر وہ مرتا ہے
جو مجھے دل سے پیار کرتا ہے
دیکھ لیتا ہے جب حسینوں کو
راستے میں ذرا ٹھہرتا ہے
روز تکتا ہے وہ پڑوسن کو
روز جیتا ہے روز مرتا ہے
وہ سمجھتا ہے نوجواں خود کو
جب بھی آئینے میں سنورتا ہے
عشق کرتا ہے وہ محلے میں
جبکہ بیوی سے گھر میں ڈرتا ہے
گھر میں کرتا ہے چغلیاں سب کی
جب بھی روکو تو وہ بپھرتا ہے
میرے سر کی قسم اٹھا کر وہ
اپنے ہر جھوٹ سے مکرتا ہے
گھر میں آئے جو کوئی ہمسائی
ترچھی نظروں سے وار کرتا ہے
راہ چلتی ہوئی حسینوں کو
دیکھتے ہی وہ آہیں بھرتا ہے
جب بھی انکل کہے کوئی لڑکی
ایک دم جان سے گزرتا ہے
منزّہ سیّد
