390
کب سوچتا ہوں پاؤں بھنور کرنے سے پہلے
میں پیاس کے رستے پہ سفر کرنے سے پہلے
سانسوں کے تغیر کی ہوا خرچ ہوئی ہے
تجھ سایہ ء مژگاں کو شجر کرنے سے پہلے
اک شور مچایا مری دستک نے سکڑ کر
خاموشی کی دیوار میں در کرنے سے پہلے
لب سبز پرندوں کی چہک سینچ رہے ہیں
آنکھوں کے بنے پنجرے کو گھر کرنے سے پہلے
تا عمر سفر دیکھ مرا صبر کے رتھ پر
کب , کیسے , اگر اور مگر کرنے سے پہلے
عجلت میں فنا ہوتا ہے آواز کا لہجہ
سناٹے کی خواہش پہ اثر کرنے سے پہلے
بیکار میں کیوں ماس جھڑے صبح کا ارشاد
شب خیمہ ء وحشت میں بسر کرنے سے پہلے
ارشاد نیازی
