379
خواب کا رنج پہن صبر کو حیران بھی کر
کھردری نیند مری آنکھ کا نقصان بھی کر
خامشی لب پہ سکڑ اور اندھیرے کو کھرچ
صبح کی راہ کو سناٹے کی چٹان بھی کر
خود کو آواز بنا پوروں پہ رقصاں وحشت
در و دیوار کو تھوڑا سا پریشان بھی کر
دشت میں سرخ اذیت کی تھکن سہنے تک
سبز خواہش کی لپک جسم کو ویران بھی کر
اوک میں سمٹی ہوئی پیاس کو جل جانے دے
دھوپ دھتکار , سمندر کو پشیمان بھی کر
ارشاد نیازی
