362
سمے کی کوکھ سے حیرت کا رنگ اترتا ہے
ہوا نگلتے ہوئے جب چراغ جلتا ہے
بھٹکتی صبح کی خوشبو طواف کرتی ہے
منڈیرِ شب سے ندامت کا پھول جھڑتا ہے
سوال کرتے لرزتا ہے دائرہ ء سکوت
صدا اکستی ہے لب پر سفر ادھڑتا ہے
بدن کٹہرے میں عجلت سے جینے والوں کا
اذیتوں کی لپک سہہ کے دم نکلتا ہے
گلوئے خشک , چھلے ہونٹ , پانیوں کی کسک
بوقتِ شام کوئی دشت سے گزرتا ہے
بچھڑنے والے , بتا , وصل کی تمنا میں
پرائے ہجر کا تُو ذائقہ سمجھتا ہے
ادھورے عکس کی حدت کے وہم سے ارشاد
حقیقتوں سے پرے آئینہ بکھرتا ہے
ارشاد نیازی
