خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرپہلے انڈا آیا ۔ یا مرغی
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرحافظ مظفر محسن

پہلے انڈا آیا ۔ یا مرغی

حافظ مظفر محسن کی مزاحیہ تحریر

از سائیٹ ایڈمن جنوری 13, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 13, 2020 0 تبصرے 337 مناظر
338

پہلے انڈا آیا ۔۔۔ یا مرغی

بچپن میں یہ یا اس جیسے کبھی حل نہ ہونے والے سوال دوسرے بچوں کی طرح ہم سے بھی کیے گئے ۔۔۔ شکر الحمد للہ نہ تو ہمیں کم عمری میں ایسے مشکل سوالوں کے جواب مل سکے اور نہ ہی اس پچاس سال کی عمر میں (عمر میں کمی زیادتی ۔۔۔ انسان اپنی مرضی سے جب چاہے جتنی چاہے کر سکتا ہے) ہمیں کوئی ان مشکل سوالوں کے جواب دے پایا اور نہ ہی ہماری عقل سلیم نے اس سطح تک ترقی پائی کہ ہم ایسی گتھیاں سلجھا پائے ۔۔۔
ویسے بھی ہماری کیا مجال پچاس سالہ زندگی میں ہم تو جاہل کے جاہل ہی رہے لیکن بیس دن کے اسلام آبادی دھرنے نے ہم پر یہ بات واضح کر دی کہ ’’سب ہی ہمارے جیسے ہیں‘‘؟ ۔۔۔
بچپن میں ۔۔۔ ہم لڑکپن کہہ لیں تو زیادہ بہتر ہے ہم نے بھی تین چار نہایت مدلل قسم کی گالیاں انجانے میں نکال دیں اور پھر گھر کے ہر فرد نے ہماری ’’خوب خاطر تواضع‘‘ کی اور دادا جان نے حسب دستور ہماری سر عام دوستوں و محلے داروں کے سامنے ضرورت سے کہیں زیادہ ’’عزت‘‘ کر ڈلی ہم نے سر عام اس رسوائی کی وجہ پوچھی تو دادا جان نے مدبرانہ انداز میں فرمایا ’’بیٹا سر عام بے عزتی سے اہل محلہ کو یہ بتانا مقصود تھا کہ گالی ہمارے ہاں آج بھی بُری چیز ہی سمجھی جاتی ہے اور ہم اس کو جیتے جی رائج نہیں ہونے دیں گے‘‘ ۔۔۔؟
وہ الگ بات ہے کہ ہمارے فیس بک کے دانشور آجکل اس بات پر سر جوڑے بیٹھے ہیں ’’کہ زیادہ روانی میں گالی عمران خان صاحب، شیخ رشید صاحب یا خادم حسین رضوی صاحب دیتے ہیں‘‘ لیکن مجھے فیس بک کے ان دانشوروں سے شدید اختلاف ہے کیونکہ شیخ رشید صاحب یا عمران خان صاحب نے اپنے جلسوں میں گالی نہیں دی صرف ’’بد زبانی‘‘ کی ہے جو کہ دل دکھا دینے کے لیے کافی ہے لیکن لغت میں تلاش کرنے سے اور بڑے بڑے بدزبان لوگوں سے صلح مشورہ کے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ بدزبانی بہرحال گالی کے زمرے میں نہیں آتی اور ہم گالی کو گالی اور بدزبانی کو بدزبانی ہی کہیں اور سمجھیں بھی ۔۔۔ رہی بات خادم حسین رضوی کی تو ’’سرکار‘‘ کچھ گالیوں کے موجد بھی قرار پائے ہیں حالانکہ کچھ گالیاں صاحب بصرت خادم حسین رضوی صاحب نے آدھی جاری کی ہیں حالانکہ اُن کا دل چاہتا تھا کہ وہ نئی گالی زیر زبر کے ساتھ متعارف کروایں اور سامنے بیٹھے حاضرین بھی اس ’’آس‘‘ میں سر ہلا رہے تھے کہ کاش خادم حسین رضوی صاحب پوری کی پوری گالی Deliver کر ڈالیں ۔۔۔ عوام کی فلاح کے لیے ۔۔۔ حاضرین کی شدید خواہش پر ۔۔۔ ؟؟؟!! ۔۔۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ حاضرین کی خواہش پوری نہ ہو سکی اور خادم حسین رضوی صاحب معاملہ صرف و نحو کی طرف لے گئے اور حاضرین اور فیس بک کے لاکھوں دانشوروں کو بتایا کہ میں خالی گالیاں ہی نہیں دیتا میں نے صرف و نحو بھی پڑھائی ہے اور میں جانتا ہوں زیر کہاں لگنی ہے زبر کہاں ڈالنا ہے اور ’’کس کے پیش پڑنا ہے‘‘ ؟ ۔۔۔
میں ہی نہیں استاد کمر کمانی بھی استاد محترم خادم حسین رضوی کی علمی بصیرت سے متاثر ہو چکے ہیں اور استاد کمر کمانی نے تو پاکٹ سائز ڈائری میں چپکے چپکے چوری چوری وہ گالیاں ترتیب کے ساتھ لکھنا شروع کر ڈالی ہیں جو استاد خادم حسین رضوی نے عوامی اجتماعات میں Deliver کیں اور نام بھی کمایا ’’عزت بھی‘‘ ۔۔۔؟
استاد کمر کمانی فرماتے ہیں کہ عدالت میں کوئی کیس پھنس جائے چاہے وہ گوجرانوالہ کی ہی عدالت ہو تو انسان کو وہاں اپنے جرم کے حوالے سے سزا سے بچنے کے لیے کبھی کبھار کوئی ریفرنس دینا پڑ جاتا ہے تو ایسے میں استاد خادم حسین رضوی ایسی گالیاں عوامی اجتماعات میں ’’عوام کی فلاح و بہبود کے لیے‘‘ یا یوں کہہ لیں نوجوانوں کی تفنن طبع کے لیے بار بار ۔۔۔ کئی کئی بار اپنے پر زور خطاب میں نکالتے رہے ہیں اور آخری خبریں آنے تک ایسی سادہ با معنی گالیاں نکالتے چلے جا رہے ہیں ۔۔۔
بچپن میں ہمیں سینئرز نے بتایا تھا کہ ’’دَلّا‘‘ بہت بری صفت ہے اور یہ گالی کے زمرے میں آتا ہے بلکہ اس لفظ کے عوامی سطح پر استعمال کے باعث کئی لوگ قتل ہو چکے ہیں یا قتل کر دئیے گئے لیکن سرکار استاد محترم خادم حسین رضوی صاحب بہت سے اعلیٰ ترین عہدوں پر بیٹھے لوگوں کو ’’دَلّا‘‘ کئی کئی کہہ چکے ہیں یہاں تک کہ بہت بڑے ’’علمی‘‘ عہدے پر فائز اور استاد خادم حسین رضوی سے بھی بڑے مقرر حال مقیم کینیڈا شریف جنابِ طاہر القادری صاحب کو بھی استاد محترم خادم حسین رضوی اپنی ہر تقریر میں ’’اوئے دَلّے ۔۔۔ اوئے دَلّے ۔۔۔ اوئے دَلّے‘‘ کہتے چلے جا رہے ہیں اور خوشی کی بات طاہر القادری صاحب شاید کینیڈا میں بہت زیادہ مصروف ہیں کہ اُنھیں ابھی تک اس بات کی اطلاع ملی کہ اسلام آباد کے دھرنے میں ’’اُنھیں‘‘ بار بار ’’اوئے دَلّے ۔۔۔ اوئے دَلّے ۔۔۔ اوئے دَلّے‘‘ کہہ کر اُن کی ’’عزت افزائی‘‘ کی جا رہی ہے ورنہ شاید اگر وہ بھی یہ عزت افزائی سن پڑھ لیتے تو شاید وہ استاد خادم حسین رضوی کو کوئی اس سے بڑا بھی عہدہ دے ڈالتے یا پھر مسکرا کر چپ سادھ لیتے لیکن میں طاہر القادری صاحب کے اس صبر پر اُن کو داد دیتا ہوں کہ وہ ۔۔۔؂
گالیاں کھا کے بد مزا نہ ہوا
میں لگتا ہے مذاق مذاق میں ضرورت سے کچھ زیادہ ہی ’’بکواس‘‘ کر چکا ہوں جس پر میں شرمندہ ہوں اور معذرت چاہتا ہوں اور ادب سے ساتھ جھک کر استادِ محترم خادم حسین رضوی سے ۔۔۔ ’’سوری‘‘ کرتا ہوں ۔۔۔ دنیا میں سب سے زیادہ جو لفظ استعمال ہوتا ہے وہ ہے ’’سوری‘‘ ۔۔۔ حالانکہ یہ لفظ محاورۃً استعمال ہوتا ہے عملی طور پر نہ کوئی کسی سے ’’سوری‘‘ کرتا ہے نہ ہی آج کے دور میں کوئی کسی کو ’’معاف‘‘ کرنے کی پوزیشن میں ہے ۔۔۔ کسی کا دل جلا دو، کسی کو رُلا دو ’’سوری‘‘ کر لو اور بس ۔۔۔ بوسیدہ ۔۔۔ زہر ملی دوائیاں مریضوں کو کھلا دو اور اُن کو موت کے منہ میں پہنچا دو اور پھر ’’سوری‘‘ کر لو ۔۔۔ بات ختم ۔۔۔؟!
استاد کمر کمانی کہتا ہے کہ ’’سوری‘‘ سے بھی زیادہ جو لفظ دنیا میں مستعمل ہے وہ ہے ’’حرامی‘‘ ۔۔۔ لیکن یہ لفظ زیادہ تر انگلش بولنے والے بوزن “Bastard” بولتے ہیں۔ اوسطاً ہر انگریز نے دوسرے انگریز کو زندگی میں ایک بار ضرور ’’حرامی‘‘ کہا ہو گا اور سنا ہو گا ۔۔۔ سنا ہے انگریز یہ لفظ سن کر چپ رہتے ہیں بس جواب میں ہماری معروف اداکارہ ’’میرا‘‘ کی طرح آہستہ سے کہہ ڈالتے ہیں ’’سیم ٹو یو Same to U‘‘ یہاں اُن کی ’’سیم ٹو یو‘‘ سے مراد مثبت منفی تاثر ۔۔۔ ہم اس کام میں مداخلت نہیں کر سکتے یعنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں یا دُکھ کا یہ ابھی تک ایسا معمہ ہے جو حل نہیں ہو سکا ۔۔۔
کیا گالی اپنے اصل معنوں میں استعمال ہوتی ہے یا محاورۃً ۔۔۔ اس بحث کا صدیوں سے کوئی نتیجہ نہیں نکلا سنا ہے انسان گالی اُس وقت نکالتا ہے جب اُس کے پاس دلیل ختم ہو جائے یا وہ دلیل نہ دینے کی پوزیشن میں ہو یا پھر ’’موڈ‘‘ میں ہو اور اس کیفیت میں کچھ بھی کہا جا سکتا ہے ۔۔۔
وہ پرانا لطیفہ تو آپ نے سن رکھا ہو گا ۔۔۔ جی ۔۔۔ ہاں آپ نے صحیح پہچانہ وہی طوطے والا ۔۔۔ جو گزرتے ہوئے ’’ٹام‘‘ کو روزانہ ’’حرامی‘‘ کہہ کر چھیڑتا اور جب ’’ٹام‘‘ سڑک سے پتھر اٹھا کے مارنے لگتا تو وہ ’’حرامی‘‘ ’’حرامی‘‘ کہتا اُڑ جاتا ۔۔۔ ’’ٹام‘‘ نے جب مالک سے شکایت کی تو اُس نے طوطے کو بہت بُرا بھلا کہا ۔۔۔ اگلے دن جب ’’ٹام‘‘ گزرا تو طوطا چپ رہا۔ دس قدم جا کے ’’ٹام‘‘ نے واپس مڑ کے دیکھا تو طوطا مسکرا رہا تھا ۔۔۔ ’’ٹام‘‘ نے پھر پتھر اُٹھا کے طوطے کو مارا کیو نکہ وہ سمجھ چکا تھا کہ در حقیقت طوطا کیا کہہ چکا ہے ایسے طوطوں سے اُن لوگوں کا پالا پڑتا ہے جو چھوٹی چھوٹی بات سے چڑتے ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر کے اس دور میں ایسے ’’مریضوں‘‘ کی تعداد میں کہیں زیادہ اضافہ ہو چکا ہے یقین نہ آئے تو شیشہ دیکھ لیں ۔۔۔
ویسے ہر رنگ کی روایات کی طرح ہر زبان والا اپنی زبان کی لاج رکھتا ہے اور فخر سے خوشی محسوس کرتے ہوئے گالی دینے کے لیے اپنے زبان ہی استعمال کرنا پسند کرتا ہے۔ عرب دنیا میں تیس پینتیس سال پہلے جانے والے پنجابی عرب بچوں کو پنجابی گالیاں یہ سوچ کر سکھاتے کہ یہ عرب آپس میں لڑتے ہوئے پنجابی گالیوں کا آزادانہ استعمال کریں گے اور فلاح پائیں گے یا گالی وہ دیں گے مزہ ہم پائیں گے ۔۔۔ اور پھر آپ کو پتہ ہی ہے ’’چل چھیاں چھیاں چھیاں چھیاں ۔۔۔ چل چھیاں چھیاں‘‘ لیکن اُن پاکستانیوں کو دکھ اُس وقت ہوا جب اُن عرب بچوں نے وہ ’’گالیاں‘‘ اُلٹا اُن پاکستانیوں پر ہی استعمال کرنا شروع کر ڈالیں جنہوں نے وہ گالیاں سکھائی تھیں ۔۔۔ یہاں وہ تاریخی محاورہ فٹ بیٹھتا ہے ’’لینے کے دینے پڑ گئے‘‘ ۔۔۔ ؟؟
انسان گالی کیوں دیتا ہے ۔۔۔ جی آپ نے ٹھیک فرمایا یہ اُن انگریزوں سے پوچھنا چاہیے جو ’’حرامی‘‘ کہتے نہیں تھکتے ’’حرامی‘‘ سنتے نہیں تھکتے ۔۔۔ میری مراد پھر وہی یعنی Bastard ہے ویسے کسی مصروف چینل کی میزبان کو چاہیے کہ وہ اہم ترین مسئلہ پر روشنی ڈالنے کے لیے دو گھنٹے کا لائیو (Live) پروگرام کر ڈالے ۔۔۔
استاد کمر کمانی فرماتا ہے کہ گالی صرف وہی نہیں جو پنجابی یا پشتو میں دی جائے ۔۔۔ یا ۔۔۔ لی جائے ۔۔۔ گالی تو ۔۔۔ یہ بھی ہے کہ آپ کسی دشمن کو کتا نہ کہیں ’’میر جعفر‘‘ کہہ دیں ۔۔۔ ’’میر صادق‘‘ کہہ دیں یا ۔۔۔ آپ ۔۔۔ کہہ دیں (آپ سمجھ گئے ہیں ناں) مقصد تو انسان کو ’’چوٹ‘‘ لگانا ہے ناں ۔۔۔ وہ چوٹ پنجابی / پشتو میں دی گئی گالی سے بھی لگ سکتی ہے اور ’’میر جعفر ۔۔۔ میر صادق‘‘ کہہ ڈالنے سے بھی۔ دوسری برائیوں کی طرح کچھ اور ایسی ہی برائیاں بھی ہمارے ہاں بڑی تیزی سے سرائیت کر چکی ہیں۔
میں اکثر غور کرتا ہوں کہ کیا ہم (اگر سر پر آن پڑے) بغیر گالی نکالے لڑائی مکمل کر سکتے ہیں یا کیا دنگا فساد یا لڑائی بغیر گالیوں کے پایہ تکمیل تک پہنچ سکتی ہے دل نہیں مانتا ۔۔۔ کیونکہ ۔۔۔ جب بھی ہم نے لڑائی ہوتے دیکھی ہے اندازہ ہوا کہ عام گفتگو جب گالیوں میں منتقل ہوتی ہے تو پھر گندگی سے ہٹ کر لفنگی میں چلی جاتی ہے اور معاملہ گلی سے محلے میں اور محلے سے تھانے منتقل ہو جاتا ہے وہاں کام گیا تو سمجھ سب گئے کام سے ۔۔۔
فہیم انور چغتائی نے اس ’’دنیا کے سب سے اہم ترین معاملہ‘‘ پر گفتگو کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ۔۔۔
کہ گالی کو بہت زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ ’’گالی‘‘ کے اندرونی معنی دینے والا جانتا ہے یا لینے والا ۔۔۔ ایک بندہ بیک وقت بہت سے لوگوں کو گالیاں دے سکتا ہے ۔۔۔ میں چونکہ دورِ خادم حسین رضوی میں زندہ ہوں اس لیے اثر تو پڑتا ہے کیونکہ تربیت کا عمل ہر وقت جاری رہتا ہے اور یہ استاد محترم خادم حسین رضوی کی فی البدیہہ تقریروں کا ہی اثر ہے کہ میں نے اوپر والی سطروں میں ’’گالی‘‘ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ضرورت سے زیادہ ’’لبرٹی‘‘ لے لی اور بات کو کہاں سے کہاں تک پہنچا ڈالا ۔۔۔ ’’سوری استاد جی‘‘ آپ اپنا کام جاری رکھیں میں کوشش کرتا ہوں کہ ایک عام پاکستانی کی طرح آپ کو چپکے سے سنتا جاؤں اور آپ کا سا انداز بھی اپناتا چلا جاؤں کہ میرے ارد گرد صبح و شام یہی کچھ تو ہو رہا ہے ۔۔۔؟

حافظ مظفر محسن

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جن کا پی سنگ بیتے ساون
  • کیکٹس لینڈ
  • اللہ میاں کے مہمان
  • عطر کافور
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بدلتے چہرے ۔۔۔ بدلتے حالات
پچھلی پوسٹ
ابو کھا رہے تھے ۔ امی تل رہی تھی

متعلقہ پوسٹس

آخر انسان ایسا کیوں ھوتا ھے؟

دسمبر 13, 2024

علامہ اقبال کی اُردو

اکتوبر 16, 2025

مرزا اسداللہ خاں غالبؔ ؔ

اپریل 16, 2023

کورونا اوراُم مسائل آبادی کا عفریب

جولائی 10, 2020

نثری نظم یا نثر میں شاعری

مئی 27, 2024

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اقبالِ جرم

فروری 15, 2023

آدھے چہرے

جنوری 17, 2020

کشمیر ایک ادھورا وعدہ اور زندہ جدوجہد

فروری 6, 2026

احمد عطا اللہ کی غزل گوئی

فروری 5, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

احمد عطا اللہ کی غزل گوئی

فروری 5, 2023

الگنی کی تلاش میں بھٹکتا پیار

دسمبر 23, 2021

بسکٹ،دودھ اور موٹر وے

اکتوبر 25, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں