خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرہَوا کے پَر کَترنا اب ضروری ہو گیا ہے
اردو تحاریراردو کالمزحیات عبداللہ

ہَوا کے پَر کَترنا اب ضروری ہو گیا ہے

حیات عبد اللہ کا اردو کالم

از حیات عبد اللہ جنوری 6, 2020
از حیات عبد اللہ جنوری 6, 2020 0 تبصرے 352 مناظر
353

ہَوا کے پَر کَترنا اب ضروری ہو گیا ہے
(حیات عبداللہ.. انگارے)

منظر بڑا ہی منٹھار اور دلوں کو قرار سے لاد دینے والا ہے۔دس ہزار طلبہ کا جلوس بھارتی پولیس اور فوج کی چھاتی پر مُونگ دَل کر” پاکستان زندہ باد“ کے نعرے لگا رہا ہے۔بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر میروٹ کا ایس پی، مسلمان طلبہ کو دھمکیاں دیتا ہے کہ تم پاکستان چلے جاؤ ورنہ جیل میں ڈال دوں گا۔بھارت میں” پاکستان زندہ باد“ کا نعرہ اس سے قبل بھی گذشتہ سال فروری میں گونج اٹھا تھا۔بھارت میں یہ منظر بے سبب اور بلاوجہ تو نہیں بپا ہوا بلکہ اس من موہنے منظر کے عقب میں بے شمار بھارتی کرتوت اور لچھن موجود ہیں کہ آج بھارتی گلی کوچوں وہی نعرہ گونجنے لگا ہے جو مقبوضہ کشمیر میں روز ہی گونجتا ہے۔
کس کس ظلم کا تذکرہ کیا جائے؟ کون کون سے بھارتی جرائم کا حوالہ دیا جائے؟ کہ ماہ وسال کے قرب وجوار سے لے کر کئی عشروں تک تک پھیلی وسعتوں میں ہندو استبداد کی اَن گنت کتھائیں موجود ہیں۔دہشت گردی کے بطن سے جنم لے کر وزارتِ عظمی کی کرسی پر متمکن ہونے والے مودی کے دور میں ان مظالم نے بھارتی مسلمانوں کی آنکھوں میں ایسے لہو رنگ اشک اور جسموں میں ایسے خوں چکاں زخم جھونک دیے ہیں کہ جن سے 25 کروڑ بھارتی مسلمانوں سمیت تمام اقلیتیں تلملا اٹھی ہیں۔بھارتی سیکولرازم کے ڈھول کا پول اب ان تمام لوگوں پر کُھل چکا ہے جو اس ڈھول کی بے ڈھنگی تان پر امن کا بے سُرا راگ الاپ کر بھارتی محبت میں پاگل ہوئے جا رہے تھے۔حیرت ہے کہ بھارتی سیکولرازم اپنی وضع قطع اور خدوخال میں اتنا” مضبوط“ ہے کہ چاہے سارے بھارتی مسلمانوں اور اقلیتوں کو کاٹ کر رکھ دیا جائے، اس پر خفیف سی خراش تک نہیں آتی۔اقلیتوں پر ہمہ قسم کے جبر کے باوجود یہ سیکولرازم جوں کا توں موجود رہتا ہے۔لیکن اگر کسی بھی ہندو تو کجا گائے کی شان میں بھی گستاخی کر دی جائے تو یہ سیکولرازم اتنا نازک اندام بن جاتا ہے کہ لمحوں میں ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے۔بھارتی ہجروفراق میں چند پاکستانی سیاست دان، کھلاڑی اور شوبز سے متعلقہ افراد ہی بے کل اور مضطرب رہتے ہیں۔کیا ہم یہ قصّہ ء درد بُھلا بیٹھے ہیں کہ خورشید قصوری کی کتاب کی تقریبِ رونمائی کو شیوسینا کے غنڈوں نے ڈنڈے کے زور پر روک لیا تھا اور اس کے آرگنائزر سدھندرا کلکرنی پر تشدد کر کے اس کا منہ کالا کر دیا تھا۔کیا پاکستانی کھلاڑیوں نے ہندوؤں کی آنکھ میں دہکتی وہ دشمنی کی آگ نہیں دیکھی کہ جب کرکٹ بورڈ کے باہر مودی کے پالتو شیوسینا کے شدت پسند لوگ نجم سیٹھی اور شہر یار کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ہندو اتنے اوچھے ہیں کہ گھر آئے مہمانوں کی توہین اور ہتک کر رہے تھے کہ شہریار واپس جاؤ۔شیو سینا نے پاکستانی ایمپائر علیم ڈار کو بھی بھارت اور جنوبی افریقا کے درمیان میچ کی ایمپائرنگ سے روکنے کی دھمکیاں دی تھیں۔اکتوبر 2006 میں بھی شیوسینا کے صدر اودھاؤ ٹھاکرے نے آئی سی سی چیمپئن ٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے آنے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم کو دھمکی دی تھی کی پاکستان کو میچ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پاکستانی فن کاروں کی بھارتی نظروں میں جو وقعت ہے وہ گاہے گاہے اس طرح عیاں ہوتی رہتی ہے کہ اکثر اداکار اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے ہیں۔گلوکار عاطف اسلم کو شیوسینا دھمکیاں دے چکی ہے کہ کسی بھی پاکستانی فن کار کو بھارت میں اپنے فن کا مظاہرہ نہیں کرنے دیا جائے گا۔اس سے بھی زیادہ توہین آمیز منظر دیکھنا ہے تو نئی دہلی کے قریب گڑگاؤں میں شیوسینا کو دیکھ لیجیے جہاں کچھ عرصہ قبل پاکستانی سٹیج فن کاروں کو ڈرامے سے روک دیا گیا تھا۔اُنھوں نے تھیٹر میں گُھس کر ہنگامہ آرائی کی تھی اور اداکاروں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں۔عین ڈرامے کے دوران اُنھوں نے پاکستان کے خلاف نعرے لگائے۔یہی بھارتی شدت پسند لوگ، معروف غزل گائیک غلام علی خان کو بھی دھمکیوں کے تحائف بھیج چکے ہیں کہ انھیں بھارت میں فن کا مظاہرہ نہیں کرنے دیا جائے گا۔اس سے خوف زدہ ہو کر غلام علی خان نے اپنا کنسرٹ ہی منسوخ کر دیا تھا۔
آئیے! بھارتی مظالم کے کچھ اور دل فگار مناظر دکھاؤں۔نئی دہلی میں مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے سابق رکن انجینیئر رشید پر حملہ اور اس کے منہ پر سیاہی پھینکنے کا واقعہ سب پڑھ چکے ہیں۔راشٹریہ سیوک سنگھ، بجرنگ دل، شیوسینا اور”را “ یہ ساری دہشت گرد تنظیمیں ہیں۔یہ اپنی دہشت گردی خود تسلیم بھی کرتی ہیں مگر اس کے باوجود اقوامِ متحدہ کے دل میں طوفان تو کجا، ارتعاش تک پیدا نہیں ہوتا۔بھارتی شدت پسند تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ کا ہندو دہشت گرد کُمل چوہان کھلم کھلا یہ اعتراف کر چکا ہے کہ اس نے اپنے چار ہندوؤں کے ساتھ مل کر سمجھوتا ایکسپریس میں سوٹ کیس بم رکھے تھے۔اُس نے یہ اعتراف کسی کونے کُھدرے میں چُھپ کر نہیں کیا تھا بلکہ عین عدالت کے سامنے کیا تھا اور بات صرف اس ایک سانحے کے تسلیم ورضا تک ہی محدود نہیں بلکہ اُس نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ اگر اسے دوبارہ موقع ملا تو وہ آئندہ بھی ایسا ہی کرے گا۔بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر سدھارتھ میں آٹھویں جماعت کے طالبِ علم گل زار احمد کو تعلیمی دورے پر لے جانے کے بہانے آر ایس ایس کے ٹریننگ کیمپ میں لے جایا گیا اور اسے مسلمانوں سے نفرت کی تعلیم دی جانے لگی۔اسے جبراً ہندو بنا لیا گیا تھا۔بھارتی سیکولرازم کا پھوٹتا بھانڈا ہر روز ہی دکھائی دیتا ہے مگر خبر نہیں کیوں ہمارا برسرِ اقتدار طبقہ اپنی آنکھیں مُُوند لیتا ہے۔2014 میں ہندو دہشت گرد تنظیموں نے 200 مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنا لیا تھا۔آگرہ میں راشٹریہ سیوک سنگھ اور بجرنگ دل کے شدت پسندوں نے ایک تقریب منعقد کی اور ان مسلمانوں کو ہندو مورتیوں کے پاؤں دھونے پر مجبور کیا اور ان کے ماتھے پر زبردستی ہندو نشان بھی لگا دیا گیا تھا۔بھارت کی یہ دہشت گردی واشگاف اور عیاں ہے۔اگر وہ محض اندرونی طور پر دہشت گردی کرتا تو پاکستان میں موجود بھارتی دیوانوں نے کبھی تسلیم ہی نہیں کرنا تھا کہ بھارت ہمارا دشمن ہے۔ایسی کیفیت میں یہ بہ ہر طور بھارتی دوستی کے لیے ہی نغمہ سرا ہوتے مگر اب بھارتی معاندت گھونگٹ سے منہ نکال کر چیخ رہی ہے۔بدخواہ بھارت کا انگ انگ پاکستان کی دشمنی میں پھڑک رہا ہے۔سماعتوں کے لیے انتہائی گراں گزرنے والا امن کی آشا کا ڈھول بڑے جَتنوں سے بند ہوا ہے۔مگر اسی پر اکتفا کرنا وقت کی ضرورت سے چنداں مطابقت نہیں کھاتا بلکہ شعور اور ادراک کی آنکھیں مکمل طور پر کھول کر بھارتی مظالم کو دنیا پر آشکار کرنا ہو گا۔ بھارت میں” پاکستان زندہ باد“ کے نعرے سُن کر ہمارے احبابِ بست وکشاد کی آنکھیں اب تو کُھل جانی چاہییں۔جس طرح بھارت ہمارے خلاف سرگرم ہے ہمیں کم از کم اتنا تو متحرک ضرور ہو جانا چاہیے۔
ہَوا کے پَر کَترنا اب ضروری ہو گیا ہے
مرا پرواز بھرنا اب ضروری ہو گیا ہے

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • قہقہوں کے سائے میں
  • پہلے انڈا آیا ۔ یا مرغی
  • جھکی جھکی آنکھیں
  • ہر چٹھی ایک ہی پتے پر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
حیات عبد اللہ

اگلی پوسٹ
خواہشوں کی کتاب تھے جب تھے
پچھلی پوسٹ
بحضور سرورِ کائنات ﷺ

متعلقہ پوسٹس

ماموندر کی آدم خور

نومبر 23, 2019

پاک بحریہ کا کارنامہ

جنوری 22, 2026

مرتبان

دسمبر 23, 2021

وارسا کی شرارتی دیویاں – پہلی قسط

جنوری 20, 2025

عشقیہ کہانی

جنوری 21, 2020

تصنیف وتالیف کی اہمیت

نومبر 15, 2025

مغرب میں جدیدیت کی روایت

مئی 27, 2024

آپ کیسی جاب چاہتے ہیں؟

فروری 23, 2022

دامِ محبت

جنوری 7, 2023

ایک ماں کی ڈائری سے

جنوری 26, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

خوابوں کی کشتی اور زندگی کا...

دسمبر 1, 2024

رائٹ برادران

مئی 18, 2025

پھوار کا موسم

جولائی 5, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں