359
کام ضروری آن پڑا ہے
رستہ بھی سنسان پڑا ہے
گھر کے اندر ہے تنہائی
باہر اک طوفان پڑا ہے
سجے ہیں رستے کس مقصد سے
کس جانب کو دھیان پڑا ہے
مجھ جیسے شاعر کی قیمت
بے قیمت دیوان پڑا ہے
یوں اپنی تہذیب بھلا کر
مشکل میں انسان پڑا ہے
تیرے بعد یہ تیرا عاصم
مدت سے ویران پڑا ہے
عاصم ممتاز
