447
جس طرح رات میں سحر آثار ہے کوئی
انکار میں چھپا ہوا اقرار ہے کوئی
لہروں کے ساتھ ساتھ مچلتا ہے عکس بھی
آبِ رواں میں جسم گرفتار ہے کوئی
بکھری ہوئی ہے میری تمنا اِدھر اُدھر
اور درمیان حسرتِ اظہار ہے کوئی
وحشت ہے ناچتی کہ بگولے ہیں رقص میں
صحرا میں گونجتی ہوئی جھنکار ہے کوئی
جو کھنچتا ہے روح کو اپنی طرف مدام
اسعد حدودِ جسم کے اس پار ہے کوئی
بلال اسعد
