خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےڈائرکٹر کرپلانی
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

ڈائرکٹر کرپلانی

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 15, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 15, 2020 0 تبصرے 391 مناظر
392

ڈائرکٹر کرپلانی

ڈائرکٹر کر پلانی اپنی بُلند کرداری اور خوش اطواری کی وجہ سے بمبئی کی فلم انڈسٹری میں بڑے احترام کی نظرسے دیکھا جاتا تھا۔ بعض لوگ تو حیرت کا اظہار کرتے تھے کہ ایسا نیک اور پاکباز آدمی فلم ڈائریکٹر کیوں بن گیا کیونکہ فلم کا میدان ایسا ہے جہاں جا بجا گڑھے ہوتے ہیں ان دیکھے گڑھے، بے شمار دلدلیں، جن میں آدمی ایک دفعہ پھنسا تو عمر بھر باہر نکلنے کا راستہ نہیں ملتا۔ ڈائرکٹر کرپلانی کامیاب ڈائرکٹر تھا۔ اس کا ہر فلم باکس آفس ہٹ ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ سب فلم ساز اس کی خدمات حاصل کرنے کے لیے بیتاب رہتے۔ مگر وہ لالچی نہیں تھا۔ ایک فلم بنا کر وہ دو تین مہینے کے لیے پنج گنی یا روناولہ چلا جاتا اور اپنے آئندہ فلم کی کہانی اور منظر نامے بڑے اطمینان سے تیار کرتا رہتا۔ وہ رہنے والا سندھ حیدر آباد کا تھا۔ سفید ٹول کی قمیص اور سفید زین کی پتلون کے علاوہ اور کوئی لباس نہیں پہنتا تھا۔ شام کو چھ بجے ایک بوتل بیئر کی پیتا لیکن اگر شوٹنگ رات کو ہو تو یہ بوتل اُس کے کمرے میں پڑی رہتی تھی۔ نشے کی حالت میں کام کرنا پسند نہیں کرتا تھا اس لیے کہ وہ یہ سمجھتا تھا کہ نشہ انسان کے ذہنی اعصاب کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔ فلمی دنیا میں عشق معاشقے عام ہوتے ہیں۔ آج اگر ایک ایکٹرس کسی ڈائرکٹر کے پاس ہے تو دوسرے روز وہ کسی اور ڈائرکٹر کی بغل میں ہو گی۔ وہاں سے پھسل کر وہ شاید کسی نواب یا راجہ کی گود میں چلی جائے۔ سیلو لائڈ کی یہ دنیا بڑی نرالی ہے۔ یہاں دُھوپ چھاؤں کی سی کیفیت رہتی ہے۔ جن دنوں کی میں بات کر رہا ہوں۔ ایک ہی دن میں کئی وارداتیں ہوئی۔ ایک ایکٹرس اپنے شوہر کو چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ بھاگ گئی، پتی دیو صاحب جس سے ملتے اُس کے سامنے اپنی بدقسمتی کا رونا روتے۔ ایک ڈائرکٹر نے اپنی بیوی کو زہر دے کر مار ڈالا۔ دوسرے نے محبت کی ناکامی کے صدمے کی تاب نہ لاتے ہوئے خود کشی کر لی۔ ایک ایکٹرس کے حرامی بچہ پیدا ہوا۔ ڈائرکٹر کرپلانی یوں تو اسی دنیا میں رہتا تھا مگر سب سے الگ تھلگ۔ اس کو صرف اپنے کام سے غرض تھی۔ شوٹنگ ختم کی اور اپنے خوبصورت فلیٹ میں واپس چلا آیا۔ اسے کسی ایکٹرس سے جنسی تعلقات پیدا کرنے کی کبھی خواہش ہی نہیں تھی۔ ایک مرتبہ مس۔ نے اس سے رغبت کا اظہار کیا، کرپلانی اُس کو علیحدہ کمرے میں ڈائلاگ کی ری ہرسل کرا رہا تھا کہ اس ایکٹرس نے اس سے بڑے دلبرانہ انداز میں کہا

’’کرپلانی صاحب ! آپ پر سفید کپڑے بہت پھبتے ہیں، ۔ میں بھی اب سفید ساڑھی اور سفید بلاؤز پہنا کروں گی۔ ‘‘

کرپلانی نے جس کے دماغ میں اس وقت فلمائے جانے والے سین کے ڈائلاگ گھسے ہوئے تھے اُس سے کہا

’’ہاں۔ مگر سفید چیزیں بہت جلد میلی ہو جاتی ہیں‘‘

’’تو کیا ہوا؟‘‘

’’ہوا تو کچھ بھی نہیں۔ لیکن تمھیں کم از کم چودہ پندرہ ساڑھیاں اور اسی قدربلاؤز بنوانے پڑیں گے‘‘

ایکٹرس مسکرائی

’’بنوالوں گی۔ آپ ہی لے دیں گے۔ ‘‘

کرپلانی چکرا گیا۔

’’میں۔ میں آپ کو کیوں لے کر دوں گا۔ ‘‘

ایکٹرس نے کرپلانی کی قمیض کا کالر جو کسی قدر سمٹا ہو تھا، بڑے پیار سے درست کیا

’’آپ میرے لیے سب کچھ کریں گے۔ اور میں آپ کے لیے‘‘

قریب تھا کہ وہ ایکٹرس کرپلانی کے ساتھ چمٹ جائے کہ اُس نے اُس کو پیچھے دھکیل دیا اور کہا

’’خبر دار جو تم نے ایسی بے ہودہ حرکت کی‘‘

دوسرے روز اُس نے اُس ایکٹرس کو اپنے فلم سے نکال باہر پھینکا۔ دو ہزار روپے اڈوانس لے چکی تھی۔ کرپلانی نے سیٹھ سے کہا کہ وہ روپے اُس کے حساب میں ڈال دے۔ سیٹھ نے پوچھا

’’بات کیا ہے مسٹر کرپلانی‘‘

کوئی بات نہیں ہے۔ واہیات عورت ہے میں اس کو پسند نہیں کرتا‘‘

اتفاق کی بات ہے کہ وہ ایکٹرس سیٹھ کی منظورِ نظر تھی۔ سیٹھ نے جب زور دیا کہ وہ فلم کاسٹ میں موجود رہے گی تو کرپلانی دفتر سے باہر چلا گیا اور پھر واپس نہ آیا۔ کرِپلانی کی عمر یہی پینتیس برس کے قریب ہو گی۔ خوش شکل اور نفاست پسند تھا۔ اُس نے ابھی تک شادی نہیں کی تھی۔ اپنے خوبصورت فلیٹ میں اکیلا رہتا، جہاں اُس کے دو نوکر تھے۔ باورچی اور ایک دوسرا نوکر جو گھر کی صفائی کرتا تھا، اور آرام آسائش کا خیال رکھتا تھا۔ وہ ان دونوں سے مطمئن تھا۔ اُس کی زندگی بڑی ہموار گزر رہی تھی۔ اُسے عورت سے کوئی لگاؤ نہیں تھا مگر اُس کے ہم عصر فلم ڈائرکٹروں کو سخت تعجب تھا کہ وہ عموماً رومانی فلم بناتا تھا جس میں مرد اور عورت کی پر جوش محبت کے مناظر ہوتے تھے۔ اُس کے دوست گنتی کے تھے ان میں سے ایک میں تھا جس کو وہ اپنا عزیز سمجھتا تھا۔ ایک دن میں نے اُس سے پوچھا

’’کرپ، ۔ یہ کیا بات ہے کہ تم کبھی عورت کے نزدیک نہیں گئے، پر تمہارے فلموں پر عشق و محبت کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔ تجربے کے بغیر تم ایسے مناظرکیوں کر لکھتے ہو، جس میں کیوپڈ ہوتا ہے یا اس کے تیر۔ ‘‘

یہ سُن کر وہ مسکرایا

’’آدمی تجربے کی بنا پر جو سوچے

’’وہ ٹھس ہوتا ہے۔ پر تخیل کے زور سے جو کچھ سوچے، اُس میں حسن پیدا ہوتا ہے۔ فلم سازی فریب کاری کا دوسرا نام ہے۔ جب تک تم انپے آپ کو فریب نہ دو، دوسروں کو نہیں دے سکتے‘‘

اُس کا یہ فلسفہ عجیب و غریب تھا۔ میں نے اس سے پوچھا

’’کیا تم نے تخیل میں کوئی ایسی عورت پیدا کرلی ہے جس سے تم محبت کرتے ہو۔ ‘‘

کرپلانی پھر مسکرایا

’’ایک نہیں سینکڑوں۔ ایک عورت سے میرا کام کیسے چل سکتا ہے۔ مجھے عورت سے نہیں اس کے کردار سے دلچسپی ہے۔ چنانچہ میں ایک عورت اپنے تخیل میں پیدا کرتا ہوں اور اُس کو اُلٹ پلٹ کرتا رہتا ہوں۔ ‘‘

’’اُلٹ پلٹ سے تمہارا کیا مطلب ہے‘‘

’’یار تم بڑے کم سمجھ ہو، ۔ عورت کا جسمانی ڈھانچہ تو ایک ہی قسم کا ہوتا ہے۔ پر اس کا کیریکٹر جدا گانہ ہوتا ہے۔ کبھی وہ ماں ہوتی ہے کبھی چڑیل، کبھی بہن، کبھی مردانہ صفات رکھنے والی، ۔ سو ایک عورت میں تم سو روپ دیکھ سکتے ہو۔ اور صرف اپنے تخیل کی مدد سے۔ میں نے ایک روز اُس کی غیر موجودگی میں اُس کے میز کا دراز کھولا کہ میرے پاس ماچس نہیں تھی، تو مجھے کاغذات کا ایک پلندہ نظر آیا، جو غالباً اس کے تازہ فلم کا منظر نامہ تھا۔ میں نے اُس کو اُٹھایا کہ شاید اس کے نیچے ماچس کی کوئی ڈبیا ہو۔ لیکن اس کے بجائے مجھے ایک فوٹو دکھائی دی جو ایک خوبصورت سندھی لڑکی کی تھی۔ میں اس فوٹو کو نکال کر غور سے دیکھ ہی رہا تھا کہ کرپلانی آگیا اس نے میرے ہاتھ میں فوٹو دیکھی تو دیوانہ وار آگے بڑھ کر چھین لی اور اُسے اپنی جیب میں رکھ لیا۔ میں نے اُس سے معذرت طلب کی۔

’’معاف کرنا کرپ۔ میں دیا سلائی تلاش کررہا تھا کہ یہ فوٹو مجھے نظر آئی اور میں اسے دیکھنے لگا۔ کس کی ہے؟‘‘

اُس نے یہ کہہ کر معاملہ گول کرنا چاہا

’’کسی کی ہے‘‘

میں نے پوچھا

’’آخر کس کی؟۔ اس لڑکی کا کوئی نام تو ہو گا‘‘

کرپلانی آرام کرسی پر بیٹھ گیا

’’اس کے کئی نام ہوسکتے ہیں۔ لیکن وہ رادھا تھی۔ ناموں میں کیا پڑا ہے۔ یہ وہ لڑکی ہے جس سے میں نے عرصہ ہوا محبت کی تھی۔ ‘‘

مجھے سخت حیرت ہوئی

’’تم نے؟۔ تم نے محبت کی تھی‘‘

’’کیوں؟۔ میں کیا محبت نہیں کرسکتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اب محبت کے نام ہی سے دُور بھاگتا ہوں لیکن جوانی کے دنوں میں ہر انسان کو ایسے لمحات سے دو چار ہونا پڑتا ہے جب وہ دوسری صنف میں بے پناہ کشش محسوس کرتا ہے‘‘

میں جاننا چاہتا تھا کہ کرپلانی کو اس لڑکی سے کیسے عشق ہوا

’’یہ کب کی بات ہے کرپ تم نے آج مجھے حیرت زدہ کر دیا کہ تم کسی سے عشق لڑا چکے ہو۔ تمہارے عشق کا انجام کیا ہوا‘‘

کرپلانی نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا

’’بہت افسوسناک‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’میں اس سے محبت کرتا رہا، میرا خیال تھا کہ وہ بھی مجھ میں دلچسپی لیتی ہے۔ آخر ایک دن جب میں نے اسے ٹٹولا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس کے دل میں میرے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اس نے مجھ سے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ کسی اور سے محبت کرتی ہے۔ میرا دل ٹوٹ گیا لیکن میں نے اپنے دل میں اس بت کو بھی توڑ ڈالا جس کی میں پوجا کیا کرتا تھا۔ میں نے اُس کو بے شمار بد دُعائیں دیں کہ وہ مر جائے‘‘

میں نے پوچھا

’’کیا وہ مر گئی؟‘‘

’’ہاں اُسے مرنا ہی تھا، اس لیے کہ اُس نے مجھے مار ڈالا تھا۔ اُس کو ٹائی فائڈ ہوا اور ایک مہینے کے اندر اندر چل بسی۔ ‘‘

’’تمھیں اس کی موت کا افسوس نہ ہوا؟‘‘

مجھے افسوس کیوں ہوتا۔ میری آنکھوں میں چند آنسو آئے، بہنے والے تھے کہ میں نے اُن سے کہا بے وقوفو کیوں خود کو ضائع کررہے ہو۔ اور وہ میرا کہا مان کر واپس چلے گئے جہاں سے آئے تھے۔ ‘‘

یہ کہتے ہوئے کرپلانی کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے شاید وہی جو اس کا کہا مان کر واپس چلے گئے تھے۔ میں نے سوچا کہ اب اس معاملے پر اور زیادہ گفتگو نہیں کرنی چاہیے چنانچہ میں اس سے رخصت لیے بغیر چلا گیا اس لیے کہ میرا خیال تھا کہ وہ تنہائی میں رہ کر اپنا جی ہلکا کرنا چاہتا ہے۔ دوسرے روز اُس سے ملاقات ہوئی تو وہ ٹھیک ٹھاک تھا۔ مجھے اپنے ساتھ اسٹوڈیو میں لے گیا وہاں چہک چہک کر مجھ سے اور اپنے ٹیکنیکل سٹاف سے باتیں کرتا رہا۔ یہ اس فلم کی شوٹنگ کا آخری دن تھا۔ اس کے بعد کرپلانی ایڈیٹنگ میں قریب قریب ایک ماہ تک مصروف رہا۔ ریکارڈنگ ہوئی پرنٹ تیار ہوئے، فلم ریلیز ہوا اور بہت کامیاب ثابت ہوا۔ حسبِ دستور وہ پنج گنی چلا گیا اور ڈیڑھ مہینے تک وہاں بڑی پُرسکون اور صحت افزا فضا میں اپنے آئندہ فلم کے لیے کہانی اور اُس کا منظر نامہ تیار کرتا رہا۔ اس کا ایک نئی فلم کمپنی سے کنٹریکٹ ہو چکا تھا کہانی بہت پسند کی گئی۔ اب کاسٹ چننے کا مرحلہ باقی تھا۔ سیٹھ چاہتا تھا کہ ہیروئن کے لیے کوئی نیا چہرہ لیا جائے۔ در اصل وہ پہلے ہی سے ایک خوش شکل لڑکی منتخب کر چکا تھا۔ اس کا ارادہ یہ نہیں تھا کہ اس لڑکی کو ایک دم ہیروئن بنا دے۔ پر جب اس نے کہانی سنی تو اس کی ہیروئن میں اُس کو ہو بہو اُسی لڑکی کی شکل و شباہت اور چال ڈھال نظر آئی۔ اُس نے کرپلانی سے کہا

’’میں نے ایک لڑکی کو ملازم رکھا ہے۔ آپ اسے دیکھ لیجیے۔ آپ کے فلم کے لیے بڑی مناسب ہیروئن رہے گی۔ ‘‘

کرپلانی نے کہا

’’آپ اُس کو بُلائیے میں دیکھ لُوں گا، کیمرہ اور ساؤنڈ ٹیسٹ لینے کے بعد اگر میرا اطمینان ہو گیا تو مجھے کوئی عذر نہیں ہو گا کہ اُسے ہیروئن کا رول دے دُوں۔ ‘‘

دوسرے روز صبح دس بجے کا وقت مقرر کیا گیا۔ کرپلانی کی یہ عادت تھی کہ صبح سویرے ناشتے سے فارغ ہو کر اسٹوڈیو آ جاتا اور ادھر اُدھر ٹہلتا رہتا۔ دس بجے تک وہ نئے اسٹوڈیو کی ہر چیز دیکھتا رہا ساڑھے دس بج گئے اس نے بیئر کی بوتل منگوائی مگر اسے نہ کھولا اس لیے کے اُسے یاد آگیا کہ اُسے نئے چہرے کو دیکھنا ہے۔ گیارہ بج گئے، مگر سیٹھ کا دریافت کیا ہوا نیا چہرہ نمودار نہ ہوا۔ کرپلانی اُکتا گیا اس نے اپنی کہانی کے منظر نامے کی ورق گردانی شروع کر دی اس میں کچھ ترمیم کی اس دوران میں بارہ بج گئے، وہ صوفے پر لیٹ کر سونے ہی والا تھا کہ چپڑاسی نے کہا

’’سیٹھ صاحب آپ کو سلام بولتے ہیں‘‘

کرپلانی اُٹھا۔ سیٹھ کے دفتر میں گیا جہاں ایک لڑکی بیٹھی تھی۔ اس کی پیٹھ اس کی طرف تھی۔ جب وہ سیٹھ کی کرسی کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا تو دم بخود ہو گیا۔ اس لڑکی کی شکل و صورت بالکل اس لڑکی کی سی تھی جس سے اُس نے عرصہ ہوا محبت کی تھی۔ سیٹھ باتیں کرتا رہا مگر کرپلانی کے منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکلا۔ بہر حال اُس لڑکی کو ہیروئن کے رول کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ کرپلانی اُس لڑکی کو قریب قریب ہر روز دیکھتا اور اس کا اضطراب بڑھتا جاتا۔ ایک دن اُس نے ہمت سے کام لے کر اس سے پوچھا

’’آپ کہاں کی رہنے والی ہیں‘‘

لڑکی نے جواب دیا

’’سندھ حیدر آباد کی۔ کرپلانی چکرا گیا۔

’’سندھ حیدر آباد کی؟۔ آپ کا نام؟‘‘

لڑکی نے بڑی دلفریب مسکراہٹ سے کہا

’’یشو دھرا‘‘

’’آپ کی کوئی بہن ہے؟‘‘

’’تھی۔ مگر اس کا دیہانت ہو چکا ہے‘‘

’’کیا نام تھا ان کا؟‘‘

’’رادھا ‘‘

کرپلانی نے سہ سنتے ہی اپنے دل کو پکڑ لیا اور بے ہوش ہو گیا۔ اور دوسرے روز اچانک مر گیا۔

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • انشاء کا اعظمی کو دوسرا خط
  • ڈاکٹر عامر سہیل سے مکالمہ
  • گاجر کا رس
  • سیلاب، سیاست اور بے بس انسان
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ڈارلنگ
پچھلی پوسٹ
آنندی

متعلقہ پوسٹس

قبض

جنوری 19, 2020

کشمیر – عہد بہ عہد!

مئی 5, 2023

اچھرہ واقعہ کے قابل غور پہلو

مئی 10, 2024

نئی بیوی

نومبر 2, 2019

ساحل پر لیٹی ہوئی عورت

جون 9, 2020

آپ کیسی جاب چاہتے ہیں؟

فروری 23, 2022

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

رمضان المبارک کا مہینہ

اپریل 14, 2022

لیڈی ڈیانا ،بے نظیر اور حامد میر

اپریل 23, 2014

سوہانجنا ۔ ایک کرشماتی درخت

مئی 19, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

محبت الٰہی

اکتوبر 29, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

آزاد نعتیہ نظم "حضورِ اکرم”

اکتوبر 18, 2026

امیر کون غریب کون

اکتوبر 13, 2026

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

اردو شاعری

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام...

نومبر 1, 2026

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

اکتوبر 29, 2026

میں نے سوچا ہے تمہیں

اکتوبر 29, 2026

اس شہر میں اتنا ویرانہ کیوں ہے

اکتوبر 26, 2026

اس شہر کی کہانیاں بہت ہیں

اکتوبر 26, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مردانگی

نومبر 1, 2026

دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

نومبر 1, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

اور عذاب کسے کہتے ہیں؟

اکتوبر 23, 2026

"دیا” (کالمز کا مجموعہ)

اکتوبر 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

    اکتوبر 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

عشق کینہ ور کی آگ

جنوری 12, 2020

وی آئی پی کارڈ

مئی 21, 2020

کتے

دسمبر 13, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں