640
پیڑوں نے دھوپ سر پہ ہے یونہی دھری ہوئی
بیکار تجھ ہوا کو ہے سوجن چڑھی ہوئی
ممکن ہے روپ سانپ کا اک روز دھار لے
رستے میں جو پڑی ہے یہ رسی جلی ہوئی
پتھر پہ میں ہتھیلی رگڑنے کا منتظر
اور تجھ کو روشنی کی ہے عجلت پڑی ہوئی
مہنگا پڑے گا قبر سے کائی اکھاڑنا
آواز دے گی ایک محبت مری ہوئی
پگھلے گی اختیار کے جلتے چراغ سے
جبڑوں میں برف صبر کی کب سے جمی ہوئی
یوں ہے کہ خامشی کی نہ چمڑی ادھیڑ دے
یوں ہے کہ آگ شہرِ صدا میں لگی ہوئی
ارشاد اب اندھیرا کھرچتی ہے رات بھر
آنکھوں کو انتظار کی عادت پڑی ہوئی
ارشاد نیازی
