409
گوش بر دیوار ہے
کس قدر آزار ہے
چارہ گر ہے اِس طرف
اُس طرف بیمار ہے
تیر پیچھے سے لگے تو
دوستوں کا وار ہے
دائرہ در دائرہ
گھومتی پرکار ہے
لوٹتا کوئی نہیں
جانے کیا اس پار ہے
اس قدر اصرار ہے تو
جائیے انکار ہے
پھول جیسے ھاتھ میں
آج کل تلوار ہے
کوچہ ۶ دلدار سے
دو قدم پہ دار ہے
در بنانا چاہتا ہوں
سامنے دیوار ہے
